Hadith no 3336 Of Sahih Muslim Chapter Hajj Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Pilgrimage)
Read Sahih Muslim Hadith No 3336 - Hadith No 3336 is from Problems And Commands About Pilgrimage , Hajj Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 3336 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Pilgrimage briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 3336 from Problems And Commands About Pilgrimage in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 3336
| Hadith No | 3336 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Problems And Commands About Pilgrimage |
| Roman Name | Hajj Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الْحَجِّ |
| Urdu Name | حج کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
ابوسعید نے کہا کہ ہم کو مدینہ میں ایک بار محنت اور شامت فاقہ کو پہنچی اور میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ میں کثیر العیال ہوں اور ہم کو سختی پہنچی ہے اور میں نے ارادہ کیا ہے کہ اپنے عیال کو کسی ارزاں اور سرسبز ملک میں لے جاؤں۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مدینہ کو نہ چھوڑو اس لیے کہ ہم ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے میں گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے کہ یہاں تک کہ عسفان تک پہنچ گئے اور وہاں کئی شب ٹھہرے، سو لوگوں نے کہا: قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ ہم یہاں بے کار ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمارے عیال پیچھے چھٹے ہوئے ہیں اور ہم کو ان کے اوپر اطمینان نہیں (یعنی خوف ہے کہ کوئی دشمن نہ ستائے) اور یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کہ یہ کیا بات ہے جو مجھ کو پہنچی ہے؟۔“ راوی نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ کیا بات ہے؟ فرمایا: ”قسم ہے اس اللہ کی جس کی میں قسم کھاتا ہوں یا فرمایا: قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے البتہ میں نے ارادہ کیا یا فرمایا: اگر چاہو تم۔“ میں نہیں جانتا کہ کیا فرمایا ان دونوں باتوں میں سے۔ فرمایا: ”کہ البتہ حکم کروں میں اپنی اونٹنی کو کہ وہ کسی جائے اور پھر اس کی ایک گرہ بھی نہ کھولوں یہاں تک کہ داخل ہوں میں مدینہ میں۔“ اور فرمایا: ”کہ یا اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں نے مدینہ کو حرم ٹھہرایا دو گھاٹیوں یا دو پہاڑوں کے بیچ میں کہ نہ اس میں خون بہایا جائے اور نہ اس میں لڑائی کے لیے ہتھیار اٹھایا جائے، نہ اس میں کسی درخت کے پتے جھاڑے جائیں مگر صرف چارے کے لیے (کہ اس سے درخت کا چنداں نقصان نہیں ہوتا) (فرمایا) «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ» یا اللہ! برکت دے ہمارے شہر میں۔ یا اللہ! برکت دے ہماری چوسیری میں، یا اللہ! برکت دے ہمارے سیر میں، یا اللہ! برکت دے ہمارے شہر میں، یا اللہ برکت کے ساتھ دو برکتیں اور دے۔“ اور فرمایا: ”قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی گھاٹی اور کوئی ناکہ مدینہ کا ایسا نہیں ہے جس پر دو فرشتے نگہبان نہ ہوں جب تک کہ تم وہاں نہ پہنچو گے۔“ (یعنی جب تک وہ نگہبان رہیں گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوچ کرو۔“ اور ہم نے کوچ کیا اور مدینہ میں آئے سو ہم قسم کھاتے ہیں اس پروردگار کی جس کی ہمیشہ قسم کھایا کرتے ہیں یا کہا: جس کی قسم کھائی جاتی ہے۔ غرض حماد کو اس میں شک ہوا غرض جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے ابھی کجاوے اونٹوں پر سے نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر ڈاکہ ڈالا اور اس سے پہلے ان کی ہمت نہ ہوئی (کہ وہاں آ سکیں یہ تصدیق ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کی کہ فرشتے وہاں نگہبان ہیں)۔
Hadith in Arabic
حدثنا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ : أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ ، وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فقَالَ لَهُ : إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ ، وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ ، فقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : لَا تَفْعَلِ الْزَمِ الْمَدِينَةَ ، فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ : حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ ، فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ ، فقَالَ النَّاسُ : وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ ، مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ ، مَا أَدْرِي كَيْفَ ، قَالَ : " وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ ، أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ ، ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ ، فَجَعَلَهَا حَرَمًا ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا ، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ ، إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا " ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : " ارْتَحِلُوا " ، فَارْتَحَلْنَا ، فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ ، الشَّكُّ مِنْ : حَمَّادٍ مَا وَضَعَنْا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ ، وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ .
- Previous Hadith
- Hadith No. 3336 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
حج کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 3094
ایک اور روایت میں ہے کہ ہم نے عبداللہ بن اسود کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اس ذات سے سنا جس پر یہاں سورۃ البقرہ نازل ہوئی آپ فرما رہے تھے «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی تلبیہ پڑھی اور ہم نے آپ کے ساتھ پڑھی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3242
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کہ تم نے نہیں دیکھا کہ جب تمہاری قوم نے کعبہ بنایا تو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا۔“ سو میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3274
چند الفاظ کے فرق سے اس سند سے یہی حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2833
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں گویا دیکھ رہی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں چمک خوشبو کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لبیک پکار رہے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2992
نافع سے وہی مضمون مروی ہوا جو کئی بار اوپر گزرا اتنی بات زیادہ ہے کہ جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ میں آئے تو حج اور عمرہ دونوں کی لبیک پکارتے تھے اور بیت اللہ اور صفا مروہ کا ایک ہی بار طواف کیا۔ اور نہ قربانی کی اور نہ سر منڈایا، نہ بال کترائے اور نہ کسی چیز کو حلال کیا جن کو احرام ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3091
عبدالرحمٰن نے کہا کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہم سے مزدلفہ میں کہتے تھے کہ میں نے سنا ہے ان کو جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی ہے کہ وہ اس مقام میں لبیک پکارتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3133
اعمش نے کہا کہ میں نے حجاج سے سنا کہ وہ کہتا تھا کہ یوں نہ کہو سورۂ بقرہ اور بیان کی حدیث مثل ابن مسہر کی یعنی وہی روایت جو اوپر گزری۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2839
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ گویا میں دیکھتی ہوں چمک مشک کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3234
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2806
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ اور شام اور نجد والوں کی میقات ویسی ہی روایت کی اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میقات اہل یمن کی یلملم ہے۔“ مگر میں نے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3236
سالم بن عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ کعبہ میں گئے اور اسامہ اور بلال اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی اور کوئی ان کے ساتھ نہ گیا پھر دروازہ بند کر دیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خبر دی مجھے بلال رضی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3097
محمد بن ابوبکر ثقفی نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور دونوں منیٰ سے عرفات کو جاتے تھے کہ تم لوگ کیا کرتے تھے آج کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ؟ سو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کوئی ہم میں سے «لَا إِلَـٰہَ إِلَّا اللَّـہُ» ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3232
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس سال مکہ فتح ہوا سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوا کعبہ کے صحن میں آئے اور اونٹنی کو بٹھایا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”کنجی لاؤ۔“ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3354
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث روایت کی گئی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2891
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے وہی مضمون اوپر کا بیان کر کے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈا ڈالو اور ایک ٹوکرا غلہ چھ مسکینوں کو بانٹ دو (اور ٹوکرا تین صاع ہے اور صاع کی تحقیق کتاب الزکوٰۃ میں گزری) یا تین دن روزے رکھو یا ایک ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2953
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اسی میں حدیث یوں مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں آئے حجر اسود کو چوما اور تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عادت کے موافق چلے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2939
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں احرام عمرہ کا باندھا تھا اور حدیث روایت ہے مانند حدیث لیث کے اور اتنا زائد بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نرم دل تھے، جب ان سے سیدہ عائشہ رضی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3241
کہا مسلم رحمہ اللہ نے اور روایت کی ہم سے یہی حدیث ابوبکر بن ابوشیبہ نے اور ابوکریب نے، دونوں نے روایت کی ابن نمیر سے، انہوں نے ہشام سے یہی حدیث اسی سند سے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3058
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے انہوں نے کہا کہ مجھ سے بیان کرو۔ ابوالطفیل نے کہا: میں نے مروہ کے پاس ایک اونٹنی پر دیکھا اور لوگوں کا ان پر ہجوم تھا تو سیدنا ابن ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2998
وبرہ نے کہا کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں طواف کروں بیت اللہ کا اور میں نے حج کا احرام باندھا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ طواف سے تم کو کون روک سکتا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے فلانے کے فرزند کو دیکھا (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کو) کہ وہ اس کو مکروہ ..مکمل حدیث پڑھیئے