کہاں تحریریں میں نے بانٹ دی ہیں

کہاں تحریریں میں نے بانٹ دی ہیں

ہنر تدبیریں میں نے بانٹ دی ہیں

تمہارے خواب نے تاخیر کر دی

سبھی تعبیریں میں نے بانٹ دی ہیں

لکھو گھر کے سبھی افراد میں اب

مری تقدیریں میں نے بانٹ دی ہیں

کئی غزلیں تمہارے نام لکھیں

بڑی جاگیریں میں نے بانٹ دی ہیں

سنو ان گونگے بہرے بام و در کو

کئی تقریریں میں نے بانٹ دی ہیں

مری آنکھیں جنہیں محفوظ کرتیں

وہ سب تصویریں میں نے بانٹ دی ہیں

مرے قیدی مرے الفاظ حامدؔ

سخن زنجیریں میں نے بانٹ دی ہیں

(1554) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Kahan Tahriren Maine BanT Di Hain In Urdu By Famous Poet Hamid Iqbal Siddiqui. Kahan Tahriren Maine BanT Di Hain is written by Hamid Iqbal Siddiqui. Enjoy reading Kahan Tahriren Maine BanT Di Hain Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Hamid Iqbal Siddiqui. Free Dowlonad Kahan Tahriren Maine BanT Di Hain by Hamid Iqbal Siddiqui in PDF.