Hadith no 4503 Of Sunan Abi Dawud Chapter Diyaton Ka Bayan (Types Of Blood-wit-kitab Al-diyat)
Read Sunan Abi Dawud Hadith No 4503 - Hadith No 4503 is from Types Of Blood-wit-kitab Al-diyat , Diyaton Ka Bayan Chapter in the Sunan Abi Dawud Hadees Book, which is written by Imam Abu Dawood. Hadith # 4503 of Imam Abu Dawood covers the topic of Types Of Blood-wit-kitab Al-diyat briefly in Sunan Abi Dawud. You can read Hadith No 4503 from Types Of Blood-wit-kitab Al-diyat in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ابی داود - حدیث نمبر 4503
| Hadith No | 4503 |
|---|---|
| Book Name | Sunan Abi Dawud |
| Book Writer | Imam Abu Dawood |
| Writer Death | 275 ھ |
| Chapter Name | Types Of Blood-wit-kitab Al-diyat |
| Roman Name | Diyaton Ka Bayan |
| Arabic Name | الديات |
| Urdu Name | دیتوں کا بیان |
Urdu Translation
´زبیر بن عوام اور ان والد عوام رضی اللہ عنہما (یہ دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے) سے روایت ہے کہ` محلم بن جثامہ لیثی نے اسلام کے زمانے میں قبیلہ اشجع کے ایک شخص کو قتل کر دیا، اور یہی پہلی دیت ہے جس کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، تو عیینہ نے اشجعی کے قتل کے متعلق گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ عطفان سے تھا، اور اقرع بن حابس نے محلم کی جانب سے گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ خندف سے تھا تو آوازیں بلند ہوئیں، اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے؟“ عیینہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، اس وقت تک نہیں جب تک میں اس کی عورتوں کو وہی رنج و غم نہ پہنچا دوں جو اس نے میری عورتوں کو پہنچایا ہے، پھر آوازیں بلند ہوئیں اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے؟“ عیینہ نے پھر اسی طرح کی بات کہی یہاں تک کہ بنی لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے مکیتل کہا جاتا تھا، وہ ہتھیار باندھے تھا اور ہاتھ میں سپر لیے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شروع اسلام میں اس نے جو غلطی کی ہے، اسے میں یوں سمجھتا ہوں جیسے چند بکریاں چشمے پر آئیں اور ان پر تیر پھینکے جائیں تو پہلے پہل آنے والیوں کو تیر لگے، اور پچھلی انہیں دیکھ کر ہی بھاگ جائیں، آج ایک طریقہ نکالئے اور کل اسے بدل دیجئیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچاس اونٹ ابھی فوراً دے دو، اور پچاس مدینے لوٹ کر دینا“۔ اور یہ واقعہ ایک سفر کے دوران پیش آیا تھا، محلم لمبا گندمی رنگ کا ایک شخص تھا، وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا، آخر کار جب وہ چھوٹ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ بیٹھا، اور اس کی آنکھیں اشک بار تھیں اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے گناہ کیا ہے جس کی خبر آپ کو پہنچی ہے، اب میں توبہ کرتا ہوں، آپ اللہ سے میری مغفرت کی دعا فرمائیے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ آواز بلند فرمایا: ”کیا تم نے اسے ابتداء اسلام میں اپنے ہتھیار سے قتل کیا ہے، اے اللہ! محلم کو نہ بخشنا“ ابوسلمہ نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ یہ سن کر محلم کھڑا ہوا، وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں: محلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کا کہنا ہے کہ «غير» کے معنی دیت کے ہیں۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضُمَيْرَةَ الضُّمَرِيَّ . ح وأَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ السُّلَمِيَّ ، وَهَذَا حَدِيثُ وَهْبٍ وَهُوَ أَتَمُ ، يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ مُوسَى ، وَجَدِّهِ ، وَكَانَا شَهِدَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى حَدِيثِ وَهْبٍ : أَنْ مُحَلِّمَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ فِي الْإِسْلَامِ وَذَلِكَ أَوَّلُ غِيَرٍ قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمَ عُيَيْنَةُ فِي قَتْلِ الْأَشْجَعِيِّ لِأَنَّهُ مِنْ غَطَفَانَ وَتَكَلَّمَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ دُونَ مُحَلِّمٍ لِأَنَّهُ مِنْ خِنْدِفَ ، فَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَكَثُرَتِ الْخُصُومَةُ وَاللَّغَطُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُيَيْنَةُ أَلَا تَقْبَلُ الْغِيَرَ ؟ فَقَالَ عُيَيْنَةُ : لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُدْخِلَ عَلَى نِسَائِهِ مِنَ الْحَرْبِ وَالْحُزْنِ مَا أَدْخَلَ عَلَى نِسَائِي ، قَالَ : ثُمَّ ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَكَثُرَتِ الْخُصُومَةُ وَاللَّغَطُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُيَيْنَةُ أَلَا تَقْبَلُ الْغِيَرَ ؟ فَقَالَ عُيَيْنَةُ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا ، إِلَى أَنْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ عَلَيْهِ شِكَّةٌ وَفِي يَدِهِ دَرِقَةٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَجِدْ لِمَا فَعَلَ هَذَا فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ مَثَلًا إِلَّا غَنَمًا وَرَدَتْ فَرُمِيَ أَوَّلُهَا فَنَفَرَ آخِرُهَا اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَمْسُونَ فِي فَوْرِنَا هَذَا وَخَمْسُونَ إِذَا رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ وَذَلِكَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَمُحَلِّمٌ رَجُلٌ طَوِيلٌ آدَمُ وَهُوَ فِي طَرَفِ النَّاسِ ، فَلَمْ يَزَالُوا حَتَّى تَخَلَّصَ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي بَلَغَكَ وَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقَتَلْتَهُ بِسِلَاحِكَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ ! اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ بِصَوْتٍ عَالٍ ، زَادَ أَبُو سَلَمَةَ : فَقَامَ وَإِنَّهُ لَيَتَلَقَّى دُمُوعَهُ بِطَرَفِ رِدَائِهِ " ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاق : فَزَعَمَ قَوْمُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ : الْغِيَرُ الدِّيَةُ .
