Hadith no 2452 Of Sahih Muslim Chapter Zakat Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Zakat)

Read Sahih Muslim Hadith No 2452 - Hadith No 2452 is from Problems And Commands About Zakat , Zakat Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 2452 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Zakat briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 2452 from Problems And Commands About Zakat in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 2452

Hadith No 2452
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Zakat
Roman Name Zakat Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الزَّكَاةِ
Urdu Name زکاۃ کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سونا بھیجا ایک چمڑے میں جو ببول کی چھال سے رنگا ہوا تھا اور مٹی بھی جدا نہیں ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار آدمیوں میں بانٹا۔ عیینہ بن بدر اور اقرع بن حابس اور زید خیل میں اور چوتھے علقمہ بن علاثہ تھے یا عامر بن طفیل تو ایک شخص نے آپ کے اصحاب میں سے کہا کہ ہم اس کے زیادہ حقدار تھے ان لوگوں سے اور یہ خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے امانتدار نہیں جانتے اور میں اس کا امانتدار ہوں جو آسمان کے اوپر ہے (یعنی اللہ تعالیٰ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر ہے نہ جیسا ملا عین جہمیہ جو مفسدانِ دین ہیں خیال کرتے ہیں اور برق و بجلی کی طرح اہل سنت پر کڑکتے ہیں کہ ذات مقدس ہر جگہ ہے «معاذ الله من ذلك» اور یہ ملاعین بیہودہ عقائد جہمیہ کو جان جہان جانتے ہیں اور عقیدہ انبیاء کو وہم و گمان سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے شر سے ہر بشر کو محفوظ رکھے) آتی ہے مجھے خبر آسمان کی صبح اور شام۔“ پھر ایک شخص کھڑا ہوا جس کی دونوں آنکھیں گھڑے میں گھسی ہوئی تھیں، دونوں گال پھولے ہوئے تھے، پیشانی ابھری ہوئی تھی، سر منڈا ہوا تھا، تہہ بند اٹھائے ہوئے کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے ڈر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرابی ہے تیری تو کیا سب زمین والوں سے بڑھ کر مستحق نہیں۔ اللہ سے ڈرنے کا۔“ (یعنی سب سے زیادہ تو تو ہے مستحق اس سے ڈرنے کا اس لئے کہ اس کے رسول سے بے ادبی کرتا ہے) پھر وہ شخص چلا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ ماروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں شاید یہ نماز پڑھتا ہو۔“ (معلوم ہوا کہ وہ اکثر حاضر باش خدمت مبارک بھی نہ تھا ورنہ ایسی حرکت سرزد نہ ہوتی) سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: بہت نماز پڑھنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ آپ اپنی زبان سے وہ باتیں کرتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم نہیں ہوا کہ کسی کا دل چیر کر دیکھوں، نہ یہ کہ کسی کیا پیٹ پھاڑوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی اصل سے ایسے لوگ نکلیں گے کہ وہ اللہ کی کتاب آسانی سے پڑھیں گے مگر گلے سے نیچے نہیں اترے گی (یہی حال ہے اہل بدعت کا یک شنبہ قرآن پرھیں گے مگر عقیدہ یہ رکھیں گے کہ قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے آدمی گمراہ ہو جاتا ہے پھر قرآن کا مضمون کیونکر گلے اترے) نکل جائیں گے دین سے جیسے تیر نکل جاتا ہے شکار سے۔“ (یعنی تمام اعمال صالحہ خیر و صدقات صلوٰۃ و زکوٰۃ حج و صیام سب کچھ بجا لاتے ہیں مگر شرک و بدعت کی شومی سے جو ان کے عقائد و اعمال میں گھسی ہوئی ہے کوئی نیکی قبول نہیں جیسے تیر نکل گیا تو اس میں خون بھی نہیں بھرتا) راوی نے کہا: میں گمان کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”اگر میں ان کو پاؤں تو ثمود کی طرح قتل کروں۔“

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ ، لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا ، قَالَ : فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ : بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ ، وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ ، وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ ، يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً " ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ ، فَقَالَ : " وَيْلَكَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ " ، قَالَ : ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ ، فَقَالَ : " لَا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي " ، قَالَ خَالِدٌ : وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ " ، قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا ، قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ ، كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " ، قَالَ : أَظُنُّهُ قَالَ : " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ " ،

Your Comments/Thoughts ?

