یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گا

یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گا

محشر میں خوں ہمارا معلوم ہو رہے گا

گو پھول پھول کر اب تو دیکھتی ہے بلبل

گلشن کا پر نظارا معلوم ہو رہے گا

جب بحر غم میں ڈوبا دے چھوڑ دست و پا کو

آخر تجھے کنارا معلوم ہو رہے گا

اے صبر دم بہ دم اب درد و الم فزوں ہے

جتنا ہے دل کا یارا معلوم ہو رہے گا

اے آفتاب محشر کھولوں ہوں داغ دل کا

چمکا اگر یہ تارا معلوم ہو رہے گا

صد شعر عاشقوں کا ہونے لگا وفور اب

سب حوصلہ تمہارا معلوم ہو رہے گا

نقش قدم سے آخر تیری گلی میں پیارے

جس کا ہوا گزارا معلوم ہو رہے گا

افسوس راز دل کا جاسوس سن گئے ہیں

قصہ اب اس کو سارا معلوم ہو رہے گا

پوشیدہ گو ہے تجھ پر احوال میرے دل کا

ہے یہ تو آشکارا معلوم ہو رہے گا

ناچار کو بہ کو اب تحقیق کرنے پھریے

کچھ درد دل کا چارا معلوم ہو رہے گا

پنہاں ہے اب تو لیکن مرنے کے بعد جرأتؔ

درد دروں ہمارا معلوم ہو رہے گا

(494) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Yan Hum Ko Jis Ne Mara Malum Ho Rahega In Urdu By Famous Poet Jurat Qalandar Bakhsh. Yan Hum Ko Jis Ne Mara Malum Ho Rahega is written by Jurat Qalandar Bakhsh. Enjoy reading Yan Hum Ko Jis Ne Mara Malum Ho Rahega Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Jurat Qalandar Bakhsh. Free Dowlonad Yan Hum Ko Jis Ne Mara Malum Ho Rahega by Jurat Qalandar Bakhsh in PDF.