Hadith no 4668 Of Sahih Muslim Chapter Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe (Methods adopted by Prophet SAW about and during Jihad)
Read Sahih Muslim Hadith No 4668 - Hadith No 4668 is from Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad , Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 4668 of Imam Muslim covers the topic of Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 4668 from Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 4668
| Hadith No | 4668 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad |
| Roman Name | Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe |
| Arabic Name | الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ |
| Urdu Name | جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے |
Urdu Translation
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے خیبر کی طرف تو رات کو چلے۔ ایک شخص ہم میں سے بولا: اے عامر بن اکوع! (میرے بھائی کو) کچھ اپنے شعر نہیں سناتے (تاکہ راستہ کٹے اور جی نہ گھبرائے (نووی رحمہ اللہ نے کہا: شعر سب برے نہیں ہوتے، اس میں اچھے اور برے دونوں ہیں) اور عامر شاعر تھے، وہ اترے اور گا کر پڑھنے لگے۔ (نووی رحمہ اللہ نے کہا: سفر میں یہ مستحب ہے دل لگی کے لیے اور جانوروں کو خوش کرنے کے لیے۔ اونٹ اس گانے سے ایسا مست ہو جاتا ہے کہ اس کو چلنے کی تکان مطلق نہیں رہتی)۔ تو ہدایت گر نہ کرتا اے اللہ! کب نماز و صدقہ ہم کرتے ادا۔ ہم ہیں تجھ پر جان سے مالک فدا۔ بخش دے ہم سے ہوئیں جو کچھ خطا۔ کافروں سے جب کہ ہوئے سامنا۔ دے ہمارے پاؤں کو وہاں پر جما۔ اور تسلی اور تشفی دے خدا۔ ہم تو حاضر ہیں بلاتے ہیں سدا۔ صبح تٹرکے کافروں نے غل کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون ہانکنے والا ہے“ لوگوں نے عرض کیا، عامر بن الاکوع۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی اس پر رحم کرے۔“ ایک شخص بولا: اب وہ ضرور شہید ہو گا۔ یا رسول اللہ! آپ نے ہم کو اس سے فائدہ اٹھانے دیا ہوتا۔ سلمہ بن اکوع نے کہا: پھر ہم خیبر میں پہنچے اور ہم نے خیبر والوں کو گھیرا اور ہم کو بہت شدت کی بھوک لگی، بعد اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فتح کر دیا خیبر کو تمہارے ہاتھوں۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب وہ رات ہوئی جس کے دن کو خیبر فتح ہوا تو لوگوں نے بہت انگارے جلائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ انگار کیسے ہیں اور کیا پکاتے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: گوشت پکاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس کا گوشت۔“ انہوں نے کہا: بستی کے گدھوں کا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہا دو ان کو اور توڑ کر پھنیک دو ہانڈیوں کو۔“ ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! اگر گوشت پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھو ڈالیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا ایسا ہی کرو۔“ (تو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے بدل گئی اجتہاد سے یا وحی سے) پھر جب صف باندھی لوگوں نے تو عامر کی تلوار چھوٹی تھی وہ ایک یہودی کے پاؤں میں مارنے لگے تلوار خود ان کے لوٹ کر لگی گھٹنے میں اور وہ گئے اس زخم سے۔ جب لوگ لوٹے تو سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو چپ چپ دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے سلمہ! تیرا کیا حال ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر صدقے ہوں لوگ کہتے ہیں کہ عامر کا عمل لغو ہو گیا (کیونکہ وہ اپنے زخم سے آپ مرا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون کہتا ہے؟“ میں نے کہا فلانا، فلانا اور اسید بن حضیر انصاری۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے غلط کہا۔ عامر کو دوہرا ثواب ہوا۔“ (ایک تو اسلام اور عبادت کا دوسرے جہاد کا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملایا اور فرمایا کہ وہ جاہد ہے(یعنی کوشش کرنے ولا اللہ کی اطاعت میں) اورمجاہد ہے (یعنی جہاد کرنے ولا) ایسا کوئی عرب کم ہو گا جس نے ایسی لڑائی کی ہو اس کے مثل (یا اس کے مشابہ) کوئی عرب کم ہو گا۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، فَتَسَيَّرْنَا لَيْلًا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ : أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ ، وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا ، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا ، فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا اقْتَفَيْنَا ، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا ، وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ، إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هَذَا السَّائِقُ ؟ ، قَالُوا : عَامِرٌ ، قَالَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْكُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ ؟ ، فَقَالُوا : عَلَى لَحْمٍ ، قَالَ : أَيُّ لَحْمٍ ؟ ، قَالُوا : لَحْمُ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَوْ يُهْرِيقُوهَا وَيَغْسِلُوهَا ، فَقَالَ : أَوْ ذَاكَ ، قَالَ : فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ ، فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ ، فَأَصَابَ رُكْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ ، قَالَ : فَلَمَّا قَفَلُوا ، قَالَ سَلَمَةُ : وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي ، قَالَ : فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتًا ، قَالَ : مَا لَكَ ، قُلْتُ لَهُ : فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ ، قَالَ : مَنْ قَالَهُ ، قُلْتُ : فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : كَذَبَ ، مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ " ، قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ ، وَخَالَفَ قُتَيْبَةُ ، مُحَمَّدًا فِي الْحَدِيثِ فِي حَرْفَيْنِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّادٍ ، وَأَلْقِ سَكِينَةً عَلَيْنَا .
