Hadith no 936 Of Sahih Muslim Chapter Namaz Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Prayers)

Read Sahih Muslim Hadith No 936 - Hadith No 936 is from Problems And Commands About Prayers , Namaz Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 936 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Prayers briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 936 from Problems And Commands About Prayers in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 936

Hadith No 936
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Prayers
Roman Name Namaz Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الصَّلَاةِ
Urdu Name نماز کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضری دی اور عرض کیا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے واقعات بتائیں۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ارشاد ہوا: ”کیا لوگ نماز پڑھ چکے؟“ ہم نے کہا: جی نہیں۔ بلکہ وہ آپ کے منتظر ہیں۔ ارشاد ہوا ”ہمارے لئے لگن میں پانی رکھو۔“ ہم نے پانی رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا۔ اس کے بعد چلنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غش آ گیا۔ اور جب افاقہ ہوا تو پھر پوچھا: ”کیا لوگ نماز پڑھ چکے؟“ ہم نے کہا: جی نہیں۔ یا رسول اللہ! وہ سب آپ کے منتظر ہیں۔ فرمایا: ”ہمارے لئے طشت میں پانی رکھو۔“ چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلنے کے لئے تیار ہوئے لیکن دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غش آ گیا۔ اور پھر ہوش آنے کے بعد ارشاد ہوا: ”کیا لوگ نماز پڑھ چکے؟“ ہم نے عرض کیا جی نہیں۔ یا رسول اللہ! وہ سب لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اور ادھر لوگوں کی حالت یہ تھی کہ سب نماز عشاء کے لئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے مسجد میں منتظر تھے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کہلا بھیجا کہ آپ نماز پڑھائیں۔ چنانچہ اس آدمی نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نہایت نرم دل تھے (وہ جلد رونے لگتے تھے) اس لئے انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عمر! تم نماز پڑھا دو۔ جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں! آپ ہی امامت کے زیادہ مستحق ہیں اور آپ ہی کو نماز پڑھانے کے لئے حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کئی دن تک نماز پڑھائی۔ اس دوران ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ذرا ہلکی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کا سہارا لے کر نماز ظہر کے لئے مسجد میں تشریف لے گئے۔ ان دو آدمیوں میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے۔ (جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے) غرضیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اس وقت پہنچے جب کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بحیثیت امام نماز پڑھا رہے تھے۔ انہوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا: ”پیچھے نہ ہٹو۔“ اور اپنے ساتھ والوں سے فرمایا: ”مجھے ابوبکر کے برابر بٹھا دو۔“ چنانچہ ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے برابر بٹھا دیا۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے نماز پڑھنے لگے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ویسے ہی کھڑے کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں پیروی کرنے لگے (گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امام تھے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مقتدی) اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حسب سابق اس فرض نماز ظہر میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی پیروی کر رہے تھے۔ عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جا کر کہا: میں تم کو وہ حدیث سناتا ہوں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے سنائی ہے۔ اور ان کی طلب پہ میں نے پوری حدیث ان سے کہہ سنائی، جسے سننے کے بعد انہوں نے کہا: یہ پوری حدیث بالکل صحیح ہے۔ پھر پوچھا: دوسرے شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، کیا انکا نام ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں بتایا۔ میں نے جواب دیا جی نہیں۔ تو انہوں نے کہا: وہ دوسرے آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " ، قُلْنَا : لَا ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " ، فَفَعَلْنَا ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " قُلْنَا : لَا ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " ، فَفَعَلْنَا ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " ، قُلْنَا : لَا ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " ، فَفَعَلْنَا ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " ، فَقُلْنَا : لَا ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَتْ : وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ ، يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، قَالَتْ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا : يَا عُمَرُ ، صَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ ، قَالَتْ : فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ، ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ ، وَقَالَ لَهُمَا : أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ ، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : هَاتِ ، فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : هُوَ عَلِيٌّ .

Your Comments/Thoughts ?

نماز کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 1053

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ ہلکی اور پوری نماز پڑھتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 851

‏‏‏‏ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بیان کیا کہ مؤذن کی اذان سن کر جس نے یہ کہا: ” «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1042

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے پھر اپنے لوگوں میں آ کر وہی نماز پڑھاتے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1055

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بچے کا رونا سنتے جو اپنی ماں کے ساتھ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹی سورت پڑھتے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1101

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو دیکھا کہ وہ جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کے جوڑے کو کھولنے لگے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: تم نے میرا سر کیوں چھوا؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1009

‏‏‏‏ اس سند سے عبداللہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں اس جملہ تک ان کے انگاروں کے نشان اور اس کے بعد والے الفاظ ذکر نہیں کیے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1035

‏‏‏‏ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سورہَ طور کو مغرب کی نماز میں سنا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 923

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب زخمی ہو گئی، باقی گزشتہ حدیثوں کی طرح بیان کیا اس میں اضافہ یہ ہے کہ ”جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 861

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے مونڈھوں تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور اسی طرح رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے اور سجدوں کے درمیان میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 939

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب والد بزرگوار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تو میں نے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باز رکھنے کی کوشش کی کہ مجھے خیال ہوا کہ آپ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 929

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نماز پڑھائی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تکبیر کہتے ہمیں سنانے کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 942

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث نقل کی گئی ہے اور ان دونوں کی حدیث میں «ثقل» کے بجائے «مرض» کے الفاظ آتے ہیں باقی حدیث میں بھی چند الفاظ کا فرق ہے باقی معنی وہی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1074

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں) پردہ اٹھایا اور لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے کھڑے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 846

‏‏‏‏ ان اسناد سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 860

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا حدیث کی طرح فرمایا: ”آدمی کو خیال ہی نہیں رہتا کہ اس نے کیوں کر نماز پڑھی۔“ (یعنی اس کے منتشر خیالات میں اس کا دھیان بٹ جاتا ہے)۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1115

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن باہر نکلتے تو اپنے سامنے برچھا گاڑنے کا حکم فرماتے، پھر اس کی آڑ میں نماز پڑھتے۔ اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتے۔ اور یہ امر سفر میں کرتے۔ اسی وجہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 976

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ صفیں پوری کیا کرو کیونکہ میں تم کو پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1107

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ میں ہوتے اس وقت اگر بکری کا بچہ نکلنا چاہتا تو نکل جاتا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 885

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اتنے میں ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا: مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 866

‏‏‏‏ اس سند سے بھی گزشتہ روایت آئی مگر اس میں یہ لفظ زیادہ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کانوں کی لو تک لے گئے۔مکمل حدیث پڑھیئے