Hadith no 1392 Of Sahih Bukhari Chapter Janaze Ke Ehkaam O Masail (Al-janaiz (funerals).)

Read Sahih Bukhari Hadith No 1392 - Hadith No 1392 is from Al-janaiz Funerals , Janaze Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Bukhari Hadees Book, which is written by Imam Bukhari. Hadith # 1392 of Imam Bukhari covers the topic of Al-janaiz Funerals briefly in Sahih Bukhari. You can read Hadith No 1392 from Al-janaiz Funerals in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح بخاری - حدیث نمبر 1392

Hadith No 1392
Book Name Sahih Bukhari
Book Writer Imam Bukhari
Writer Death 256 ھ
Chapter Name Al-janaiz (funerals).
Roman Name Janaze Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الجنائز
Urdu Name جنازے کے احکام و مسائل

Urdu Translation

´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا کہ` میری موجودگی میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اے عبداللہ! ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا اور کہہ کہ عمر بن خطاب نے آپ کو سلام کہا ہے اور پھر ان سے معلوم کرنا کہ کیا مجھے میرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی آپ کی طرف سے اجازت مل سکتی ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے اس جگہ کو اپنے لیے پسند کر رکھا تھا لیکن آج میں اپنے پر عمر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیتی ہوں۔ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کیا پیغام لائے ہو؟ کہا کہ امیرالمؤمنین انہوں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر بولے کہ اس جگہ دفن ہونے سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز عزیز نہیں تھی۔ لیکن جب میری روح قبض ہو جائے تو مجھے اٹھا کر لے جانا اور پھر دوبارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو میرا سلام پہنچا کر ان سے کہنا کہ عمر نے آپ سے اجازت چاہی ہے۔ اگر اس وقت بھی وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہیں دفن کر دینا ‘ ورنہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔ میں اس امر خلافت کا ان چند صحابہ سے زیادہ اور کسی کو مستحق نہیں سمجھتا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت تک خوش اور راضی رہے۔ وہ حضرات میرے بعد جسے بھی خلیفہ بنائیں ‘ خلیفہ وہی ہو گا اور تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے خلیفہ کی باتیں توجہ سے سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ آپ نے اس موقع پر عثمان ‘ علی ‘ طلحہ ‘ زبیر ‘ عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے نام لیے۔ اتنے میں ایک انصاری نوجوان داخل ہوا اور کہا کہ اے امیرالمؤمنین آپ کو بشارت ہو ‘ اللہ عزوجل کی طرف سے ‘ آپ کا اسلام میں پہلے داخل ہونے کی وجہ سے جو مرتبہ تھا وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے انصاف کیا۔ پھر آپ نے شہادت پائی۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے میرے بھائی کے بیٹے! کاش ان کی وجہ سے میں برابر چھوٹ جاؤں۔ نہ مجھے کوئی عذاب ہو اور نہ کوئی ثواب۔ ہاں میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ مہاجرین اولین کے ساتھ اچھا برتاو رکھے ‘ ان کے حقوق پہچانے اور ان کی عزت کی حفاظت کرے اور میں اسے انصار کے بارے میں بھی اچھا برتاو رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان والوں کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔ (میری وصیت ہے کہ) ان کے اچھے لوگوں کے ساتھ بھلائی کی جائے اور ان میں جو برے ہوں ان سے درگذر کیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی جو اللہ اور رسول کی ذمہ داری ہے (یعنی غیر مسلموں کی جو اسلامی حکومت کے تحت زندگی گذارتے ہیں) کہ ان سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ انہیں بچا کر لڑا جائے اور طاقت سے زیادہ ان پر کوئی بار نہ ڈالا جائے۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ , قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اذْهَبْ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , فَقُلْ : يَقْرَأُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَيْكِ السَّلَامَ ، ثُمَّ سَلْهَا أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيَّ ، قَالَتْ : كُنْتُ أُرِيدُهُ لِنَفْسِي فَلَأُوثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي ، فَلَمَّا أَقْبَلَ , قَالَ لَهُ : مَا لَدَيْكَ ؟ , قَالَ : أَذِنَتْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : مَا كَانَ شَيْءٌ أَهَمَّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ الْمَضْجَعِ ، فَإِذَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُونِي ، ثُمَّ سَلِّمُوا ، ثُمَّ قُلْ : يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَإِنْ أَذِنَتْ لِي فَادْفِنُونِي ، وَإِلَّا فَرُدُّونِي إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ ، إِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ ، فَمَنِ اسْتَخْلَفُوا بَعْدِي فَهُوَ الْخَلِيفَةُ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ، فَسَمَّى عُثْمَانَ ، وَعَلِيًّا ، وَطَلْحَةَ , وَالزُّبَيْرَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَوَلَجَ عَلَيْهِ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ : أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللَّهِ كَانَ لَكَ مِنَ الْقَدَمِ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ ، ثُمَّ اسْتُخْلِفْتَ فَعَدَلْتَ ، ثُمَّ الشَّهَادَةُ بَعْدَ هَذَا كُلِّهِ ، فَقَالَ : لَيْتَنِي يَا ابْنَ أَخِي ، وَذَلِكَ كَفَافًا لَا عَلَيَّ وَلَا لِي أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ خَيْرًا أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ وَأَنْ يَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ ، وَأُوصِيهِ بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ ، وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ ، وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ وَأَنْ لَا يُكَلَّفُوا فَوْقَ طَاقَتِهِمْ " .

