جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے

جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے

کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے

کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی

بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے

اب اک ہجوم شکستہ دلاں ہے ساتھ اپنے

جنہیں کوئی نہ ملا ہم سفر ہمارے ہوئے

کسی نے غم تو کسی نے مزاج غم بخشا

سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ہوئے

بجھا کے طاق کی شمعیں نہ دیکھ تاروں کو

اسی جنوں میں تو برباد گھر ہمارے ہوئے

وہ اعتماد کہاں سے فرازؔ لائیں گے

کسی کو چھوڑ کے وہ اب اگر ہمارے ہوئے

(465) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Jo Ghair The Wo Isi Baat Par Hamare Hue In Urdu By Famous Poet Ahmad Faraz. Jo Ghair The Wo Isi Baat Par Hamare Hue is written by Ahmad Faraz. Enjoy reading Jo Ghair The Wo Isi Baat Par Hamare Hue Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Ahmad Faraz. Free Dowlonad Jo Ghair The Wo Isi Baat Par Hamare Hue by Ahmad Faraz in PDF.