الجھنیں اتنی تھیں منظر اور پس منظر کے بیچ

الجھنیں اتنی تھیں منظر اور پس منظر کے بیچ

رہ گئی ساری مسافت میل کے پتھر کے بیچ

رخ سے یہ پردہ ہٹا بے ہوش کر مجھ کو طبیب

گفتگو جتنی بھی ہو پھر زخم اور نشتر کے بیچ

اس کو کیا معلوم احوال دل شیشہ گراں

ورنہ آ جاتا کبھی تو ہاتھ اور پتھر کے بیچ

شوق سجدہ بندگی وارفتگی اور بے خودی

معتبر سب اس کی چوکھٹ اور میرے سر کے بیچ

اک قیامت حسن اس کا اور وہ بھی جلوہ گر

میں فقط مبہوت جادو اور جادوگر کے بیچ

میں بھی خودداری کا مارا تھا صفائی کچھ نہ دی

اس نے بھی مطلب نکالے لفظ اور تیور کے بیچ

وقت اور مصروفیت کے مسئلے سب اک طرف

دوریاں اتنی نہیں تھیں تاجؔ اپنے گھر کے بیچ

(703) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Uljhanen Itni Thin Manzar Aur Pas-manzar Ke Bich In Urdu By Famous Poet Husain Taj Rizvi. Uljhanen Itni Thin Manzar Aur Pas-manzar Ke Bich is written by Husain Taj Rizvi. Enjoy reading Uljhanen Itni Thin Manzar Aur Pas-manzar Ke Bich Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Husain Taj Rizvi. Free Dowlonad Uljhanen Itni Thin Manzar Aur Pas-manzar Ke Bich by Husain Taj Rizvi in PDF.