شاعر لوگ

ہر اک دور میں ہر زمانے میں ہم

زہر پیتے رہے، گیت گاتے رہے

جان دیتے رہے زندگی کے لیے

ساعت وصل کی سر خوشی کے لیے

دین و دنیا کی دولت لٹاتے رہے

فقر و فاقہ کا توشہ سنبھالے ہوئے

جو بھی رستہ چنا اس پہ چلتے رہے

مال والے حقارت سے تکتے رہے

طعن کرتے رہے ہاتھ ملتے رہے

ہم نے ان پر کیا حرف حق سنگ زن

جن کی ہیبت سے دنیا لرزتی رہی

جن پہ آنسو بہانے کو کوئی نہ تھا

اپنی آنکھ ان کے غم میں برستی رہی

سب سے اوجھل ہوئے حکم حاکم پہ ہم

قید خانے سہے، تازیانے سہے

لوگ سنتے رہے ساز دل کی صدا

اپنے نغمے سلاخوں سے چھنتے رہے

خونچکاں دہر کا خونچکاں آئینہ

دکھ بھری خلق کا دکھ بھرا دل ہیں ہم

طبع شاعر ہے جنگاہ عدل و ستم

منصف خیر و شر حق و باطل ہیں ہم

(187) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Shaer Log In Urdu By Famous Poet Faiz Ahmad Faiz. Shaer Log is written by Faiz Ahmad Faiz. Enjoy reading Shaer Log Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Faiz Ahmad Faiz. Free Dowlonad Shaer Log by Faiz Ahmad Faiz in PDF.