پھولوں میں ایک رنگ ہے آنکھوں کے نیر کا

پھولوں میں ایک رنگ ہے آنکھوں کے نیر کا

منظر تمام تر ہے یہ فصل ضمیر کا

رشتہ وہ کیا ہوا مری آنکھوں سے نیر کا

مدت ہوئی ہے حادثہ دیکھے ضمیر کا

پانی اتر گیا تو زمیں سنگلاخ تھی

تیکھا سا ہر سوال تھا رانجھے سے ہیر کا

تیری اذاں کے ساتھ میں اٹھتا ہوں پو پھٹے

سر میں لیے ہوئے کوئی سجدہ اسیر کا

دیکھا نہ دوستوں نے عمارت کے اس طرف

پوچھا کبھی نہ حال کسی نے فقیر کا

آئینہ گر پڑا تھا مرے ہاتھ سے کبھی

پھر یاد حادثہ نہیں کوئی ضمیر کا

صحرائے جسم روح کے اندر اتر گیا

اب کیا دکھائے معجزہ انساں ضمیر کا

آنسو کی ایک بوند کو آنکھیں ترس گئیں

اس دھوپ میں جھلس گیا دوہا کبیر کا

آدھا فلک کے پاس تھا آدھا زمین پر

میں ناتمام خواب تھا بدر منیر کا

پکے حروف گرد کی صورت بکھر گئے

سینے میں گھاؤ رہ گیا کچی لکیر کا

ہوتی رہیں گی بارشیں احمدؔ وصال کی

خالی رہے گا جام ہمیشہ فقیر کا

(527) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Phulon Mein Ek Rang Hai Aaankhon Ke Nir Ka In Urdu By Famous Poet Ahmad Shanas. Phulon Mein Ek Rang Hai Aaankhon Ke Nir Ka is written by Ahmad Shanas. Enjoy reading Phulon Mein Ek Rang Hai Aaankhon Ke Nir Ka Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Ahmad Shanas. Free Dowlonad Phulon Mein Ek Rang Hai Aaankhon Ke Nir Ka by Ahmad Shanas in PDF.