Hadith no 5189 Of Sahih Bukhari Chapter Nikah Ke Masail Ka Bayan ((the Wedlock).)
Read Sahih Bukhari Hadith No 5189 - Hadith No 5189 is from The Wedlock , Nikah Ke Masail Ka Bayan Chapter in the Sahih Bukhari Hadees Book, which is written by Imam Bukhari. Hadith # 5189 of Imam Bukhari covers the topic of The Wedlock briefly in Sahih Bukhari. You can read Hadith No 5189 from The Wedlock in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح بخاری - حدیث نمبر 5189
| Hadith No | 5189 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Bukhari |
| Book Writer | Imam Bukhari |
| Writer Death | 256 ھ |
| Chapter Name | (the Wedlock). |
| Roman Name | Nikah Ke Masail Ka Bayan |
| Arabic Name | النكاح |
| Urdu Name | نکاح کے مسائل کا بیان |
Urdu Translation
´ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن اور علی بن حجر نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، اس نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے` انہوں نے کہا کہ گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ مجلس میں وہ اپنے اپنے خاوند کا صحیح صحیح حال بیان کریں کوئی بات نہ چھپاویں۔ چنانچہ پہلی عورت (نام نامعلوم) بولی میرے خاوند کی مثال ایسی ہے جیسے دبلے اونٹ کا گوشت جو پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو نہ تو وہاں تک جانے کا راستہ صاف ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اس کو کوئی لے آوے اور نہ وہ گوشت ہی ایسا موٹا تازہ ہے جسے لانے کے لیے اس پہاڑ پر چڑھنے کی تکلیف گوارا کرے۔ دوسری عورت (عمرہ بنت عمرو تمیمی نامی) کہنے لگی میں اپنے خاوند کا حال بیان کروں تو کہاں تک بیان کروں (اس میں اتنے عیب ہیں) میں ڈرتی ہوں کہ سب بیان نہ کر سکوں گی اس پر بھی اگر بیان کروں تو اس کے کھلے اور چھپے سارے عیب بیان کر سکتی ہوں۔ تیسری عورت (حیی بنت کعب یمانی) کہنے لگی، میرا خاوند کیا ہے ایک تاڑ کا تاڑ (لمبا تڑنگا) ہے اگر اس کے عیب بیان کروں تو طلاق تیار ہے اگر خاموش رہوں تو ادھر لٹکی رہوں۔ چوتھی عورت (مہدو بنت ابی ہرومہ) کہنے لگی کہ میرا خاوند ملک تہامہ کی رات کی طرح معتدل نہ زیادہ گرم نہ بہت ٹھنڈا نہ اس سے مجھ کو خوف ہے نہ اکتاہٹ ہے۔ پانچوں عورت (کبشہ نامی) کہنے لگی کہ میرا خاوند ایسا ہے کہ گھر میں آتا ہے تو وہ ایک چیتا ہے اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر (بہادر) کی طرح ہے۔ جو چیز گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے اس کے بارے میں پوچھتا ہی نہیں (کہ وہ کہاں گئی؟) اتنا بےپرواہ ہے جو آج کمایا اسے کل کے لیے اٹھا کر رکھتا ہی نہیں اتنا سخی ہے۔ چھٹی عورت (ہند نامی) کہنے لگی کہ میرا خاوند جب کھانے پر آتا ہے تو سب کچھ چٹ کر جاتا ہے اور جب پینے پر آتا ہے تو ایک بوند بھی باقی نہیں چھوڑتا اور جب لیٹتا ہے تو تنہا ہی اپنے اوپر کپڑا لپیٹ لیتا ہے اور الگ پڑ کر سو جاتا ہے میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ بھی نہیں ڈالتا کہ کبھی میرا دکھ درد کچھ تو معلوم کرے۔ ساتویں عورت (حیی بنت علقمہ) میرا خاوند تو جاہل یا مست ہے۔ صحبت کے وقت اپنا سینہ میرے سینے سے اوندھا پڑ جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے عیب لوگوں میں ایک ایک کر کے جمع ہیں وہ سب اس کی ذات میں جمع ہیں (کم بخت سے بات کروں تو) سر پھوڑ ڈالے یا ہاتھ توڑ ڈالے یا دونوں کام کر ڈالے۔ آٹھویں عورت (یاسر بنت اوس) کہنے لگی میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے اور خوشبو میں سونگھو تو زعفران جیسا خوشبودار ہے۔ نویں عورت (نام نامعلوم) کہنے لگی کہ میرے خاوند کا گھر بہت اونچا اور بلند ہے وہ قدآور بہادر ہے، اس کے یہاں کھانا اس قدر پکتا ہے کہ راکھ کے ڈھیر کے ڈھیر جمع ہیں۔ (غریبوں کو خوب کھلاتا ہے) لوگ جہاں صلاح و مشورہ کے لیے بیٹھتے ہیں (یعنی پنچائت گھر) وہاں سے اس کا گھر بہت نزدیک ہے۔ دسویں عورت (کبشہ بنت رافع) کہنے لگی میرے خاوند کا کیا پوچھنا جائیداد والا ہے، جائیداد بھی کیسی بڑی جائیداد ویسی کسی کے پاس نہیں ہو سکتی بہت سارے اونٹ جو جابجا اس کے گھر کے پاس جٹے رہتے ہیں اور جنگل میں چرنے کم جاتے ہیں۔ جہاں ان اونٹوں نے باجے کی آواز سنی بس ان کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو گیا۔ گیارھویں عورت (ام زرع بنت اکیمل بنت ساعدہ) کہنے لگی میرا خاوند ابوزرع ہے اس کا کیا کہنا اس نے میرے کانوں کو زیوروں سے بوجھل کر دیا ہے اور میرے دونوں بازو چربی سے پھلا دئیے ہیں مجھے خوب کھلا کر موٹا کر دیا ہے کہ میں بھی اپنے تئیں خوب موٹی سمجھنے لگی ہوں۔ شادی سے پہلے میں تھوڑی سے بھیڑ بکریوں میں تنگی سے گزر بسر کرتی تھی۔ ابوزرعہ نے مجھ کو گھوڑوں، اونٹوں، کھیت کھلیان سب کا مالک بنا دیا ہے اتنی بہت جائیداد ملنے پر بھی اس کا مزاج اتنا عمدہ ہے کہ بات کہوں تو برا نہیں مانتا مجھ کو کبھی برا نہیں کہتا۔ سوئی پڑی رہوں تو صبح تک مجھے کوئی نہیں جگاتا۔ پانی پیوں تو خوب سیراب ہو کر پی لوں رہی ابوزرعہ کی ماں (میری ساس) تو میں اس کی کیا خوبیاں بیان کروں۔ اس کا توشہ کھانا مال و اسباب سے بھرا ہوا، اس کا گھر بہت ہی کشادہ۔ ابوزرعہ کا بیٹا وہ بھی کیسا اچھا خوبصورت (نازک بدن دبلا پتلا) ہری چھالی یا ننگی تلوار کے برابر اس کے سونے کی جگہ ایسا کم خوراک کہ بکری کے چار ماہ کے بچے کا دست کا گوشت اس کا پیٹ بھر دے۔ ابوزرعہ کی بیٹی وہ بھی سبحان اللہ کیا کہنا اپنے باپ کی پیاری، اپنی ماں کی پیاری (تابع فرمان اطاعت گزار) کپڑا بھر پور پہننے والی (موٹی تازی) سوکن کی جلن۔ ابوزرعہ کی لونڈی اس کی بھی کیا پوچھتے ہو کبھی کوئی بات ہماری مشہور نہیں کرتی (گھر کا بھید ہمیشہ پوشیدہ رکھتی ہے) کھانے تک نہیں چراتی گھر میں کوڑا کچڑا نہیں چھوڑتی مگر ایک دن ایسا ہوا کہ لوگ مکھن نکالنے کو دودھ متھ رہے تھے۔ (صبح ہی صبح) ابوزرعہ باہر گیا اچانک اس نے ایک عورت دیکھی جس کے دو بچے چیتوں کی طرح اس کی کمر کے تلے دو اناروں سے کھیل رہے تھے (مراد اس کی دونوں چھاتیاں ہیں جو انار کی طرح تھیں)۔ ابوزرعہ نے مجھ کو طلاق دے کر اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک اور شریف سردار سے نکاح کر لیا جو گھوڑے کا اچھا سوار، عمدہ نیزہ باز ہے، اس نے بھی مجھ کو بہت سے جانور دے دئیے ہیں اور ہر قسم کے اسباب میں سے ایک ایک جوڑا دیا ہوا ہے اور مجھ سے کہا کرتا ہے کہ ام زرع! خوب کھا پی، اپنے عزیز و اقرباء کو بھی خوب کھلا پلا تیرے لیے عام اجازت ہے مگر یہ سب کچھ بھی جو میں نے تجھ کو دیا ہوا ہے اگر اکٹھا کروں تو تیرے پہلے خاوند ابوزرعہ نے جو تجھ کو دیا تھا، اس میں کا ایک چھوٹا برتن بھی نہ بھرے۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لَا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا ، قَالَتِ الْأُولَى : زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ لَا سَهْلٍ فَيُرْتَقَى وَلَا سَمِينٍ فَيُنْتَقَلُ ، قَالَتِ الثَّانِيَةُ : زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَذَرَهُ إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ ، قَالَتِ الثَّالِثَةُ : زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ ، قَالَتِ الرَّابِعَةُ : زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرٌّ وَلَا قُرٌّ وَلَا مَخَافَةَ وَلَا سَآمَةَ ، قَالَتِ الْخَامِسَةُ : زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ ، قَالَتِ السَّادِسَةُ : زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ ، قَالَتِ السَّابِعَةُ : زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ ، قَالَتِ الثَّامِنَةُ : زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ : زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ ، قَالَتِ الْعَاشِرَةُ : زَوْجِي مَالِكٌ وَمَا مَالِكٌ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكِ لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ وَإِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ ، قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ : زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ أُمُّ أَبِي زَرْعٍ فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ابْنُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا وَلَا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا ، قَالَتْ : خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا ، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا رَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا ، وَقَالَ : كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ ، قَالَتْ : فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ : عَنْ هِشَامٍ ، وَلَا تُعَشِّشُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ بَعْضُهُمْ : فَأَتَقَمَّحُ بِالْمِيمِ وَهَذَا أَصَحُّ .
English Translation
