دستور سازی کی کوشش

یوں تو ہر شاعر کی فطرت میں ہے کچھ دیوانگی

غیر ذمہ داریاں ہیں اس کی جزو زندگی

ارض شعرستان میں یہ شاعرانہ خاصیت

کینسر کی طرح سے جب پھیلنے بڑھنے لگی

مختلف اسکول جب جنگی اکھاڑے بن گئے

فکر و فن میں جب نراجی کیفیت پیدا ہوئی

مملکت میں ضابطہ کوئی نہ جب باقی رہا

ہر جگہ قانون کی ہونے لگی بے حرمتی

ایک اک تک بند استادوں کے منہ آنے لگا

لکھ کے صبح و شام نظمیں بے تکی سے بے تکی

کوڑے کرکٹ کی طرح ہر سو نظر آنے لگیں

ڈھیریاں ہی ڈھیریاں دیوان خاص و عام کی

حد تو یہ ہے اہل مچھلی شہر بھی کرنے لگے

ماہی گیری چھوڑ کر دن رات فکر شاعری

جن سے بحران غذا اسٹیٹ میں پیدا ہوا

قحط ماہی سے بڑھی ہر چار جانب بھک مری

چند قومی درد رکھنے والے اہل الرائے سے

قوم کی نا گفتہ بہ حالت نہ جب دیکھی گئی

ایک دستور العمل تیار کرنے کے لیے

اک کمیٹی امنؔ صاحب کی صدارت میں بنی

تاکہ اس پر چل کے نظم و ضبط آئے قوم میں

تاکہ کچھ تو معتدل ہو شاعروں کی زندگی

دوسرے کاموں میں بھی قومی انرجی صرف ہو

تک فروشی کے علاوہ بھی تو مقصد ہو کوئی

دور افلاطونؔ و تلسیؔ داس سے اقبالؔ تک

ہسٹری کل شاعروں کی اس کمیٹی نے پڑھی

دوسرے ملکوں کے آئین و ضوابط میں جہاں

جو مناسب بات تھی وہ چھانٹ کر رکھ لی گئی

رات دن کی سخت محنت اور جاں سوزی کے بعد

اس کمیٹی نے رپورٹ اپنی بالآخر پیش کی

خاکۂ دستور قومی یعنی وہ شعری رپورٹ

امنؔ صاحب نے رقم کی تھی بہ صنف مثنوی

اس پہ رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے

شاعروں کو نقل دستاویز کی بھیجی گئی

مختلف اہل سخن نے اپنے اپنے طور پر

رائے دی دستور میں ترمیم یا تنسیخ کی

مثنوی میں خامیاں ڈھونڈیں زباں کی جا بہ جا

ایک شاعر نے جو تھے شاگرد نوح ناروی

سیکڑوں مصرعے بدل کر رکھ دیے کچھ اس طرح

نفس مضموں نذر ہو کر رہ گیا اصلاح کی

ان کا کہنا تھا کہ بندش چست ہونی چاہیے

شعر کے اندر بلا سے ہو نہ فکری تازگی

نعت گو حضرات کا کہنا تھا شاعر کے لیے

شرط اول ہے کہ ہو جائے وہ کٹر مذہبی

عاقبت کی بات سوچے اور مناجاتیں لکھے

اس کے جن میں کار آمد شاعری ہے بس وہی

ایسے شاعر جو کہ حامی تھے ترقی واد کے

ان کا کہنا تھا کہ شاعر کا سخن ہو مقصدی

یعنی پہلے سے مقرر کردہ موضوعات پر

مملکت میں عام کی جائے شعوری شاعری

خواہ شعرستان میں اس کا نہ ہو کوئی وجود

لازماً دکھلائی جائے کشمکش طبقات کی

اک قبیلہ جو مخالف تھا شعوری فکر کا

تھا ترقی وادیوں سے جس کو بغض للہی

اس قبیلے کا یہ کہنا تھا کہ شاعر کا کلام

لازماً ہو اک معمہ قید معنی سے بری

جس کو شاعر خود نہ سمجھے نظم کر لینے کے بعد

جس کو پڑھ کر گم ہو عقل مولویٔ معنوی

دیکھ کر دستور میں نظم و نسق کا تذکرہ

سخت برہم ہو گئے کل شاعران نکسلی

ان کا نکتہ تھا کہ شاعر فطرتاً آزاد ہے

اس پہ لگ سکتی نہیں پابندیاں تنظیم کی

زندگی میں ضابطہ لانے کے بالکل تھے خلاف

ساتھ نکسل وادیوں کے دوسرے حضرات بھی

مختصر یہ ہے کہ سب نے رد کیا دستور کو

ساری محنت امنؔ صاحب کی اکارت ہو گئی

دیکھ کر نا عاقبت اندیشئ اہل سخن

اس طرح گویا ہوئی ان کی مہذب خامشی

مینڈکوں کو تولنا آساں نہیں ہے جس طرح

شاعروں کو بھی منظم کرنا مشکل ہے یوں ہی

(2326) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Dastur Sazi Ki Koshish In Urdu By Famous Poet Raza Naqvi Vahi. Dastur Sazi Ki Koshish is written by Raza Naqvi Vahi. Enjoy reading Dastur Sazi Ki Koshish Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Raza Naqvi Vahi. Free Dowlonad Dastur Sazi Ki Koshish by Raza Naqvi Vahi in PDF.