یہ حسرتیں بھی مری سائیاں نکالی جائیں

یہ حسرتیں بھی مری سائیاں نکالی جائیں

کہ دشت ہی کی طرف کھڑکیاں نکالی جائیں

بہار گزری قفس ہی میں ہاؤ ہو کرتے

خزاؤں میں تو مری بیڑیاں نکالی جائیں

یہ شام کافی نہیں ہے سیہ لباسی کو

شفق سے اور ذرا سرخیاں نکالی جائیں

تو بچ رہیں گی برہنہ بدن کی سوغاتیں

محبتوں سے اگر دوریاں نکالی جائیں

مرے جلائے دیوں کا بھی کچھ خیال رہے

جو اس مکاں سے کبھی کھڑکیاں نکالی جائیں

یہ کیسی ضد ہے کہ پہلے بدن سے جاں نکلے

پھر اس کے بعد سبھی سسکیاں نکالی جائیں

تو تم بھی میری طرح لڑکھڑانے لگ جاؤ

اگر تمہاری بھی بیساکھیاں نکالی جائیں

یہ خوں بہا بھی ادا کر چکی ہے خوابوں کا

تو میری آنکھ سے اب کرچیاں نکالی جائیں

نکل پڑے گا مرا سر بھی ساتھ ہی صادقؔ

جو میرے سر سے کبھی پگڑیاں نکالی جائیں

(4139) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Ye Hasraten Bhi Meri Saiyan Nikali Jaen In Urdu By Famous Poet Ehtimam Sadiq. Ye Hasraten Bhi Meri Saiyan Nikali Jaen is written by Ehtimam Sadiq. Enjoy reading Ye Hasraten Bhi Meri Saiyan Nikali Jaen Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Ehtimam Sadiq. Free Dowlonad Ye Hasraten Bhi Meri Saiyan Nikali Jaen by Ehtimam Sadiq in PDF.