شب وصال تھی روشن فضا میں بیٹھا تھا

شب وصال تھی روشن فضا میں بیٹھا تھا

میں تیرے سایۂ لطف و عطا میں بیٹھا تھا

تمام عمر اسے ڈھونڈنے میں صرف ہوئی

جو چھپ کے میرے بدن کی گپھا میں بیٹھا تھا

نئی رتوں کی ہوا لے اڑی لباس اس کا

وہ کل تلک تو حریم حیا میں بیٹھا تھا

درون قافلہ آثار تھے بغاوت کے

عجب سا خوف دل رہنما میں بیٹھا تھا

ذرا سی بات نے اوقات کھول دی اس کی

وہ کب سے بند حصار انا میں بیٹھا تھا

نظر اٹھا کے تم اے کاش دیکھ ہی لیتے

میں نذر جاں لئے راہ وفا میں بیٹھا تھا

لہو سے اس کے ملی دین کو بقائے دوام

وہ قافلہ جو کبھی کربلا میں بیٹھا تھا

اسی نے لوٹی تھی ابلا کی آبرو کل رات

سویرے بن کے جو مکھیا سبھا میں بیٹھا تھا

بس اک شکست نے سارے نشے اتار دیئے

وہ تاجدار الگ سی ہوا میں بیٹھا تھا

چلائیں گولیاں جس پر منافقوں نے شبابؔ

صف نماز میں یاد خدا میں بیٹھا تھا

(918) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

In Urdu By Famous Poet Shabab Lalit. is written by Shabab Lalit. Enjoy reading  Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Shabab Lalit. Free Dowlonad  by Shabab Lalit in PDF.