Hadith no 2256 Of Sahih Muslim Chapter Janaze Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Funeral)

Read Sahih Muslim Hadith No 2256 - Hadith No 2256 is from Problems And Commands About Funeral , Janaze Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 2256 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Funeral briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 2256 from Problems And Commands About Funeral in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 2256

Hadith No 2256
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Funeral
Roman Name Janaze Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الْجَنَائِزِ
Urdu Name جنازے کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ محمد بن قیس نے ایک دن کہا کہ کیا میں تم کو اپنی بیتی اور اپنی ماں کی بیتی سناؤں۔ اور ہم نے یہ خیال کیا کہ شاید ماں سے وہ مراد ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں تم کو اپنی بیتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیتی سناؤں؟ ہم نے کہا: ضرور۔ فرمایا: ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کروٹ لی اور اپنی چادر لی اور جوتے نکال کر اپنے پاؤں کے آگے رکھے اور چادر کا کنارہ اپنے بچھونے پر بچھایا، لیٹ رہے اور تھوڑی دیر اس خیال سے ٹھہرے رہے کہ گمان کر لیا کہ میں سو گئی۔ پھر آہستہ سے اپنی چادر لی اور آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے دروازہ کھولا اور آہستہ سے نکلے اور پھر آہستہ سے اس کو بند کر دیا۔ اور میں نے بھی اپنی چادر لی اور سر پر اوڑھی اور گھونگٹ مارا تہبند پہنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع پہنچے اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر دونوں ہاتھ اٹھائے تین بار۔ پھر لوٹے اور میں بھی لوٹی اور جلدی چلے اور میں بھی جلدی چلی۔ اور دوڑے اور میں بھی دوڑی۔ اور گھر آ گئے اور میں بھی گھر آ گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے آئی اور گھر میں آتے ہی لیٹ رہی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں آئے تو فرمایا: ”اے عائشہ! کیا ہوا تم کو کہ سانس پھول رہا ہے اور پیٹ پھولا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کیا کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ تم بتا دو، نہیں تو وہ باریک بین خبردار (یعنی اللہ تعالیٰ) مجھ کو خبر کر دے گا۔“ میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کالا کالا میرے آگے نظر آتا تھا وہ تم ہی تھیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر گھونسا مارا (یہ محبت سے تھا) کہ مجھے درد ہوا اور فرمایا: ”تو نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تیرا حق دبا لے گا۔ (یعنی تمھاری باری میں اور کسی بی بی کے پاس چلا جاؤں گا) تب میں نے کہا: جب لوگ کوئی چیز چھپاتے تو ہاں اللہ اس کو جانتا ہے (یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے کسی بی بی کے پاس جاتے بھی تو بھی اللہ دیکھتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے۔ جب تو نے دیکھا انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا تو میں نے بھی چاہا تم سے چھپاؤں۔ اور وہ تمہارے پاس نہیں آتے تھے کہ تم نے اپنا کپڑا اتار دیا تھا اور میں سمجھا کہ تم سو گئیں۔ تو میں نے برا جانا کہ تم کو جگاؤں اور یہ بھی خوف کیا کہ تم گھبراؤ گی کہ کہاں چلے گئے۔ پھر جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ تمہارا پروردگار حکم فرماتا ہے کہ تم بقیع کو جاؤ اور ان کے لئے مغفرت مانگو۔“ میں نے عرض کیا کہ میں کیو نکر کہوں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو سلام ہے ایماندار گھر والوں پر، اور مسلمانوں پر اللہ رحمت کرے ہم سے آگے جانے والوں پر اور پیچھے جانے والوں پر اور ہم، اللہ نے چاہا تو تم سے ملنے والے ہیں۔“

Hadith in Arabic

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ ، فَقَالَتْ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي ؟ ، قُلْنَا : بَلَى . ح وحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حَجَّاجًا الْأَعْوَرَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي ؟ ، قَالَ : فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : قَالَتْ : لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي ، انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ ، وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنْ قَدْ رَقَدْتُ ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا ، وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا ، فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ ، وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى إِثْرِهِ ، حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ ، فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ ، فَقَالَ : مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَا رَابِيَةً ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : لَا شَيْءَ ، قَالَ : " لَتُخْبِرِينِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي ، قُلْتُ : نَعَمْ فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي ، ثُمَّ قَالَ : أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ " ، قَالَتْ : مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي ، فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ ، وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ ، وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ ، وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي ، فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ ، قَالَتْ : قُلْتُ : كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ " .

