شکوۂ گردش حالات لیے پھرتا ہے

شکوۂ گردش حالات لیے پھرتا ہے

جس کو دیکھو وہ یہی بات لیے پھرتا ہے

اس نے پیکر میں نہ ڈھلنے کی قسم کھائی ہے

اور مجھے شوق ملاقات لیے پھرتا ہے

شاخچہ ٹوٹ چکا کب کا شجر سے لیکن

اب بھی کچھ سوکھے ہوئے پات لیے پھرتا ہے

سوچئے جسم ہے اب روح سے کیسے روٹھے

اپنے سائے کو بھی جو سات لیے پھرتا ہے

آسماں اپنے ارادوں میں مگن ہے لیکن

آدمی اپنے خیالات لیے پھرتا ہے

پرتو مہر سے ہے چاند کی جھلمل انورؔ

اپنے کاسے میں یہ خیرات لیے پھرتا ہے

(306) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Shikwa-e-gardish-e-haalat Liye Phirta Hai In Urdu By Famous Poet Anwar Masood. Shikwa-e-gardish-e-haalat Liye Phirta Hai is written by Anwar Masood. Enjoy reading Shikwa-e-gardish-e-haalat Liye Phirta Hai Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Anwar Masood. Free Dowlonad Shikwa-e-gardish-e-haalat Liye Phirta Hai by Anwar Masood in PDF.