Narrated `Aisha: Eleven women sat (at a place) and promised and contracted that they would not conceal anything of the news of their husbands. The first one said, "My husband is like the meat of a slim weak camel which is kept on the top of a mountain which is neither easy to climb, nor is the meat fat, so that one might put up with the trouble of fetching it." The second one said, "I shall not relate my husband's news, for I fear that I may not be able to finish his story, for if I describe him, I will mention all his defects and bad traits." The third one said, "My husband, the "too-tall"! if I describe him (and he hears of that) he will divorce me, and if I keep quiet, he will keep me hanging (neither divorcing me nor treating me as a wife)." The fourth one said, "My husband is (moderate in temper) like the night of Tihama: neither hot nor cold; I am neither afraid of him, nor am I discontented with him." The fifth one said, "My husband, when entering (the house) is a leopard (sleeps a lot), and when going out, is a lion (boasts a lot). He does not ask about whatever is in the house." The sixth one said, "If my husband eats, he eats too much (leaving the dishes empty), and if he drinks he leaves nothing; if he sleeps he sleeps he rolls himself (alone in our blankets); and he does not insert his palm to inquire about my feelings." The seventh one said, "My husband is a wrong-doer or weak and foolish. All the defects are present in him. He may injure your head or your body or may do both." The eighth one said, "My husband is soft to touch like a rabbit and smells like a Zarnab (a kind of good smelling grass)." The ninth one said, "My husband is a tall generous man wearing a long strap for carrying his sword. His ashes are abundant (i.e. generous to his guests) and his house is near to the people (who would easily consult him)." The tenth one said, "My husband is Malik (possessor), and what is Malik? Malik is greater than whatever I say about him. (He is beyond and above all praises which can come to my mind). Most of his camels are kept at home (ready to be slaughtered for the guests) and only a few are taken to the pastures. When the camels hear the sound of the lute (or the tambourine) they realize that they are going to be slaughtered for the guests." The eleventh one said, "My husband is Abu Zar` and what is Abu Zar` (i.e., what should I say about him)? He has given me many ornaments and my ears are heavily loaded with them and my arms have become fat (i.e., I have become fat). And he has pleased me, and I have become so happy that I feel proud of myself. He found me with my family who were mere owners of sheep and living in poverty, and brought me to a respected family having horses and camels and threshing and purifying grain. Whatever I say, he does not rebuke or insult me. When I sleep, I sleep till late in the morning, and when I drink water (or milk), I drink my fill. The mother of Abu Zar and what may one say in praise of the mother of Abu Zar? Her saddle bags were always full of provision and her house was spacious. As for the son of Abu Zar, what may one say of the son of Abu Zar? His bed is as narrow as an unsheathed sword and an arm of a kid (of four months) satisfies his hunger. As for the daughter of Abu Zar, she is obedient to her father and to her mother. She has a fat well-built body and that arouses the jealousy of her husband's other wife. As for the (maid) slave girl of Abu Zar, what may one say of the (maid) slavegirl of Abu Zar? She does not uncover our secrets but keeps them, and does not waste our provisions and does not leave the rubbish scattered everywhere in our house." The eleventh lady added, "One day it so happened that Abu Zar went out at the time when the milk was being milked from the animals, and he saw a woman who had two sons like two leopards playing with her two breasts. (On seeing her) he divorced me and married her. Thereafter I married a noble man who used to ride a fast tireless horse and keep a spear in his hand. He gave me many things, and also a pair of every kind of livestock and said, Eat (of this), O Um Zar, and give provision to your relatives." She added, "Yet, all those things which my second husband gave me could not fill the smallest utensil of Abu Zar's." `Aisha then said: Allah's Apostle said to me, "I am to you as Abu Zar was to his wife Um Zar."
- Previous Hadith
- Hadith No. 5189 of 7558
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
نکاح کے مسائل کا بیان سے مزید احادیث
