ملتی ہے اسے گوہر شب تاب کی میراث

ملتی ہے اسے گوہر شب تاب کی میراث

لی مجھ دل صد پارہ نے سیماب کی میراث

حسرت سے تری چشم کی نرگس نے چمن میں

پائی ہے کسی دیدۂ بے خواب کی میراث

یاں جو دل روشن کہ وہ خالی ہے خودی سے

پہنچائی فلک نے اسے مہتاب کی میراث

اک بیڑۂ پاں ہاتھ سے تو اپنے جو بخشے

طوطی کو ملے غیب سے سرخاب کی میراث

پاسنگ ہیں لعل اس کے بھی جس سنگ کو پہنچے

اک قطرہ مرے اشک کے خونباب کی میراث

رو رو کے مری چشم نے اس بحر جہاں سے

لی خانہ خرابی کے لئے آب کی میراث

یہ درد و غم عشق دلا جان غنیمت

پہنچی تری حب سے تجھے احباب کی میراث

دریائے محبت سے محبؔ لے ہی کے چھوڑی

مجھ اشک نے آخر در نایاب کی میراث

(374) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

In Urdu By Famous Poet Waliullah Muhib. is written by Waliullah Muhib. Enjoy reading  Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Waliullah Muhib. Free Dowlonad  by Waliullah Muhib in PDF.