سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے

سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے

پڑھی ہے یہ عبارت درمیاں سے

یہاں جو ہے تنفس ہی میں گم ہے

پرندے اڑ رہے ہیں شاخ جاں سے

مکان و لا مکاں کے بیچ کیا ہے

جدا جس سے مکاں ہے لا مکاں سے

دریچہ باز ہے یادوں کا اور میں

ہوا سنتا ہوں میں پیڑوں کی زباں سے

تھا اب تک معرکہ باہر کا درپیش

ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے

زمانہ تھا وہ دل کی زندگی کا

تری فرقت کے دن لاؤں کہاں سے

فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی

فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں کے

(910) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Samajh Mein Zindagi Aae Kahan Se In Urdu By Famous Poet Jaun Eliya. Samajh Mein Zindagi Aae Kahan Se is written by Jaun Eliya. Enjoy reading Samajh Mein Zindagi Aae Kahan Se Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Jaun Eliya. Free Dowlonad Samajh Mein Zindagi Aae Kahan Se by Jaun Eliya in PDF.