حدیث نمبر 5080
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عرض کیا کہ` میں نے شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کس سے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5181
´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ` انہوں نے ایک چھوٹا سا گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ جب نبی کریم مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5154
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمیدی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور مسلمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ (کھانے سے فراغت کے بعد) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5152
´ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ان سے زکریا نے جو ابوزائدہ کے صاحبزادے ہیں، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنی کسی (سوکن) بہن کی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5124
´امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے طلق بن غنام نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ بن قدام نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے مجاہد نے کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «فيما عرضتم» کی تفسیر میں کہا کہ کوئی شخص کسی ایسی عورت سے جو عدت میں ہو کہے کہ میرا ارادہ نکاح کا ہے اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5077
´ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمائیے اگر آپ کسی وادی میں اتریں اور اس میں ایک درخت ایسا ہو جس میں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5156
´ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میری والدہ (ام رومان بنت عامر) میرے پاس آئیں اور مجھے نبی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5122
´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کے متعلق سنا کہ` جب (ان کی صاحبزادی) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5166
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے تو ان کی عمر دس برس کی تھی۔ میری ماں اور بہنیں نبی کریم مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5104
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، کہا ہم کو ایوب سختیانی نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے (عبداللہ بن ابی ملیکہ نے) بیان کیا کہ` میں نے یہ حدیث خود ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5132
´ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون آئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5065
´ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ بن قیس نے بیان کیا کہ` میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ان سے عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں ملاقات کی اور کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! مجھے آپ سے ایک کام ہے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5126
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5168
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا جیسا ولیمہ اپنی بیویوں میں سے کسی کا نہیں کیا، ان کا ولیمہ آپ نے ایک بکری کا کیا تھا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5229
´مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے، آپ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کسی عورت پر مجھے اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی ام المؤمنین خدیجہ رضی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5230
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر فرما رہے تھے کہ ہشام بن مغیرہ جو ابوجہل ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5237
´ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت باہر نکلیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا اور پہچان گئے۔ پھر کہا: اے سودہ، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5082
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والی (عرب) عورتوں میں بہترین عورت قریش کی صالح عورت ہوتی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5216
´ہم سے فروہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی ایک کے قریب بھی بیٹھتے۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5070
´ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے محمد بن ابراہیم بن حارث نے، ان سے علقمہ بن وقاص نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو ..مکمل حدیث پڑھیئے