وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ

ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ

میرؔ دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ

اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں

طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ

اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ

چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں

اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ

شہر کا شہر ہی ناصح ہو تو کیا کیجئے گا

ورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ

ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں

لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

جو شرف ہم کو ملا کوچۂ جاناں سے فرازؔ

سوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ

(1884) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Wahshaten BaDhti Gain Hijr Ke Aazar Ke Sath In Urdu By Famous Poet Ahmad Faraz. Wahshaten BaDhti Gain Hijr Ke Aazar Ke Sath is written by Ahmad Faraz. Enjoy reading Wahshaten BaDhti Gain Hijr Ke Aazar Ke Sath Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Ahmad Faraz. Free Dowlonad Wahshaten BaDhti Gain Hijr Ke Aazar Ke Sath by Ahmad Faraz in PDF.