Hadith no 4753 Of Sunan Abi Dawud Chapter Sunnaton Ka Bayan (Model Behavior Of The Prophet-kitab Al-sunnah)
Read Sunan Abi Dawud Hadith No 4753 - Hadith No 4753 is from Model Behavior Of The Prophet-kitab Al-sunnah , Sunnaton Ka Bayan Chapter in the Sunan Abi Dawud Hadees Book, which is written by Imam Abu Dawood. Hadith # 4753 of Imam Abu Dawood covers the topic of Model Behavior Of The Prophet-kitab Al-sunnah briefly in Sunan Abi Dawud. You can read Hadith No 4753 from Model Behavior Of The Prophet-kitab Al-sunnah in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ابی داود - حدیث نمبر 4753
| Hadith No | 4753 |
|---|---|
| Book Name | Sunan Abi Dawud |
| Book Writer | Imam Abu Dawood |
| Writer Death | 275 ھ |
| Chapter Name | Model Behavior Of The Prophet-kitab Al-sunnah |
| Roman Name | Sunnaton Ka Bayan |
| Arabic Name | السنة |
| Urdu Name | سنتوں کا بیان |
Urdu Translation
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ابھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو“ اسے دو بار یا تین بار فرمایا، یہاں جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: اور فرمایا: ”اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں، اسی وقت اس سے پوچھا جاتا ہے، اے جی! تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟“ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا رب (معبود) کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے، میرا رب (معبود) اللہ ہے، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر پوچھتے ہیں: یہ کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا“ جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے: ”اللہ تعالیٰ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا» سے یہی مراد ہے“ (پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے“۔ اور رہا کافر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا (لو) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں“ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”پھر اس پر ایک اندھا گونگا (فرشتہ) مقرر کر دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہو جائے، چنانچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہو جاتا ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے“۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَهَذَا لَفْظُ هَنَّادٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ ، وَلَمَّا يُلْحَدْ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ هَاهُنَا ، وَقَالَ : وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ ، حِينَ يُقَالُ لَهُ : يَا هَذَا ، مَنْ رَبُّكَ ؟ وَمَا دِينُكَ ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ ؟ قَالَ هَنَّادٌ : قَالَ : وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ ، فَيُجْلِسَانِهِ ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُكَ ؟ فَيَقُولُ : دِينِيَ الْإِسْلَامُ ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولَانِ : وَمَا يُدْرِيكَ ؟ فَيَقُولُ : قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ ، فَآمَنْتُ بِهِ ، وَصَدَّقْتُ ، زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، قَالَ : فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ قَدْ صَدَقَ عَبْدِي ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا ، قَالَ : وَيُفْتَحُ لَهُ فِيهَا مَدَّ بَصَرِهِ ، قَالَ : وَإِنَّ الْكَافِرَ ، فَذَكَرَ مَوْتَهُ ، قَالَ : وَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُكَ ؟ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي ، فَيَقُولَانِ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي ، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ ، قَالَ : فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا ، وَسَمُومِهَا ، قَالَ : وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ " زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، قَالَ : ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى ، أَبْكَمُ مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا ، قَالَ : فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ ، فَيَصِيرُ تُرَابًا ، قَالَ : ثُمَّ تُعَادُ فِيهِ الرُّوحُ ".
English Translation
Narrated Al-Bara ibn Azib: We went out with the Messenger of Allah ﷺ accompanying the bier of a man of the Ansar. When we reached his grave, it was not yet dug. So the Messenger of Allah ﷺ sat down and we also sat down around him as if birds were over our heads. He had in his hand a stick with which he was scratching the ground. He then raised his head and said: Seek refuge with Allah from the punishment in the grave. He said it twice or thrice. The version of Jabir adds here: He hears the beat of their sandals when they go back, and at that moment he is asked: O so and so! Who is your Lord, what is your religion, and who is your Prophet? Hannad's version says: Two angels will come to him, make him sit up and ask him: Who is your Lord? He will reply: My Lord is Allah. They will ask him: What is your religion? He will reply: My religion is Islam. They will ask him: What is your opinion about the man who was sent on a mission among you? He will reply: He is the Messenger of Allah ﷺ. They will ask: Who made you aware of this? He will reply: I read Allah's Book, believed in it, and considered it true; which is verified by Allah's words: "Allah's Book, believed in it, and considered it true, which is verified by Allah's words: "Allah establishes those who believe with the word that stands firm in this world and the next. " The agreed version reads: Then a crier will call from Heaven: My servant has spoken the truth, so spread a bed for him from Paradise, clothe him from Paradise, and open a door for him into Paradise. So some of its air and perfume will come to him, and a space will be made for him as far as the eye can see. He also mentioned the death of the infidel, saying: His spirit will be restored to his body, two angels will come to him, make him sit up and ask him: Who is your Lord? He will reply: Alas, alas! I do not know. They will ask him: What is your religion? He will reply: Alas, alas! I do not know. They will ask: Who was the man who was sent on a mission among you? He will reply: Alas, alas! I do not know. Then a crier will call from Heaven: He has lied, so spread a bed for him from Hell, clothe him from Hell, and open for him a door into Hell. Then some of its heat and pestilential wind will come to him, and his grave will be compressed, so that his ribs will be crushed together. Jabir's version adds: One who is blind and dumb will then be placed in charge of him, having a sledge-hammer such that if a mountain were struck with it, it would become dust. He will give him a blow with it which will be heard by everything between the east and the west except by men and jinn, and he will become dust. Then his spirit will be restored to him.