English Translation

Narrated `Amr bin Maimun Al-Audi: I saw `Umar bin Al-Khattab (when he was stabbed) saying, "O `Abdullah bin `Umar! Go to the mother of the believers Aisha and say, `Umar bin Al-Khattab sends his greetings to you,' and request her to allow me to be buried with my companions." (So, Ibn `Umar conveyed the message to `Aisha.) She said, "I had the idea of having this place for myself but today I prefer him (`Umar) to myself (and allow him to be buried there)." When `Abdullah bin `Umar returned, `Umar asked him, "What (news) do you have?" He replied, "O chief of the believers! She has allowed you (to be buried there)." On that `Umar said, "Nothing was more important to me than to be buried in that (sacred) place. So, when I expire, carry me there and pay my greetings to her (`Aisha ) and say, `Umar bin Al-Khattab asks permission; and if she gives permission, then bury me (there) and if she does not, then take me to the graveyard of the Muslims. I do not think any person has more right for the caliphate than those with whom Allah's Apostle (p.b.u.h) was always pleased till his death. And whoever is chosen by the people after me will be the caliph, and you people must listen to him and obey him," and then he mentioned the name of `Uthman, `Ali, Talha, Az-Zubair, `Abdur-Rahman bin `Auf and Sa`d bin Abi Waqqas. By this time a young man from Ansar came and said, "O chief of the believers! Be happy with Allah's glad tidings. The grade which you have in Islam is known to you, then you became the caliph and you ruled with justice and then you have been awarded martyrdom after all this." `Umar replied, "O son of my brother! Would that all that privileges will counterbalance (my short comings), so that I neither lose nor gain anything. I recommend my successor to be good to the early emigrants and realize their rights and to protect their honor and sacred things. And I also recommend him to be good to the Ansar who before them, had homes (in Medina) and had adopted the Faith. He should accept the good of the righteous among them and should excuse their wrongdoers. I recommend him to abide by the rules and regulations concerning the Dhimmis (protectees) of Allah and His Apostle, to fulfill their contracts completely and fight for them and not to tax (overburden) them beyond their capabilities."

Your Comments/Thoughts ?

جنازے کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 1270

´ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی کو دفن کیا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبر سے نکلوایا اور اپنا لعاب دہن ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1333

´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں سعید بن مسیب نے ‘ انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نجاشی کا جس دن انتقال ہوا اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وفات کی خبر دی اور آپ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1277

´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بنی ہوئی حاشیہ دار چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ لائی۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1379

´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1257

´ہم سے عبدالرحمٰن بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن عون نے خبر دی، انہیں محمد نے، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ تم اسے تین یا پانچ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1339

´ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن طاؤس نے ‘ انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ملک الموت (آدمی کی شکل میں) موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجے گئے۔ وہ جب آئے تو موسیٰ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1296

´اور حکم بن موسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن جابر نے کہ قاسم بن مخیمرہ نے ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ` ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار پڑے ‘ ایسے کہ ان پر غشی طاری تھی اور ان کا سر ان کی ایک بیوی ام عبداللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1281

´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن عمرو بن حزم نے ‘ ان سے حمید بن نافع نے ‘ ان کو زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ` وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1274

´ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے ‘ ان سے ان کے باپ سعد نے اور ان سے ان کے والد ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ` عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک دن کھانا رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (غزوہ احد میں) شہید ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1312

´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ` سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو یہ دونوں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1266

´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفہ میں وقوف کئے ہوئے تھا کہ وہ اپنے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1362

´ہم سے عثمان ابن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے منصور بن معتمر نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن عبیدہ نے ‘ ان سے ابوعبدالرحمٰن عبداللہ بن حبیب نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم بقیع غرقد میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے۔ اتنے میں رسول اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1264

´ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور انہیں (ان کی خالہ) ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمن کے تین ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1346

´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن کعب نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خون سمیت دفن کر دو یعنی احد کی لڑائی کے موقع پر اور انہیں غسل نہیں دیا تھا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1376

´ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا۔ کہا کہ مجھ سے خالد بن سعید بن عاص کی صاحبزادی (ام خالد) نے بیان کیا ‘` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے سنا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1318

´ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نجاشی کی وفات کی خبر سنائی ‘ پھر آپ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1360

´ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے میرے باپ (ابراہیم بن سعد) نے صالح بن کیسان سے خبر دی ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے اپنے باپ (مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ) سے خبر دی ‘ ان کے باپ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1254

´ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1247

´ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، انہیں ابومعاویہ نے خبر دی، انہیں ابواسحاق شیبانی نے، انہیں شعبی نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ` ایک شخص کی وفات ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کو جایا کرتے تھے۔ چونکہ ان کا انتقال رات میں ہوا تھا اس لیے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1321

´ہم سے موسیٰ ابن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شیبانی نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر پر ہوا۔ میت کو ابھی رات ہی دفنایا گیا تھا۔ نبی کریم مکمل حدیث پڑھیئے