گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپنا

گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپنا

قید خانہ ہے عجب گنبد بے در اپنا

شکل رہنے کی ہے بستی میں یہ اس بن اپنی

جیسے جنگل میں بناتا ہے کوئی گھر اپنا

شب کی بے تابیاں کیا کہیے کہ دیکھا جو سحر

ٹکڑے ٹکڑے نظر آیا ہمیں بستر اپنا

ہم نشیں اس کو جو لانا ہے تو لا جلد کہ ہم

تھامے بیٹھے رہیں کب تک دل مضطر اپنا

وہ گئے دن کہ سدا مے کدۂ ہستی میں

بادۂ عیش سے لبریز تھا ساغر اپنا

تاب نظارہ تری لائے نہ خورشید ذرا

ہاتھ جب تک کہ نہ رکھ لے وہ جبیں پر اپنا

دیں گے سر عشق کے سودے میں اگرچہ ہم کو

اس میں نقصاں نظر آتا ہے سراسر اپنا

ہے زمیں خوب غزل در غزل اس کو کہیے

بس کہ معمول ہے جرأتؔ یہی اکثر اپنا

(698) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Guzar Is Hujra-e-gardun Se Ho Kidhar Apna In Urdu By Famous Poet Jurat Qalandar Bakhsh. Guzar Is Hujra-e-gardun Se Ho Kidhar Apna is written by Jurat Qalandar Bakhsh. Enjoy reading Guzar Is Hujra-e-gardun Se Ho Kidhar Apna Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Jurat Qalandar Bakhsh. Free Dowlonad Guzar Is Hujra-e-gardun Se Ho Kidhar Apna by Jurat Qalandar Bakhsh in PDF.