ہم کو آگہی نہ دو

ہم جیسے جی رہے ہیں

ہم کو ویسے جینے دو

یہ جو آگہی کے دکھ ہوتے ہیں

وہ روح کو زخمی کر دیتے ہیں

اور اب تک صرف جسموں کے علاج کی ریسرچ ہوئی ہے

اور وہ ریسرچ بھی کیا

کہ ڈاکٹرز ایک مرض درست کر کے

دوسرا مرض اگا دیتے ہیں

یہ جو آگہی ہے

یہ تو ناسور سے بھی بد تر ہے

یہ تو ہنستے بستے انسان کو

رلا دیتی ہے

اجاڑ دیتی ہے

یہ جو اندھیرا ہے نا جہالت کا

وہ فی الوقت کتنا سکون بخش ہے

بچپن کے کھلونوں سے جی بہلانے جیسا

یہ جو دنیا ہے نا

اس کے کیا کیا عذاب ہیں

کہاں کہاں جنگیں ہو رہی ہیں

اور اس کے محرکات کیا کیا ہیں

انسان ہی انسان کو مار رہے ہیں

یہ جو کائنات ہے نا

اس میں کتنا پانی بچا ہے

کتنی آکسیجن باقی ہے

کتنے سیارے خلاؤں میں زمین کو کھانے کے لیے گھوم رہے ہیں

یہ جو آگہی ہے نا

یہ تو جیتے جی مار رہی ہے

اب ہم جیتے کب ہیں

ہم تو جینے کے لیے فلسفے بنتے رہتے ہیں

ہم تو جینے کے لیے سیارے ڈھونڈتے رہتے ہیں

ہم تو جینے کی اداکاری کرتے ہیں

ہم کو آگہی نہ دو

(4000) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Hum Ko Aagahi Na Do In Urdu By Famous Poet Maryam Tasleem Kiyani. Hum Ko Aagahi Na Do is written by Maryam Tasleem Kiyani. Enjoy reading Hum Ko Aagahi Na Do Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Maryam Tasleem Kiyani. Free Dowlonad Hum Ko Aagahi Na Do by Maryam Tasleem Kiyani in PDF.