- Previous Hadith
- Hadith No. 4668 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے سے مزید احادیث
حدیث نمبر 4567
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت ہے جیسے آگے آتی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4624
عبداللہ بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم سفر کر کے معاویہ بن ابی سفیان کے پاس گئے اور ہم لوگوں میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے تو ہم میں سے ہر شخص ایک ایک دن کھانا تیار کرتا اپنے ساتھیوں کے لیے۔ ایک دن میری باری آئی میں نے کہا: اے ابوہریرہ! آج میری باری ہے وہ سب میرے ٹھکانے پر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4687
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4700
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے جب حرۃ الوبرہ (جو مدینہ سے چار میل پر ہے) میں پہنچے تو ایک شخص ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، جس کی بہادری اور اصالت کا شہرہ تھا۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4667
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں پہنچے تو یہ کہا: ”ہم جب اتریں کسی قوم کی زمین پر تو بری ہے صبح ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4671
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ان لوگوں نے ہجوم کیا ہم پر اور سرکشی کی (بخاری کی روایت میں بھی یہی ہے)۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4646
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر رہے تھے ایک پیغمبر کا حال ان کی قوم نے ان کو مارا تھا اور وہ اپنے منہ سے خون پونچھتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے: ”یا اللہ! میری قوم کو بخش دے وہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4578
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4673
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! نہیں ہے عیش مگر عیش آخرت کا اور بخش دے انصار اور مہاجرین کو۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4655
اسود بن قیس سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار میں تھے (قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا: یہ غلطی ہے غار کی جگہ غازی کا لفظ ہو گا یا غار سے مراد لشکر ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کو ٹھوکر لگی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4581
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما دونوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اپنا حصہ مانگتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مال میں سے اور وہ اس وقت طلب کرتے تھے فدک کی زمین اور خیبر کا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4534
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ”یہ فلانے کی دغا بازی ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4593
موسیٰ نے ان سندوں کے ساتھ یہ حدیث روایت کی اور ابن جریج کی روایت واضح اور مکمل ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4699
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جہاد میں اور ہم چھ آدمیوں میں ایک اونٹ تھا، باری باری اس پر چڑھتے تھے، آخر ہمارے پاؤں زخمی ہو گئے تو میرے دونوں پاؤں زخمی ہو گئے اور ناخن گر پڑے۔ ہم نے ان زخموں پر چیتھڑے لپیٹے، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4568
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جس سال حنین کی لڑائی ہوئی۔ جب ہم لوگ دشمنوں سے بھڑے تو مسلمانوں کو شکست ہوئی (یعنی کچھ مسلمان بھاگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کچھ آپ مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4605
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے ایک تھیلی پائی چربی کی خیبر کے دن۔ میں نے اس کو دبا لیا اور کہنے لگا، اس میں سے تو میں آج کسی کو نہ دوں گا پھر مڑ کر جو دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ سن کر) تبسم فرما رہے تھے میرے اس کہنے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4594
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ نکال دوں گا یہود اور نصاریٰ کو عرب کے جزیرہ سے۔ یہاں تک کہ نہیں رہنے دوں گا اس میں مگر مسلمانوں کو۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4696
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ جہاد کیے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4609
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ، قیصر، نجاشی اور ہر ایک حاکم کو لکھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے تھے ان کو، اور یہ نجاشی وہ نہیں تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازے کی نماز پڑھی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4620
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے (اور بعض نسخوں میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہے جو عاص کے بیٹے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھیر لیا طائف والوں کو اور نہیں حاصل کیا ان سے کچھ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ..مکمل حدیث پڑھیئے