معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا

تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا

اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں

اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا

کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے

کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا

میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت

آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ہوگا

رات جل تھل مری آنکھوں میں اتر آیا تھا

صورت ابر کوئی ٹوٹ کے برسا ہوگا

یہ مسیحائی اسے بھول گئی ہے محسنؔ

یا پھر ایسا ہے مرا زخم ہی گہرا ہوگا

(249) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Marka Ab Ke Hua Bhi To Phir Aisa Hoga In Urdu By Famous Poet Mohsin Naqvi. Marka Ab Ke Hua Bhi To Phir Aisa Hoga is written by Mohsin Naqvi. Enjoy reading Marka Ab Ke Hua Bhi To Phir Aisa Hoga Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Mohsin Naqvi. Free Dowlonad Marka Ab Ke Hua Bhi To Phir Aisa Hoga by Mohsin Naqvi in PDF.