Your Comments/Thoughts ?

جنازے کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 2188

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جلدی لے جاؤ جنازے کو اگر وہ نیک ہو گا تو اس کو خیر کے قریب کرو گے اور اگر وہ اس کے علاوہ ہو گا تو شر کو تم اپنی گردنوں سے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2222

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے پھر ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو یہودی عورت کا جنازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2132

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آدمی کو دیکھو کہ جب مر جاتا ہے تو آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا سبب ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2256

‏‏‏‏ محمد بن قیس نے ایک دن کہا کہ کیا میں تم کو اپنی بیتی اور اپنی ماں کی بیتی سناؤں۔ اور ہم نے یہ خیال کیا کہ شاید ماں سے وہ مراد ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں تم کو اپنی بیتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیتی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2233

‏‏‏‏ مسلم نے کہا اور روایت کی ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے، انہوں نے معاویہ سے انہی دونوں سندوں سے ابن وہب کی روایت کے مانند۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2205

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خبر دی ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی جس دن کہ انہوں نے انتقال کیا اور فرمایا: ”اپنے بھائی کے لئے مغفرت مانگو۔“ (یہ ہمدردی ہے)۔ ابن شہاب نے کہا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2197

‏‏‏‏ روایت کی قتادہ نے اسی اسناد سے مثل اوپر کی روایت کے اور سعید اور ہشام کی روایت میں ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا قیراط کا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احد پہاڑ کی مثل۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2145

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے بے ہوش ہو گئے اور لوگ ان پر چیخ کر رونے لگے۔ پھر جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ تم کو معلوم نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”زندہ کے رونے سے میت پر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2245

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اس سے کہ قبروں کو پختہ کریں، اور اس سے کہ اس پر بیٹھیں اور اس سے کہ ان پر گنبد بنائیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2123

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بیماروں کو جو قریب مرنے کے ہوں ان کو «لَا إِلَـٰہَ إِلَّا اللَّـہُ» سکھاؤ۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2226

‏‏‏‏ عمرو بن مرہ نے اسی اسناد سے اور اس میں یہ لفظ ہیں کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ایک جنازہ گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2168

‏‏‏‏ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم ان کی صاحبزادی کو نہلاتے تھے (یعنی ان کے جنازہ کو) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو نہلاؤ تین بار یا پانچ بار یا اس سے زیادہ اگر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2183

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفات پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمن کی ایک چادر اڑھا دی گئی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2229

‏‏‏‏ اور کہا مسلم رحمہ اللہ نے کہ روایت کی ہم سے بھی ابوکریب نے، ان سے ابوزائدہ نے، ان سے یحییٰ نے اسی اسناد سے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2209

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ایک بھائی کا انتقال ہو گیا، سو کھڑے ہو اور اس پر نماز پڑھو۔“ پھر ہم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صفیں باندھ دیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2189

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو حاضر رہے جنازہ پر جب تک کہ نماز پڑھی جائے اس کو قیراط کا ثواب ہے اور جو دفن تک حاضر رہے اس کو دو قیراط کا ثواب ہے۔“ راوی نے کہا: دو قیراط کتنے ہوتے ہیں؟ کہا: ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2150

‏‏‏‏ عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے انتقال کیا مکہ میں اور ہم آئے کہ ان کے جنازہ میں شریک ہوں اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی آئے اور میں ان دونوں کے بیچ میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ یوں ہوا کہ پہلے میں ایک صاحب کے پاس ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2177

‏‏‏‏ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ ہماری غرض یہ تھی کہ اللہ راضی ہو۔ سو ہماری مزدوری اللہ پر ہو چکی، سو تم میں سے کسی نے تو ایسا کیا کہ اس نے اپنی مزدوری کا کوئی حصہ دنیا میں نہ کھایا، ان ہی میں سے مصعب ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2141

‏‏‏‏ روایت کی شعبہ نے اسی اسناد سے مانند عثمان بن عمر کی روایت کے اور وہی قصہ بیان کیا اور عبدالصمد کی روایت میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے کہ وہ قبر کے پاس بیٹھی تھی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2129

‏‏‏‏ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بیمار کے پاس آؤ یا میت کے پاس تو اچھی بات کہو اس لئے کہ فرشتے آمین کہتے ہیں اس پر جو تم کہتے ہو۔“ کہتی ہیں کہ جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ..مکمل حدیث پڑھیئے