- Previous Hadith
- Hadith No. 4753 of 5274
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
سنتوں کا بیان سے مزید احادیث
حدیث نمبر 4749
´عبدالسلام بن ابی حازم ابوطالوت بیان کرتے ہیں کہ` میں نے ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ عبیداللہ بن زیاد کے ہاں گئے، پھر مجھ سے فلاں شخص نے بیان کیا جو ان کی جماعت میں شریک تھا، (مسلم نے اس کا نام ذکر کیا ہے) جب انہیں عبیداللہ نے دیکھا تو بولا: دیکھو تمہارا یہ محمدی موٹا ٹھگنا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4621
´ابن عون کہتے ہیں کہ` میں ملک شام میں چل رہا تھا تو ایک شخص نے پیچھے سے مجھے پکارا جب میں مڑا تو دیکھا رجاء بن حیوہ ہیں، انہوں نے کہا: اے ابوعون! یہ کیا ہے جو لوگ حسن کے بارے میں ذکر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: لوگ حسن پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4670
´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4751
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے کھجور کے ایک باغ میں داخل ہوئے، تو ایک آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا اٹھے، فرمایا: ”یہ قبریں کس کی ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: زمانہ جاہلیت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4768
´زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں کہ` وہ اس فوج میں شامل تھے جو علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی، اور جو خوارج کی طرف گئی تھی، علی نے کہا: اے لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میری امت میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے، تمہارا پڑھنا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4616
´خالد الخداء کہتے ہیں کہ` میں نے حسن بصری سے کہا «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» تو انہوں نے کہا: «إلا من هو صال الجحيم» کا مطلب ہے: سوائے اس کے جس کے لیے اللہ نے واجب کر دیا ہے کہ وہ جہنم میں جائے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4762
´عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری امت میں کئی بار شر و فساد ہوں گے، تو متحد مسلمانوں کے شرازہ کو منتشر کرنے والے کی گردن تلوار سے اڑا دو خواہ وہ کوئی بھی ہو“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4728
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ` میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آیت کریمہ «إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها *** إلى قوله تعالى *** سميعا بصيرا» ”اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو۔۔۔ اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4690
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس کے اوپر لٹکا رہتا ہے، پھر جب زنا سے الگ ہوتا ہے تو دوبارہ ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4619
حسن بصری آیت کریمہ: «كذلك نسلكه في قلوب المجرمين» ”اسی طرح سے ہم اسے مجرموں کے دل میں ڈالتے ہیں“ (سورۃ الحجر: ۱۱۲) کے سلسلہ میں کہتے ہیں: اس سے مراد شرک ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4712
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مومنوں کے بچوں کا کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے ماں باپ کے حکم میں ہوں گے“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بغیر کسی عمل کے؟ آپ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4666
´قیس بن عباد کہتے ہیں کہ` میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں آپ (معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کے لیے) اپنی اس روانگی کے متعلق بتائیے کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم ہے جو انہوں نے آپ کو دیا ہے یا آپ کا اپنا خیال ہے جسے آپ درست سمجھتے ہیں، وہ بولے: ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4687
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان کسی مسلمان کو کافر قرار دے تو اگر وہ کافر ہے (تو کوئی بات نہیں) ورنہ وہ (قائل) خود کافر ہو جائے گا“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4648
´عبداللہ بن ظالم مازنی کہتے ہیں کہ` میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: جب فلاں شخص کوفہ میں آیا تو فلاں شخص خطبہ کے لیے کھڑا ہوا ۱؎، سعید بن زید نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ۲؎ کیا تم اس ظالم ۳؎ کو نہیں دیکھتے ۴؎ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4602
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا ایک اونٹ بیمار ہو گیا اور ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ایک فاضل سواری تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے فرمایا: ”تم اسے ایک اونٹ دے دو“ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4741
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جنت والے اس میں کھائیں گے پیئیں گے ۱؎“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4615
حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے قول «ولذلك خلقهم» ”اور اسی کے لیے انہیں پیدا کیا“ (سورۃ ھود: ۱۱۹) کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا: انہیں پیدا کیا اس (جنت) کے لیے اور انہیں پیدا کیا اس (جہنم) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4715
´ابن وہب کہتے ہیں کہ` میں نے مالک کو کہتے سنا، ان سے پوچھا گیا: اہل بدعت (قدریہ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں؟ مالک نے کہا: تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلاف استدلال کرو، اس لیے کہ اس میں ہے: صحابہ نے پوچھا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4711
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ زندہ رہتے تو کیا عمل کرتے“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4747
´مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہلکی اونگھ طاری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، تو یا تو آپ نے لوگوں سے کہا، یا لوگوں نے آپ سے کہا: اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے