سہما ہے آسمان زمیں بھی اداس ہے

سہما ہے آسمان زمیں بھی اداس ہے

ہر گاؤں اور شہر میں خوف و ہراس ہے

اک لمحۂ سکوں بھی میسر نہیں ہمیں

تیرے بغیر اپنا ہر اک پل اداس ہے

یہ کیسی دل کشی ہے یہاں کون آ گیا

کیسی یہ روشنی سی مرے آس پاس ہے

آوارگی کا نام ہے تہذیب نو یہاں

آنکھوں میں شرم ہے نہ بدن پر لباس ہے

دنیا میں اپنی آپ مگن ہم ہیں اس طرح

اپنوں کا کچھ خیال نہ رشتوں کا پاس ہے

مسموم سی ہوائیں پتہ دے گئیں ہمیں

قاتل ہمارا کوئی یہیں آس پاس ہے

محسنؔ سنا ہے ہم نے یہ کامل فقیر سے

ہوگا خدا سے آشنا جو خود شناس ہے

(4053) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Sahma Hai Aasman Zamin Bhi Udas Hai In Urdu By Famous Poet Daood Mohsin. Sahma Hai Aasman Zamin Bhi Udas Hai is written by Daood Mohsin. Enjoy reading Sahma Hai Aasman Zamin Bhi Udas Hai Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Daood Mohsin. Free Dowlonad Sahma Hai Aasman Zamin Bhi Udas Hai by Daood Mohsin in PDF.