در شہر کاما حسب حال خود

قابل ہے میرؔ سیر کے اطوار روزگار

چالیں عجب طرح کی چلے ہے کجی شعار

کرتا ہے بدسلوکی سبھوں سے یہ بے مدار

لاتا ہے روز فتنۂ تازہ بروے کار

دل داغ داغ رہتے ہیں اس سے جگر فگار

کاما سے تلخ کام اٹھایا مرے تئیں

دلی میں بیدلانہ پھرایا مرے تئیں

ہم چشموں کی نظر سے گرایا مرے تئیں

حاصل کہ پیس سرمہ بنایا مرے تئیں

میں مشت خاک مجھ سے اسے اس قدر غبار

لشکر میں مجھ کو شہر سے لایا پئے تلاش

یاں آکے گذری میری عجب طور سے معاش

پانی کسو سے مانگ پیا میں کسو سے آش

اس واقعے سے آگے اجل پہنچی ہوتی کاش

ناموس رہتی فقر کی جاتا نہ اعتبار

مدت رہا تھا ساتھ جنھوں کے خراب حال

دانستہ ان سبھوں نے کیا مجھ کو پائمال

آخر کو آیا مجھ میں انھوں میں نپٹ ملال

یہ زندگی سہل ہوئی جان کی وبال

اس جمع میں کسو کو نہ پایا میں دستیار

جانا نہ تھا جہاں مجھے سو بار واں گیا

ضعف قویٰ سے دست بدیوار واں گیا

محتاج ہوکے ناں کا طلبگار واں گیا

چارہ نہ دیکھا مضطر و ناچار واں گیا

اس جان ناتواں پہ کیا صبر اختیار

در پر ہر اک دنی کے سماجت مری گئی

نالائقوں سے ملتے لیاقت مری گئی

کیا مفت ہائے شان شرافت مری گئی

ایسا پھرایا ان نے کہ طاقت مری گئی

مشہور شہر اب ہوں سبکسار و بے وقار

عرصہ تھا مجھ پہ تنگ اٹھا ہوکے نیم جاں

پوچھا نہ مجھ کو یک لب ناں سے کنھوں نے یاں

کم پائی پر بھی سیر کیا میں نے سب جہاں

آشفتہ خاطری نے پھرایا کہاں کہاں

برسوں کا راز مخفی ہوا آخر آشکار

پرداخت میری ہو نہ سکی اک امیر سے

عقدہ کھلا نہ دل کا دعاے فقیر سے

فتنے ہمیشہ آتے رہے سر پہ تیر سے

ہرچند التجا کی صغیر و کبیر سے

لیکن ہوا نہ رفع مرے دل کا اضطرار

کن نے کی اپنے حال پہ شفقت سے یک نگاہ

نکلے ہے کس سے طور پر اپنے سخن کی راہ

بولا نہ کوئی مجھ سے کہ تو کیوں ہوا تباہ

اسلوب میرے جینے کا ہو کس طرح سے آہ

میں ایک ناتوان و ضعیف اور غم ہزار

حاجت مری روا دل پردرد نے نہ کی

تاثیر اشک سرخ و رخ زرد نے نہ کی

تدبیر ایک دم بھی دم سرد نے نہ کی

دل جوئی میری حیف کسی فرد نے نہ کی

طاقت رہی نہ دل میں گیا جان سے قرار

ہر ترک شوخ چشم سے ہے مجھ پہ کب نظر

ہر صیدبند باندھے مرے خوں پہ کیا کمر

ہر دام دار قصد کرے یہ کہاں جگر

یہ منھ نہیں کسی کا جو منھ کو کرے ادھر

ہر کوئی جانتا ہے کسی کا ہوں میں شکار

دل سربسر خراب ہے تعمیر کیا کروں

آشفتگی حال کی تعبیر کیا کروں

خونابہاے چشم کی تقریر کیا کروں

زردی کو رنگ چہرہ کی تحریر کیا کروں

آیا جو میں چمن میں خزاں ہوگئی بہار

حالت تو یہ کہ مجھ کو غموں سے نہیں فراغ

دل سوزش درونہ سے جلتا ہے جوں چراغ

سینہ تمام چاک ہے سارا جگر ہے داغ

ہے نام مجلسوں میں مرا میرؔ بے دماغ

ازبسکہ کم دماغی نے پایا ہے اشتہار

(311) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

In Urdu By Famous Poet Mir Taqi Mir. is written by Mir Taqi Mir. Enjoy reading  Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Mir Taqi Mir. Free Dowlonad  by Mir Taqi Mir in PDF.