Hadith no 2581 Of Sahih Bukhari Chapter Hiba Ke Masail Fazeelat Awr Targheeb Ka Bayan (Gifts And The Superiority Of Giving Gifts And The Exhortation For Giving Gifts.)

Read Sahih Bukhari Hadith No 2581 - Hadith No 2581 is from Gifts And The Superiority Of Giving Gifts And The Exhortation For Giving Gifts , Hiba Ke Masail Fazeelat Awr Targheeb Ka Bayan Chapter in the Sahih Bukhari Hadees Book, which is written by Imam Bukhari. Hadith # 2581 of Imam Bukhari covers the topic of Gifts And The Superiority Of Giving Gifts And The Exhortation For Giving Gifts briefly in Sahih Bukhari. You can read Hadith No 2581 from Gifts And The Superiority Of Giving Gifts And The Exhortation For Giving Gifts in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح بخاری - حدیث نمبر 2581

Hadith No 2581
Book Name Sahih Bukhari
Book Writer Imam Bukhari
Writer Death 256 ھ
Chapter Name Gifts And The Superiority Of Giving Gifts And The Exhortation For Giving Gifts.
Roman Name Hiba Ke Masail Fazeelat Awr Targheeb Ka Bayan
Arabic Name الهبة
Urdu Name ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان

Urdu Translation

´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید بن ابی اویس نے، ان سے سلیمان نے ہشام بن عروہ سے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج دو گروہ میں تھیں۔ ایک میں عائشہ، حفصہ، صفیہ اور سودہ رضوان اللہ علیہن اور دوسری میں ام سلمہ اور بقیہ تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن تھیں۔ مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ محبت کا علم تھا اس لیے جب کسی کے پاس کوئی تحفہ ہوتا اور وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تو انتظار کرتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی باری ہوتی تو تحفہ دینے والے صاحب اپنا تحفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجتے۔ اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی جماعت کی ازواج مطہرات نے آپس میں مشورہ کیا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرما دیں کہ جسے آپ کے یہاں تحفہ بھیجنا ہو وہ جہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں وہیں بھیجا کرے۔ چنانچہ ان ازواج کے مشورہ کے مطابق انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ان خواتین نے پوچھا تو انہوں نے بتا دیا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ازواج مطہرات نے کہا کہ پھر ایک مرتبہ کہو۔ انہوں نے بیان کیا پھر جب آپ کی باری آئی تو دوبارہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا۔ ازواج نے اس مرتبہ ان سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ پر بلواؤ تو سہی۔ جب ان کی باری آئی تو انہوں نے پھر کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ فرمایا۔ عائشہ کے بارے میں مجھے تکلیف نہ دو۔ عائشہ کے سوا اپنی بیویوں میں سے کسی کے کپڑے میں بھی مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر انہوں نے عرض کیا، آپ کو ایذا پہنچانے کی وجہ سے میں اللہ کے حضور میں توبہ کرتی ہوں۔ پھر ان ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ کہلوایا کہ آپ کی ازواج ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں اللہ کے لیے آپ سے انصاف چاہتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میری بیٹی! کیا تم وہ پسند نہیں کرتی جو میں پسند کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، اس کے بعد وہ واپس آ گئیں اور ازواج کو اطلاع دی۔ انہوں نے ان سے پھر دوبارہ خدمت نبوی میں جانے کے لیے کہا۔ لیکن آپ نے دوبارہ جانے سے انکار کیا تو انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ وہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئیں تو انہوں نے سخت گفتگو کی اور کہا کہ آپ کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے بارے میں آپ سے اللہ کے لیے انصاف مانگتی ہیں اور ان کی آواز اونچی ہو گئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا وہیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے (ان کے منہ پر) انہیں بھی برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ کچھ بولتی ہیں یا نہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی بول پڑیں اور زینب رضی اللہ عنہا کی باتوں کا جواب دینے لگیں اور آخر انہیں خاموش کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ آخر کلام فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے متعلق ہشام بن عروہ نے ایک اور شخص سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے زہری سے روایت کی اور انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن سے اور ابومروان نے بیان کیا کہ ہشام سے اور انہوں نے عروہ سے کہ لوگ تحائف بھیجنے کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے اور ہشام کی ایک روایت قریش کے ایک صاحب اور ایک دوسرے صاحب سے جو غلاموں میں سے تھے، بھی ہے۔ وہ زہری سے نقل کرتے ہیں اور وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (اندر آنے کی) اجازت چاہی تو میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی خدمت میں موجود تھی۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ نِسَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ حِزْبَيْنِ ، فَحِزْبٌ فِيهِ : عَائِشَةُ ، وَحَفْصَةُ ، وَصَفِيَّةُ ، وَسَوْدَةُ ، وَالْحِزْبُ الْآخَرُ : أُمُّ سَلَمَةَ ، وَسَائِرُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ قَدْ عَلِمُوا حُبَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ ، فَإِذَا كَانَتْ عِنْدَ أَحَدِهِمْ هَدِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُهْدِيَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ ، بَعَثَ صَاحِبُ الْهَدِيَّةِ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَكَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقُلْنَ لَهَا : كَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ النَّاسَ ، فَيَقُولُ : مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً فَلْيُهْدِهِ إِلَيْهِ حَيْثُ كَانَ مِنْ بُيُوتِ نِسَائِهِ ، فَكَلَّمَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ بِمَا قُلْنَ ، فَلَمْ يَقُلْ لَهَا شَيْئًا ، فَسَأَلْنَهَا ، فَقَالَتْ : مَا قَالَ لِي شَيْئًا ؟ فَقُلْنَ لَهَا : فَكَلِّمِيهِ ، قَالَتْ : فَكَلَّمَتْهُ حِشينَ دَارَ إِلَيْهَا أَيْضًا ، فَلَمْ يَقُلْ لَهَا شَيْئًا ، فَسَأَلْنَهَا ، فَقَالَتْ : مَا قَالَ لِي شَيْئًا ؟ فَقُلْنَ لَهَا : كَلِّمِيهِ حَتَّى يُكَلِّمَكِ ، فَدَارَ إِلَيْهَا فَكَلَّمَتْهُ ، فَقَالَ لَهَا : لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ ، فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَقَالَتْ : أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ ، مِنْ أَذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَتِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ اللَّهَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، فَكَلَّمَتْهُ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، أَلَا تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ ، قَالَتْ : بَلَى فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ ، فَقُلْنَ : ارْجِعِي إِلَيْهِ ، فَأَبَتْ أَنْ تَرْجِعَ ، فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ ، فَأَتَتْهُ فَأَغْلَظَتْ ، وَقَالَتْ : إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ اللَّهَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، فَرَفَعَتْ صَوْتَهَا حَتَّى تَنَاوَلَتْ عَائِشَةَ وَهِيَ قَاعِدَةٌ ، فَسَبَّتْهَا حَتَّى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَنْظُرُ إِلَى عَائِشَةَ ، هَلْ تَكَلَّمُ ؟ قَالَ : فَتَكَلَّمَتْ عَائِشَةُ تَرُدُّ عَلَى زَيْنَبَ حَتَّى أَسْكَتَتْهَا ، قَالَتْ : فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ ، وَقَالَ : إِنَّهَا بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ " . قَالَ الْبُخَارِيُّ : الْكَلَامُ الْأَخِيرُ قِصَّةُ فَاطِمَةَ ، يُذْكَرُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَقَالَ أَبُو مَرْوَانَ : عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ . وَعَنْ هِشَامٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَرَجُلٍ مِنَ المَوَالِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْ فَاطِمَةُ " .

