شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی

شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی

شرط ہی اور ہے شائستۂ فن ہونے کی

میں کہ ہر دم مجھے بالیدگیٔ روح کی فکر

روح کو فکر ہے وارستۂ تن ہونے کی

رم بہ رم سلسلۂ موج غزالان خیال

دشت غربت کو بشارت ہو وطن ہونے کی

پرتو رنگ سے گلگوں ہوا معمورۂ چشم

دھوم ہے کوئے تماشا کے چمن ہونے کی

حق پرستی کو یہاں کون ہے آمادۂ دار

کس کو توفیق ہے بے گور و کفن ہونے کی

یا بچے گا نہ سحر تک کوئی درماندۂ شب

یا سحر ہی نہیں خاکم بدہن ہونے کی

درد کی سالگرہ خیر سے گزرے گوہرؔ

آ گئی رات وہی چاند گہن ہونے کی

(1147) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Shairi Baat Nahin Garm-e-suKHan Hone Ki In Urdu By Famous Poet Gauhar Hoshiyarpuri. Shairi Baat Nahin Garm-e-suKHan Hone Ki is written by Gauhar Hoshiyarpuri. Enjoy reading Shairi Baat Nahin Garm-e-suKHan Hone Ki Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Gauhar Hoshiyarpuri. Free Dowlonad Shairi Baat Nahin Garm-e-suKHan Hone Ki by Gauhar Hoshiyarpuri in PDF.