Hadith no 2021 Of Sunan Abi Dawud Chapter Aimaal Hajj Aur Uske Ehkaam O Masail (The Rites Of Pilgrimage-kitab Al-manasik Wal-hajj)
Read Sunan Abi Dawud Hadith No 2021 - Hadith No 2021 is from The Rites Of Pilgrimage-kitab Al-manasik Wal-hajj , Aimaal Hajj Aur Uske Ehkaam O Masail Chapter in the Sunan Abi Dawud Hadees Book, which is written by Imam Abu Dawood. Hadith # 2021 of Imam Abu Dawood covers the topic of The Rites Of Pilgrimage-kitab Al-manasik Wal-hajj briefly in Sunan Abi Dawud. You can read Hadith No 2021 from The Rites Of Pilgrimage-kitab Al-manasik Wal-hajj in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ابی داود - حدیث نمبر 2021
| Hadith No | 2021 |
|---|---|
| Book Name | Sunan Abi Dawud |
| Book Writer | Imam Abu Dawood |
| Writer Death | 275 ھ |
| Chapter Name | The Rites Of Pilgrimage-kitab Al-manasik Wal-hajj |
| Roman Name | Aimaal Hajj Aur Uske Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | المناسك |
| Urdu Name | اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
´بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ اس گھر کے لوگ نبیذ (کھجور کا شربت) پلاتے ہیں اور آپ کے چچا کے بیٹے (قریش) دودھ، شہد اور ستو پلاتے ہیں؟ کیا یہ لوگ بخیل یا محتاج ہیں؟ ابن عباس نے کہا: نہ ہم بخیل ہیں اور نہ محتاج، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز اپنی سواری پر بیٹھ کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ پیش کیا گیا، آپ نے اس میں سے پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا، تو انہوں نے بھی اس میں سے پیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا اور خوب کیا ایسے ہی کیا کرو“، تو ہم اسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا، اسے ہم بدلنا نہیں چاہتے۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ وَالسَّوِيقَ ، أَبُخْلٌ بِهِمْ أَمْ حَاجَةٌ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا بِنَا مِنْ بُخْلٍ وَلَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ ، وَلَكِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَدَفَعَ فَضْلَهُ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ " ، كَذَلِكَ فَافْعَلُوا ، فَنَحْنُ هَكَذَا لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
English Translation
Bakr bin Abdullah said “A man said to Ibn Abbas “What about the people of this House? They supply Nabidh to the public while their cousins provide milk, honey and mush (sawiq). Is this due to their niggardliness or need? Ibn Abbas replied “This is due neither to our niggardliness nor to our need, but the Messenger of Allah ﷺ (once) entered upon us on his riding beast and ‘Usamah bin Zaid was sitting behind him. The Messenger of Allah ﷺ called for drink. Nabidh was brought to him and he drank from it and gave its left over to Usamah bin Zaid who drank from it. The Messenger of Allah ﷺ then said “You have done a good and handsome deed and do it in a similar way. It is due to this we are doing so, we do not want to change what the Messenger of Allah ﷺhad said.
- Previous Hadith
- Hadith No. 2021 of 5274
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 1748
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کے بال شہد سے جمائے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1735
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` لوگ حج کے ابتدائی زمانے میں خرید و فروخت کرتے تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی روایت ان کے قول «مواسم الحج» تک ذکر کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1795
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` لوگوں نے انہیں کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے سنا آپ فرما رہے تھے: «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» ۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1989
´ام معقل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا لیکن ابومعقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا ہم بیمار پڑ گئے، اور ابومعقل رضی اللہ عنہ چل بسے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کو تشریف ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1929
´عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت پڑھی، تو مالک بن حارث نے ان سے کہا: یہ کون سی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ دونوں اسی جگہ ایک تکبیر سے پڑھیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1861
´اس سند سے بھی کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے` البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے «أى ذلك فعلت أجزأ عنك» ”اس میں سے تو جو بھی کر لو گے تمہارے لیے کافی ہے“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1905
´جعفر بن محمد اپنے والد محمد (محمد باقر) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ` ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنے والوں کے بارے میں (ہر ایک سے) پوچھا یہاں تک کہ جب مجھ تک پہنچے تو میں نے کہا: میں محمد بن علی بن حسین ہوں، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1858
´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے، پھر انہوں نے یہی قصہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے ساتھ دم دینے کا جانور ہے؟“، انہوں نے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1946
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم النحر کو منیٰ ان لوگوں میں بھیجا جو پکار رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے گا، اور حج ا کبر کا دن یوم النحر ہے اور حج اکبر سے مراد حج ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1923
´عروہ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ` اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں عرفات سے لوٹتے وقت کیسے چلتے تھے؟ فرمایا: تیز چال چلتے تھے، اور جب راستہ پا جاتے تو دوڑتے۔ ہشام کہتے ہیں: «نص»، «عنق» ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2008
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محصب میں صرف اس لیے اترے تاکہ آپ کے (مکہ سے) نکلنے میں آسانی ہو، یہ کوئی سنت نہیں، لہٰذا جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1844
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1823
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: ”نہ کرتا پہنے، نہ ٹوپی، نہ پائجامہ، نہ عمامہ (پگڑی)، نہ کوئی ایسا کپڑا جس میں ورس ۱؎ یا زعفران لگا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1930
´سعید بن جبیر اور عبداللہ بن مالک سے روایت ہے` وہ دونوں کہتے ہیں: ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب و عشاء ایک اقامت سے پڑھیں، پھر راوی نے ابن کثیر کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1824
´اس سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے` اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2002
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` لوگ ہر جانب سے (مکہ سے) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (طواف وداع) ہو ۱؎مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2044
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں جو ذی الحلیفہ میں ہے اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1895
´ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے (جنہوں نے قران کیا تھا) صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک ہی سعی کی اپنے پہلے طواف کے وقت۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1950
´عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ موقف یعنی مزدلفہ میں تھے، میں نے عرض کیا: میں طی کے پہاڑوں سے آ رہا ہوں، میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا مارا، اور خود کو بھی تھکا دیا، اللہ کی قسم راستے میں کوئی ایسا ٹیکرہ نہیں آیا جس پر میں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1964
´زہری سے روایت ہے کہ` عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز (اصل میں) چار رکعت ہی ہے (نہ کہ دو، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے)۔مکمل حدیث پڑھیئے