پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے

شام کریں کیسے اس دن کی ٹھنڈی صورت دیکھیں کن کی

ادھر ادھر تو دھواں اڑاتی آگ اگلتی خلقت ہے

جس کو ہم نے چاہا تھا وہ کہیں نہیں اس منظر میں

جس نے ہم کو پیار کیا وہ سامنے والی مورت ہے

پھول ببول کے اچھے ہیں لیکن ساکت تصویروں میں

سچ مچ کے صحراؤں کی تو اس دل جیسی صورت ہے

تیرے بعد دکانوں پر میں جا کر پوچھتا رہتا ہوں

کیا وہ خوشبو مل سکتی ہے اب اس کی کیا قیمت ہے

بڑے بڑے سپنے نہیں بوئے میں نے اپنے آنگن میں

ننھی منی خوشیاں ہیں مری چھوٹی سی اک جنت ہے

(1032) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Phir Wahi Lambi Do-pahren-surmai Hain Phir Wahi Dil Ki Haalat Hai In Urdu By Famous Poet Aitbar Sajid. Phir Wahi Lambi Do-pahren-surmai Hain Phir Wahi Dil Ki Haalat Hai is written by Aitbar Sajid. Enjoy reading Phir Wahi Lambi Do-pahren-surmai Hain Phir Wahi Dil Ki Haalat Hai Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Aitbar Sajid. Free Dowlonad Phir Wahi Lambi Do-pahren-surmai Hain Phir Wahi Dil Ki Haalat Hai by Aitbar Sajid in PDF.