زکاۃ کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 2358

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی باتوں سے منع فرمایا تھا اور فرمایا: ”جس نے منیحہ دیا، اس کے لئے ایک صدقہ کا ثواب صبح کو ہوا اور ایک شام کو، صبح کا صبح کے پینے سے، ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2377

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2342

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص صدقہ دیتا ہے پاک مال سے اور اللہ قبول نہیں کرتا مگر پاک مال کو(یعنی حلال کو) پھر جب کوئی پاک مال سے صدقہ دیتا ہے تو رحمٰن اپنے داہنے ہاتھ میں اس ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2355

‏‏‏‏ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم کو حکم ہوا صدقہ کا اور ہم بوجھ ڈھویا کرتے تھے اور صدقہ دیا ابوعقیل نے آدھا صاع (یعنی دو سیر) اور ایک شخص نے کچھ اس سے زیادہ دیا تو منافق کہنے لگے: اللہ کو اس کے صدقہ کی کچھ پروا نہیں ہے اور اس دوسرے نے تو صرف دکھانے ہی کو صدقہ دیا ہے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2322

‏‏‏‏ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خرچ کرتا ہے مسلمان اپنے گھر والوں پر اور اس میں ثواب کی امید رکھتا ہے تو وہ صدقہ ہے اس کے لیے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2350

‏‏‏‏ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزخ کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور تین بار منہ پھیرا اور فرمایا: ”بچو تم آگ سے اگرچہ ایک کھجور کا ٹکڑا دے کر ہو اور اگر وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کہہ کر۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2415

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آدمی کے وہ جنگل ہوں مال کے تو بھی وہ تیسرا ڈھونڈتا رہے اور پیٹ نہیں بھرتی آدمی کا مگر مٹی، اور رجوع ہوتا ہے اللہ کا اس پر جو توبہ کرے۔“ (یعنی جو دنیا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2282

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا صدقہ فطر کا رمضان کے بعد ہر ایک مسلمان پر آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا ایک صاع کھجور کا یا ایک صاع جَو کا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2285

‏‏‏‏ ترجمہ وہ جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2363

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خزانچی مسلمان امانت دار ہو جو خرچ کرتا ہو اور کبھی فرما دیتا ہو جس کا حکم ہوا ہو اور پوری رقم دیتا ہو (یعنی تحریر بٹہ رشوت نہ کاٹتا ہو) اور پوری خیرات ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2478

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر صدقہ کی نہ ہوتی تو میں کھا لیتا۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2289

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر ادا کر دیا جائے لوگوں کے نماز کو جانے سے پہلے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2391

‏‏‏‏ عمرو بن دینار نے وہب بن منبہ سے روایت کی اور کہا کہ میں ان کے گھر گیا صنعاء میں اور مجھے انہوں نے اپنے احاطہ کے جوز کھلائے اور ان کے بھائی نے روایت کی کہ میں نے سنا سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے انہوں نے کہا کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2455

‏‏‏‏ ابوسلمہ اور عطاء دونوں، ابوسعید کے پاس آئے اور کہا کہ حروریہ کے باب میں تم نے کچھ سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا کچھ ذکر کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا کہ حروریہ کون لوگ ہیں مگر میں نے آپ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2405

‏‏‏‏ سالم نے اپنے باپ سے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ مال دیا کرتے تھے اور میں کہتا تھا کہ جو مجھ سے زیادہ احتیاج رکھتا ہو اس کو عنایت کیجئیے یہاں تک کہ ایک بار مجھے آپ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2346

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے (یعنی صفات حدوث اور سمات نقص و زوال سے) اور نہیں قبول کرتا مگر پاک مال کو (یعنی حلال کو) اور اللہ پاک نے مؤمنوں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2477

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2479

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستہ میں پڑی ہوئی کھجور کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2402

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی لکڑی کا گٹھا لادے اپنی پیٹھ پر اور اس کو بیچے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے سوال کرنے سے کسی شخص سے کہ معلوم نہیں کہ وہ دے یا نہ دے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2328

‏‏‏‏ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نیکی صدقہ ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے