یہ آنکھ طنز نہ ہو زخم دل ہرا نہ لگے

یہ آنکھ طنز نہ ہو زخم دل ہرا نہ لگے

مجھے قرار تو ہو یا اسے حیا نہ لگے

فشار جاں ہو تو کیفیت مکمل ہو

وہ اضطراب تو ہو اضطراب سا نہ لگے

وہ روبرو ہو تو آرائش بیاں بھی نہ ہو

کہ میں کہوں تو کسی اور کا کہا نہ لگے

معاملات‌ محبت مزاج رکھتے ہیں

طبیعتیں ہوں جو یکساں تو فاصلہ نہ لگے

خزاں رسیدہ چمن میں بھی جھولتی ہو بہار

گلوں سے رنگ کلی سے مہک جدا نہ لگے

یہی تو ہوتی ہے وضع شگفتن مہتاب

میان ابر ہو یا آسماں کھلا نہ لگے

وہی تو درد ہے جو درد ماسوا سمجھے

رفاقتیں ہوں تو عالم نگار خانہ لگے

الم تو خیر الم ہے کہ پائیدار نہیں

وبال ہے جو خوشی بھی گریز پا نہ لگے

الجھ رہی ہیں خیالی اڑان سے آنکھیں

کہیں نوشتۂ دیوار بے صدا نہ لگے

(420) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

In Urdu By Famous Poet Syed Amin Ashraf. is written by Syed Amin Ashraf. Enjoy reading  Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Syed Amin Ashraf. Free Dowlonad  by Syed Amin Ashraf in PDF.