بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا

بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا

زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا

تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی

تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا

ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ

مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا

جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے

کہو کچھ استفادہ کر لیا کیا

بہت کترا رہے ہو مغبچوں سے

گناہ ترک بادہ کر لیا کیا

یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیں

سفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا

اٹھایا اک قدم تو نے نہ اس تک

بہت اپنے کو ماندہ کر لیا کیا

تم اپنی کج کلاہی ہار بیٹھیں

بدن کو بے لبادہ کر لیا کیا

بہت نزدیک آتی جا رہی ہو

بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

(825) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Bahut Dil Ko Kushada Kar Liya Kya In Urdu By Famous Poet Jaun Eliya. Bahut Dil Ko Kushada Kar Liya Kya is written by Jaun Eliya. Enjoy reading Bahut Dil Ko Kushada Kar Liya Kya Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Jaun Eliya. Free Dowlonad Bahut Dil Ko Kushada Kar Liya Kya by Jaun Eliya in PDF.