خواب اس کے ہیں جو چرا لے جائے

خواب اس کے ہیں جو چرا لے جائے

نیند اس کی ہے جو اڑا لے جائے

زلف اس کی ہے جو اسے چھو لے

بات اس کی ہے جو بنا لے جائے

تیغ اس کی ہے شاخ گل اس کی

جو اسے کھینچتا ہوا لے جائے

یوں تو اس پاس کیا نہیں پھر بھی

ایک درویش کی دعا لے جائے

لو دیے کی نگاہ میں رکھنا

جانے کس سمت راستا لے جائے

میں غریب الدیار میرا کیا

موج لے جائے یا ہوا لے جائے

خاک ہونا ہی جب مقدر ہے

اب جہاں بخت نارسا لے جائے

(501) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

In Urdu By Famous Poet Rasa Chughtai. is written by Rasa Chughtai. Enjoy reading  Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Rasa Chughtai. Free Dowlonad  by Rasa Chughtai in PDF.