خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں

اوپر سے اتر کے تازہ دم تھا

نیچے سے اتر کے تھک گیا ہوں

اب تم بھی تو جی کے تھک رہے ہو

اب میں بھی تو مر کے تھک گیا ہوں

میں یعنی ازل کا آرمیدہ

لمحوں میں بکھر کے تھک گیا ہوں

اب جان کا میری جسم شل ہے

میں خود سے ہی ڈر کے تھک گیا ہوں

(1078) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

KHud Main Hi Guzar Ke Thak Gaya Hun In Urdu By Famous Poet Jaun Eliya. KHud Main Hi Guzar Ke Thak Gaya Hun is written by Jaun Eliya. Enjoy reading KHud Main Hi Guzar Ke Thak Gaya Hun Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Jaun Eliya. Free Dowlonad KHud Main Hi Guzar Ke Thak Gaya Hun by Jaun Eliya in PDF.