پرندے کی فریاد

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ

وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا

آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی

اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا

لگتی ہے چوٹ دل پر آتا ہے یاد جس دم

شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا

وہ پیاری پیاری صورت وہ کامنی سی مورت

آباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانا

آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میں

ہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں

کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں

ساتھی تو ہیں وطن میں میں قید میں پڑا ہوں

آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیں

میں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں

اس قید کا الٰہی دکھڑا کسے سناؤں

ڈر ہے یہیں قفس میں میں غم سے مر نہ جاؤں

جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہے

دل غم کو کھا رہا ہے غم دل کو کھا رہا ہے

گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے

دکھتے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے

آزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والے

میں بے زباں ہوں قیدی تو چھوڑ کر دعا لے!

(479) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Parinde Ki Fariyaad In Urdu By Famous Poet Allama Iqbal. Parinde Ki Fariyaad is written by Allama Iqbal. Enjoy reading Parinde Ki Fariyaad Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Allama Iqbal. Free Dowlonad Parinde Ki Fariyaad by Allama Iqbal in PDF.