جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگا

جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگا

ہمارا شعر بھی مشہور ہوگا

جہاں میں حسن پر دو دن کے اے گل

کوئی تجھ سا بھی کم مغرور ہوگا

پڑیں گے یوں ہی سنگ تفرقہ گر

تو اک دن شیشۂ دل چور ہوگا

مجھے کل خاک افشاں دیکھ بولا

یہی عشاق کا دستور ہوگا

ہوا ہوں مرگ کے نزدیک غم سے

خدا جانے یہ کس دن دور ہوگا

وہی سمجھے گا میرے زخم دل کو

جگر پر جس کے اک ناسور ہوگا

ہمیں پیمانہ تب یہ دے گا ساقی

کہ جام عمر جب معمور ہوگا

جو یوں غم نیش زن ہر دم رہے گا

تو پھر دل خانۂ زنبور ہوگا

یہی رونا ہے گر منظور جرأتؔ

تو بینائی سے تو معذور ہوگا

(770) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Jahan Kuchh Dard Ka Mazkur Hoga In Urdu By Famous Poet Jurat Qalandar Bakhsh. Jahan Kuchh Dard Ka Mazkur Hoga is written by Jurat Qalandar Bakhsh. Enjoy reading Jahan Kuchh Dard Ka Mazkur Hoga Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Jurat Qalandar Bakhsh. Free Dowlonad Jahan Kuchh Dard Ka Mazkur Hoga by Jurat Qalandar Bakhsh in PDF.