Hadith no 3612 Of Sunan Abi Dawud Chapter Qaza Ke Mutaliq Ehkaam O Masail (The Office Of The Judge-Kitab Al-aqdiyah)
Read Sunan Abi Dawud Hadith No 3612 - Hadith No 3612 is from The Office Of The Judge-Kitab Al-aqdiyah , Qaza Ke Mutaliq Ehkaam O Masail Chapter in the Sunan Abi Dawud Hadees Book, which is written by Imam Abu Dawood. Hadith # 3612 of Imam Abu Dawood covers the topic of The Office Of The Judge-Kitab Al-aqdiyah briefly in Sunan Abi Dawud. You can read Hadith No 3612 from The Office Of The Judge-Kitab Al-aqdiyah in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ابی داود - حدیث نمبر 3612
| Hadith No | 3612 |
|---|---|
| Book Name | Sunan Abi Dawud |
| Book Writer | Imam Abu Dawood |
| Writer Death | 275 ھ |
| Chapter Name | The Office Of The Judge-Kitab Al-aqdiyah |
| Roman Name | Qaza Ke Mutaliq Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الأقضية |
| Urdu Name | قضاء کے متعلق احکام و مسائل |
Urdu Translation
´زبیب عنبری کہتے ہیں کہ` اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ ۱؎ میں گرفتار کر لیا، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کر لیا، حالانکہ ہم مسلمان ہو چکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے ۲؎، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون تمہارا گواہ ہے؟“ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کر دیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟“ میں نے کہا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہو چکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کر لو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کی کوششیں بیکار ہونا برا نہ جانتا تو ہم تمہارے مال سے ایک رسی بھی نہ لیتے“۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا توشک چھین لیا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے (صورت حال) بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اسے پکڑ لاؤ“ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: ”تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟“ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: ”تو اس کی والدہ کا توشک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے“ اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: ”جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو“ وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے (تلوار کے علاوہ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ شُعَيْثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْبِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي الزُّبَيْبَ ، يَقُولُ : " بَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى بَنِي الْعَنْبَرِ ، فَأَخَذُوهُمْ بِرُكْبَةَ مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ فَاسْتَاقُوهُمْ ، إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكِبْتُ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، أَتَانَا جُنْدُكَ فَأَخَذُونَا ، وَقَدْ كُنَّا أَسْلَمْنَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ ، فَلَمَّا قَدِمَ بَلْعَنْبَرِ ، قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكُمْ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّكُمْ أَسْلَمْتُمْ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : مَنْ بَيِّنَتُكَ ؟ ، قُلْتُ : سَمُرَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ ، وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ لَهُ ، فَشَهِدَ الرَّجُلُ ، وَأَبَى سَمُرَةُ أَنْ يَشْهَدَ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَبَى أَنْ يَشْهَدَ لَكَ فَتَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِكَ الْآخَرِ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَاسْتَحْلَفَنِي ، فَحَلَفْتُ بِاللَّهِ ، لَقَدْ أَسْلَمْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبُوا ، فَقَاسِمُوهُمْ أَنْصَافَ الْأَمْوَالِ ، وَلَا تَمَسُّوا ذَرَارِيَّهُمْ ، لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ ضَلَالَةَ الْعَمَلَ مَا رَزَيْنَاكُمْ عِقَالًا ، قَالَ الزُّبَيْبُ : فَدَعَتْنِي أُمِّي ، فَقَالَتْ : هَذَا الرَّجُلُ أَخَذَ زِرْبِيَّتِي ، فَانْصَرَفْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَخْبَرْتُه ، فَقَالَ لِي : احْبِسْهُ ، فَأَخَذْتُ بِتَلْبِيبِهِ ، وَقُمْتُ مَعَهُ مَكَانَنَا ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمَيْنِ ، فَقَالَ : مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ ؟ ، فَأَرْسَلْتُهُ مِنْ يَدِي ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ : رُدَّ عَلَى هَذَا زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ الَّتِي أَخَذْتَ مِنْهَا ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّهَا خَرَجَتْ مِنْ يَدِي ، قَالَ : فَاخْتَلَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَ الرَّجُلِ فَأَعْطَانِيهِ ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ : اذْهَبْ فَزِدْهُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ ، قَالَ : فَزَادَنِي آصُعًا مِنْ شَعِيرٍ " .
