میرا جنم دن

ذہن پہ اک گھٹا سی چھائی ہے

لفظوں کی انجانی بوندیں برس رہی ہیں

کوئی معنی شاید نکلیں؟

زخمی طائر میرے قلم سے لپٹ گیا

اور اس کے پہلو میں اک ننھا سا تیر ہے

تیر میں اک کاغذ بھی ہے

اب کے میرے جنم دن پر

کس نے مجھ کو یاد کیا ہے؟

میں نے کاغذ کھول کے دیکھا

کچھ بھی نہ تھا

صرف ٹوٹی ٹوٹی چند لکیریں تھیں

ایسے خط آتے رہتے ہیں

نام نہیں ہوتا جن پر

بات نہیں بنتی لیکن

بات بنے گی کیسے؟

جب پہلو میں خار لگا ہو

آنکھوں میں نم آ بھی چکا ہو

جنم جنم کے سودے میں تم

سب سے آگے نکل گئے ہو

سارے ساتھی چھوٹ گئے

غم کے چھالے پھوٹ گئے

جینے کی امید نہیں ہے

پھر بھی تم اب تک جیتے ہو

عمر تمہاری موت سے آگے نکل گئی ہے

سناٹے میں جینا کتنا مشکل ہے

خواہش کے صدمے بھی نہیں ہیں

(1766) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Mera Janam Din In Urdu By Famous Poet Baqar Mehdi. Mera Janam Din is written by Baqar Mehdi. Enjoy reading Mera Janam Din Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Baqar Mehdi. Free Dowlonad Mera Janam Din by Baqar Mehdi in PDF.