گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر

ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں

یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

تو ہے محیط بیکراں میں ہوں ذرا سی آب جو

یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر

میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو

میں ہوں خزف تو تو مجھے گوہر شاہوار کر

نغمۂ نوبہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو

اس دم نیم سوز کو طائرک بہار کر

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل

آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر

(406) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Gesu-e-tabdar Ko Aur Bhi Tabdar Kar In Urdu By Famous Poet Allama Iqbal. Gesu-e-tabdar Ko Aur Bhi Tabdar Kar is written by Allama Iqbal. Enjoy reading Gesu-e-tabdar Ko Aur Bhi Tabdar Kar Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Allama Iqbal. Free Dowlonad Gesu-e-tabdar Ko Aur Bhi Tabdar Kar by Allama Iqbal in PDF.