English Translation
Narrated Zubayb ibn Thalabah al-Anbari: The Messenger of Allah ﷺ sent an army to Banu al-Anbar. They captured them at Rukbah in the suburbs of at-Taif and drove them to the Holy Prophet ﷺ. I rode hurriedly to the Holy Prophet ﷺ and said: Peace be on you, Messenger of Allah, and the mercy of Allah and His blessings. Your contingent came to us and arrested us, but we had already embraced Islam and cut the sides of the ears of our cattle. When Banu al-Anbar arrived, the Holy Prophet ﷺ said to me: Have you any evidence that you had embraced Islam before you were captured today? I said: Yes. He said: Who is your witness? I said: Samurah, a man from Banu al-Anbar, and another man whom he named. The man testified but Samurah refused to testify. The Holy Prophet ﷺ said: He (Samurah) has refused to testify for you, so take an oath with your other witness. I said: Yes. He then dictated an oath to me and I swore to the effect that we had embraced Islam on a certain day, and that we had cut the sides of the ears of the cattle. The Holy Prophet ﷺ said: Go and divide half of their property, but do not touch their children. Had Allah not disliked the wastage of action, we should not have taxed you even a rope. Zubayb said: My mother called me and said: This man has taken my mattress. I then went to the Holy Prophet ﷺ and informed him. He said to me: Detain him. So I caught him with a garment around his neck, and stood there with him. Then the Holy Prophet ﷺ looked at us standing there. He asked: What do you intend (doing) with your captive? I said: I shall let him go free if he returns to this (man) the mattress of his mother which he has taken from her. He said: Prophet of Allah ﷺ, I no longer have it. He said: The Holy Prophet ﷺ took the sword of the man and gave it to me, and said to him: Go and give him some sa's of cereal. So he gave me some sa's of barley.
- Previous Hadith
- Hadith No. 3612 of 5274
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
قضاء کے متعلق احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 3576
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` آیت کریمہ «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون» ”جو اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں“ اللہ تعالیٰ کے قول «الفاسقون» سورة المائدة: (۴۴، ۴۵، ۴۷) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3613
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3633
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی راستہ کے متعلق جھگڑو تو سات ہاتھ راستہ چھوڑ دو ۱؎“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3624
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا: ”میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی کہ تم لوگ زانی کے متعلق تورات میں کیا حکم پاتے ہو“۔ اور راوی نے واقعہ رجم سے متعلق ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3640
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` دو شخص ایک کھجور کے درخت کی حد کے سلسلے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک روایت میں ہے آپ نے اس کے ناپنے کا حکم دیا جب ناپا گیا تو وہ سات ہاتھ نکلا، اور دوسری روایت میں ہے وہ پانچ ہاتھ نکلا تو آپ نے اسی کا فیصلہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3619
´ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے میرے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ کیا ہے (یعنی جب وہ منکر ہو اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو وہ قسم کھائے)۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3591
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` جب یہ آیت «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» ”جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کریں یا نہ کریں“ (سورۃ المائدہ: ۴۲) «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» ”اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3583
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں انسان ہی ہوں ۱؎، تم اپنے مقدمات کو میرے پاس لاتے ہو، ہو سکتا ہے کہ تم میں کچھ لوگ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی دلیل زیادہ بہتر طریقے سے پیش کرنے والے ہوں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3615
´اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3587
´معاذ بن معاذ کہتے ہیں` ابوعثمان شامی نے مجھے خبر دی اور میری نظر میں ان سے (یعنی حریز بن عثمان سے) کوئی شامی افضل نہیں ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3635
´ابوصرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ اسے تکلیف پہنچائے گا، اور جس نے کسی سے دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی کرے گا“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3581
´عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں سے جو شخص کسی کام پر ہمارا عامل مقرر کیا گیا، پھر اس نے ہم سے ان (محاصل) میں سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائی تو وہ چوری ہے، اور وہ قیامت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3588
´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں حاکم کے سامنے بیٹھیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3600
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3609
´اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` سلمہ نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ: عمرو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حقوق میں تھا (نہ کہ حدود میں)۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3629
´حبیب تمیمی عنبری سے روایت ہے کہ` ان کے والد نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک قرض دار کو لایا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”اس کو پکڑے رہو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے بنو تمیم ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3601
´اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی، زانی مرد اور زانیہ عورت کی اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص کی گواہی جائز نہیں“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3628
´شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی ہتک عزتی اور سزا کو جائز کر دیتا ہے“۔ ابن مبارک کہتے ہیں: ہتک عزتی سے مراد اسے سخت سست کہنا ہے، اور سزا سے مراد اسے قید کرنا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3595
´کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3607
´عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ان کے چچا نے ان سے بیان کیا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا، آپ اسے اپنے ساتھ لے آئے تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے