خدا ہمارا ہے

خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہے

اسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہے

لہو پیو گے کہاں تک ہمارا دھنوانو

بڑھاؤ اپنی دکاں سیم و زر کے دیوانو

نشاں کہیں نہ رہے گا تمہارا شیطانو

ہمیں یقیں ہے کہ انسان اس کو پیارا ہے

خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہے

اسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہے

نئے شعور کی ہے روشنی نگاہوں میں

اک آگ سی بھی ہے اب اپنی سرد آہوں میں

کھلیں گے پھول نظر کے سحر کی بانہوں میں

دکھے دلوں کو اسی آس کا سہارا ہے

خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہے

اسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہے

طلسم سایۂ خوف و ہراس توڑیں گے

قدم بڑھائیں گے زنجیر یاس توڑیں گے

کبھی کسی کے نہ ہم دل کی آس توڑیں گے

رہے گا یاد جو عہد ستم گزارا ہے

اسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہے

(846) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

KHuda Hamara Hai In Urdu By Famous Poet Habib Jalib. KHuda Hamara Hai is written by Habib Jalib. Enjoy reading KHuda Hamara Hai Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Habib Jalib. Free Dowlonad KHuda Hamara Hai by Habib Jalib in PDF.