English Translation
Narrated Ziyad ibn Saad ibn Dumayrah as-Sulami: On the authority of his father (Saad) and his grandfather (Dumayrah) (according to Musa's version) who were present in the battle of Hunayn with the Messenger of Allah ﷺ: After the advent of Islam, Muhallam ibn Jaththamah al-Laythi killed a man of Ashja. That was the first blood-money decided by the Messenger of Allah ﷺ (for payment). Uyaynah spoke about the killing of al-Ashjai, for he belonged to Ghatafan, and al-Aqra ibn Habis spoke on behalf of Muhallam, for he belonged to Khunduf. The voices rose high, and the dispute and noise grew. So the Messenger of Allah ﷺ said: Do you not accept blood-money, Uyaynah? Uyaynah then said: No, I swear by Allah, until I cause his women to suffer the same fighting and grief as he caused my women to suffer. Again the voices rose high, and the dispute and noise grew. The Messenger of Allah ﷺ said: Do you not accept the blood-money Uyaynah? Uyaynah gave the same reply as before, and a man of Banu Layth called Mukaytil stood up. He had a weapon and a skin shield in his hand. He said: I do not find in the beginning of Islam any illustration for what he has done except the one that "some sheep came on, and those in the front were shot; hence those in the rear ran away". (The other example is that) "make a law today and change it. " The Messenger of Allah ﷺ said: Fifty (camels) here immediately and fifty when we return to Madina. This happened during some of his journeys. Muhallam was a tall man of dark complexion. He was with the people. They continued (to make effort for him) until he was released. He sat before the Messenger of Allah ﷺ, with his eyes flowing. He said: Messenger of Allah! I have done (the act) of which you have been informed. I repent to Allah, the Exalted, so ask Allah's forgiveness for me. Messenger of Allah! The Messenger of Allah ﷺ then said: Did you kill him with your weapon at the beginning of Islam. O Allah! do not forgive Muhallam. He said these words loudly. Abu Salamah added: He (Muhallam) then got up while he was wiping his tears with the end of his garment. Ibn Ishaq said: His people alleged that the Messenger of Allah ﷺ asked forgiveness for him after that. Abu Dawud said: Al-Nadr bin Shumail said: al-ghiyar means blood-wit.
- Previous Hadith
- Hadith No. 4503 of 5274
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
دیتوں کا بیان سے مزید احادیث
حدیث نمبر 4594
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ باطل ہے ۱؎“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4537
´ابوفراس کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا: ”میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا“ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4528
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک یہودی نے انصار کی ایک لونڈی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کر دیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4507
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے ہرگز نہیں معاف کروں گا ۱؎ جو دیت لینے کے بعد بھی (قاتل کو) قتل کر دے“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4505
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: ”جس کا کوئی قتل کیا گیا تو اسے اختیار ہے یا تو دیت لے لے، یا قصاص میں قتل کرے“ یہ سن کر یمن کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4530
´قیس بن عباد سے کہتے ہیں کہ` میں اور اشتر دونوں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص بات بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو؟ وہ بولے: نہیں، سوائے اس چیز کے جو میری اس کتاب میں ہے۔ مسدد کہتے ہیں: پھر انہوں نے ایک کتاب نکالی، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4546
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` بنی عدی کے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار ٹھہرائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4571
´عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ زبیر سے روایت کیا ہے کہ عمر نے کہا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4542
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت ۱؎ آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4589
´اس سند سے بھی خالد` سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4496
´ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو (اپنے کسی رشتہ دار کے) قتل ہونے، یا زخمی ہونے کی تکلیف پہنچی ہو اسے تین میں سے ایک چیز کا اختیار ہو گا: یا تو قصاص لے لے، یا معاف کر دے، یا دیت لے لے، اگر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4557
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں تمام برابر ہیں“ میں نے عرض کیا، کیا ہر انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4500
´اس سند سے بھی` علقمہ بن وائل سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4515
´سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے، اور جو اس کے اعضاء کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4578
´بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک عورت نے دوسری عورت کو پتھر مارا تو اس کا حمل گر گیا، یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے اس بچہ کی دیت پانچ سو بکریاں مقرر فرمائی، اور لوگوں کو پتھر مارنے سے اسی دن سے منع فرما دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت اسی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4545
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل خطا کی دیت میں بیس حقے، بیس جزعے، بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض ہیں“ اور یہی عبداللہ بن مسعود کا قول ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4523
´بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ` سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہو گئے، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا: تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، وہ کہنے لگے: ہم نے قتل نہیں کیا ہے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4501
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص ایک حبشی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اس نے میرے بھتیجے کو قتل کیا ہے، آپ نے اس سے پوچھا: ”تم نے اسے کیسے قتل کر دیا؟“ وہ بولا: میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری اور وہ مر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4588
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا: ”سنو! جاہلیت کے خون یا مال کی جتنی فضیلتیں بھی تھیں جن کا ذکر کیا جاتا تھا یا جن کے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے قدموں تلے ہیں، سوائے حاجیوں کو ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4569
´اس سند سے منصور سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول عورت کی دیت قاتل عورت کے عصبات پر ٹھہرائی، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ (غلام یا لونڈی) ٹھہرایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح حکم نے مجاہد سے مجاہد ..مکمل حدیث پڑھیئے