کس سے اظہار مدعا کیجے

کس سے اظہار مدعا کیجے

آپ ملتے نہیں ہیں کیا کیجے

ہو نہ پایا یہ فیصلہ اب تک

آپ کیجے تو کیا کیا کیجے

آپ تھے جس کے چارہ گر وہ جواں

سخت بیمار ہے دعا کیجے

ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے

جس سے ملیے اسے خفا کیجے

ہے تقاضا مری طبیعت کا

ہر کسی کو چراغ پا کیجے

ہے تو بارے یہ عالم اسباب

بے سبب چیخنے لگا کیجے

آج ہم کیا گلہ کریں اس سے

گلۂ تنگیٔ قبا کیجے

نطق حیوان پر گراں ہے ابھی

گفتگو کم سے کم کیا کیجے

حضرت زلف غالیہ افشاں

نام اپنا صبا صبا کیجے

زندگی کا عجب معاملہ ہے

ایک لمحے میں فیصلہ کیجے

مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی

آپ مجھ کو منا لیا کیجے

ملتے رہیے اسی تپاک کے ساتھ

بے وفائی کی انتہا کیجے

کوہ کن کو ہے خودکشی خواہش

شاہ بانو سے التجا کیجے

مجھ سے کہتی تھیں وہ شراب آنکھیں

آپ وہ زہر مت پیا کیجے

رنگ ہر رنگ میں ہے داد طلب

خون تھوکوں تو واہ وا کیجے

(1027) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Kis Se Izhaar-e-muddaa Kije In Urdu By Famous Poet Jaun Eliya. Kis Se Izhaar-e-muddaa Kije is written by Jaun Eliya. Enjoy reading Kis Se Izhaar-e-muddaa Kije Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Jaun Eliya. Free Dowlonad Kis Se Izhaar-e-muddaa Kije by Jaun Eliya in PDF.