ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں

ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں

تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں

طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں

یہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں

ستم یہ کم تو نہیں دل گرفتگی کے لئے

میں شہر بھر میں اکیلا ادھر ادھر آنکھیں

شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص

چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں

میں زخم زخم ہوا جب تو مجھ پہ بھید کھلا

کہ پتھروں کو سمجھتی رہیں گہر آنکھیں

میں اپنے اشک سنبھالوں گا کب تلک محسنؔ

زمانہ سنگ بکف ہے تو شیشہ گر آنکھیں

(237) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Har Ek Shab Yunhi Dekhengi Su-e-dar Aankhen In Urdu By Famous Poet Mohsin Naqvi. Har Ek Shab Yunhi Dekhengi Su-e-dar Aankhen is written by Mohsin Naqvi. Enjoy reading Har Ek Shab Yunhi Dekhengi Su-e-dar Aankhen Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Mohsin Naqvi. Free Dowlonad Har Ek Shab Yunhi Dekhengi Su-e-dar Aankhen by Mohsin Naqvi in PDF.