وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا

وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا

مگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہوگا

اسے تھا شوق بہت مجھ کو اچھا رکھنے کا

یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہوگا

کبھی نہ حد ادب سے بڑھے تھے دیدہ و دل

وہ مجھ سے کس لیے کسی بات پر خفا ہوگا

مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک

کسی سے بھی نہ وہ میری طرح ملا ہوگا

کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں میں وہ بھی

مرے خیال میں کچھ دیر جاگتا ہوگا

وہ اس کا سادہ و معصوم والہانہ پن

کسی بھی جگ میں کوئی دیوتا بھی کیا ہوگا

نہیں وہ آیا تو جالبؔ گلہ نہ کر اس کا

نہ جانے کیا اسے درپیش مسئلہ ہوگا

(214) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Wo Dekhne Mujhe Aana To Chahta Hoga In Urdu By Famous Poet Habib Jalib. Wo Dekhne Mujhe Aana To Chahta Hoga is written by Habib Jalib. Enjoy reading Wo Dekhne Mujhe Aana To Chahta Hoga Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Habib Jalib. Free Dowlonad Wo Dekhne Mujhe Aana To Chahta Hoga by Habib Jalib in PDF.