میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا

میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا

وہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا

برس کے کھل گئے آنسو نتھر گئی ہے فضا

چمک رہا ہے سر شام درد کا تارا

کسی کی آنکھ سے ٹپکا تھا اک امانت ہے

مری ہتھیلی پہ رکھا ہوا یہ انگارا

جو پر سمیٹے تو اک شاخ بھی نہیں پائی

کھلے تھے پر تو مرا آسمان تھا سارا

وہ سانپ چھوڑ دے ڈسنا یہ میں بھی کہتا ہوں

مگر نہ چھوڑیں گے لوگ اس کو گر نہ پھنکارا

(228) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Main Pa Saka Na Kabhi Is KHalish Se ChhuTkara In Urdu By Famous Poet Javed Akhtar. Main Pa Saka Na Kabhi Is KHalish Se ChhuTkara is written by Javed Akhtar. Enjoy reading Main Pa Saka Na Kabhi Is KHalish Se ChhuTkara Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Javed Akhtar. Free Dowlonad Main Pa Saka Na Kabhi Is KHalish Se ChhuTkara by Javed Akhtar in PDF.