English Translation

Narrated `Urwa from `Aisha: The wives of Allah's Apostle were in two groups. One group consisted of `Aisha, Hafsa, Safiyya and Sauda; and the other group consisted of Um Salama and the other wives of Allah's Apostle. The Muslims knew that Allah's Apostle loved `Aisha, so if any of them had a gift and wished to give to Allah's Apostle, he would delay it, till Allah's Apostle had come to `Aisha's home and then he would send his gift to Allah's Apostle in her home. The group of Um Salama discussed the matter together and decided that Um Salama should request Allah's Apostle to tell the people to send their gifts to him in whatever wife's house he was. Um Salama told Allah's Apostle of what they had said, but he did not reply. Then they (those wives) asked Um Salama about it. She said, "He did not say anything to me." They asked her to talk to him again. She talked to him again when she met him on her day, but he gave no reply. When they asked her, she replied that he had given no reply. They said to her, "Talk to him till he gives you a reply." When it was her turn, she talked to him again. He then said to her, "Do not hurt me regarding Aisha, as the Divine Inspirations do not come to me on any of the beds except that of Aisha." On that Um Salama said, "I repent to Allah for hurting you." Then the group of Um Salama called Fatima, the daughter of Allah's Apostle and sent her to Allah's Apostle to say to him, "Your wives request to treat them and the daughter of Abu Bakr on equal terms." Then Fatima conveyed the message to him. The Prophet said, "O my daughter! Don't you love whom I love?" She replied in the affirmative and returned and told them of the situation. They requested her to go to him again but she refused. They then sent Zainab bint Jahsh who went to him and used harsh words saying, "Your wives request you to treat them and the daughter of Ibn Abu Quhafa on equal terms." On that she raised her voice and abused `Aisha to her face so much so that Allah's Apostle looked at `Aisha to see whether she would retort. `Aisha started replying to Zainab till she silenced her. The Prophet then looked at `Aisha and said, "She is really the daughter of Abu Bakr."

Your Comments/Thoughts ?

ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان سے مزید احادیث

حدیث نمبر 2622

´ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا عکرمہ سے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم مسلمانوں کو بری مثال نہ اختیار کرنی چاہئے۔ اس شخص ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2603

´اور ثابت بن محمد نے بیان کیا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے محارب نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (سفر سے لوٹ کر) مسجد میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے اونٹ کی قیمت) ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2633

´اور محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2626

´ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے نضر بن انس نے بیان کیا، ان سے بشیر بن نہیک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمریٰ جائز ہے۔ اور عطاء نے کہا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2608

´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے، کہا ہم سے عقیل نے ابن شہاب سے، وہ عروہ سے کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2609

´ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی شعبہ سے، انہیں ابوسلمہ بن کہیل نے، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ بطور قرض لیا، قرض خواہ تقاضا کرنے آیا (اور نازیبا گفتگو کی) تو آپ مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2592

´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے بکیر نے، ان سے ابن عباس کے غلام کریب نے اور انہیں (ام المؤمنین) میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ` انہوں نے ایک لونڈی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیے بغیر آزاد کر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2629

´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا ہی عمدہ ہے ہدیہ اس دودھ دینے والی اونٹنی کا جس نے ابھی حال ہی میں بچہ جنا ہو اور دودھ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2610

´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا عمرو سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` وہ سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے ایک سرکش اونٹ پر سوار تھے۔ وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2583

´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ابن شہاب سے، ان سے عروہ نے ذکر کیا کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ` جب قبیلہ ہوازن کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2625

´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ کے متعلق فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کا ہو جاتا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہو۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2618

´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ہم ایک سو تیس آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک سفر میں) ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2600

´ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا زہری سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں تو ہلاک ہو گیا۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2595

´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابوعمران جونی سے، ان سے بنو تیم بن مرہ کے ایک صاحب طلحہ بن عبداللہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میری دو پڑوسی ہیں، تو مجھے کس کے گھر ہدیہ بھیجنا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2601

´ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ابن شہاب سے، وہ ابن کعب بن مالک سے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` احد کی لڑائی میں ان کے باپ شہید ہو گئے (اور قرض چھوڑ گئے) قرض خواہوں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2587

´ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا حصین سے، وہ عامر سے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا` وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا، تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا (نعمان کی والدہ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2614

´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھے عبدالمالک بن میسرہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ ہدیہ میں دیا تو میں نے اسے پہن لیا۔ لیکن جب غصے کے آثار روئے مبارک ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2567

´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے یزید بن رومان سے، وہ عروہ سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` آپ نے عروہ سے کہا، میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں (یہ حال تھا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2624

´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ ابن جدعان کے غلام بنوصہیب نے دعویٰ کیا کہ` دو مکان اور ایک حجرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب رضی اللہ عنہ کو عنایت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2577

´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے بطور صدقہ کے ..مکمل حدیث پڑھیئے