ہزاروں بار کہہ کر بے وفا کو با وفا میں نے

ہزاروں بار کہہ کر بے وفا کو با وفا میں نے

بتایا ہے زمانے کو وفا کا راستہ میں نے

بڑی عزت سے اہل جرم میرا نام لیتے ہیں

گنہ گاروں کو اک دن کہہ دیا تھا پارسا میں نے

تم اپنے آپ کو کچھ بھی کہو مذہب کے دیوانو

نہ دیکھا کوئی تم جیسا خدا نا آشنا میں نے

جلا کر ظلمت باطل میں حق کی مشعلیں یارو

زمانے کو بنایا ہے حقیقت آشنا میں نے

غرض دیر و حرم سے ہے نہ مطلب ہے کلیسا سے

جہاں جلوہ نظر آیا ترا سجدہ کیا میں نے

بہت ہی معتبر ہوں کیوں کہ میں راہی ہوں اے راہیؔ

قسم لے لو اگر خود کو کہا ہو رہنما میں نے

(614) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Hazaron Bar Kah Kar Bewafa Ko Ba-wafa Maine In Urdu By Famous Poet Divakar Rahi. Hazaron Bar Kah Kar Bewafa Ko Ba-wafa Maine is written by Divakar Rahi. Enjoy reading Hazaron Bar Kah Kar Bewafa Ko Ba-wafa Maine Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Divakar Rahi. Free Dowlonad Hazaron Bar Kah Kar Bewafa Ko Ba-wafa Maine by Divakar Rahi in PDF.