Hadith no 4753 Of Sunan Abi Dawud Chapter Sunnaton Ka Bayan (Model Behavior Of The Prophet-kitab Al-sunnah)
Read Sunan Abi Dawud Hadith No 4753 - Hadith No 4753 is from Model Behavior Of The Prophet-kitab Al-sunnah , Sunnaton Ka Bayan Chapter in the Sunan Abi Dawud Hadees Book, which is written by Imam Abu Dawood. Hadith # 4753 of Imam Abu Dawood covers the topic of Model Behavior Of The Prophet-kitab Al-sunnah briefly in Sunan Abi Dawud. You can read Hadith No 4753 from Model Behavior Of The Prophet-kitab Al-sunnah in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ابی داود - حدیث نمبر 4753
| Hadith No | 4753 |
|---|---|
| Book Name | Sunan Abi Dawud |
| Book Writer | Imam Abu Dawood |
| Writer Death | 275 ھ |
| Chapter Name | Model Behavior Of The Prophet-kitab Al-sunnah |
| Roman Name | Sunnaton Ka Bayan |
| Arabic Name | السنة |
| Urdu Name | سنتوں کا بیان |
Urdu Translation
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ابھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو“ اسے دو بار یا تین بار فرمایا، یہاں جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: اور فرمایا: ”اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں، اسی وقت اس سے پوچھا جاتا ہے، اے جی! تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟“ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا رب (معبود) کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے، میرا رب (معبود) اللہ ہے، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر پوچھتے ہیں: یہ کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا“ جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے: ”اللہ تعالیٰ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا» سے یہی مراد ہے“ (پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے“۔ اور رہا کافر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا (لو) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں“ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”پھر اس پر ایک اندھا گونگا (فرشتہ) مقرر کر دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہو جائے، چنانچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہو جاتا ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے“۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَهَذَا لَفْظُ هَنَّادٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ ، وَلَمَّا يُلْحَدْ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ هَاهُنَا ، وَقَالَ : وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ ، حِينَ يُقَالُ لَهُ : يَا هَذَا ، مَنْ رَبُّكَ ؟ وَمَا دِينُكَ ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ ؟ قَالَ هَنَّادٌ : قَالَ : وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ ، فَيُجْلِسَانِهِ ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُكَ ؟ فَيَقُولُ : دِينِيَ الْإِسْلَامُ ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولَانِ : وَمَا يُدْرِيكَ ؟ فَيَقُولُ : قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ ، فَآمَنْتُ بِهِ ، وَصَدَّقْتُ ، زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، قَالَ : فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ قَدْ صَدَقَ عَبْدِي ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا ، قَالَ : وَيُفْتَحُ لَهُ فِيهَا مَدَّ بَصَرِهِ ، قَالَ : وَإِنَّ الْكَافِرَ ، فَذَكَرَ مَوْتَهُ ، قَالَ : وَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُكَ ؟ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي ، فَيَقُولَانِ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي ، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ ، قَالَ : فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا ، وَسَمُومِهَا ، قَالَ : وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ " زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، قَالَ : ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى ، أَبْكَمُ مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا ، قَالَ : فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ ، فَيَصِيرُ تُرَابًا ، قَالَ : ثُمَّ تُعَادُ فِيهِ الرُّوحُ ".
English Translation
Narrated Al-Bara ibn Azib: We went out with the Messenger of Allah ﷺ accompanying the bier of a man of the Ansar. When we reached his grave, it was not yet dug. So the Messenger of Allah ﷺ sat down and we also sat down around him as if birds were over our heads. He had in his hand a stick with which he was scratching the ground. He then raised his head and said: Seek refuge with Allah from the punishment in the grave. He said it twice or thrice. The version of Jabir adds here: He hears the beat of their sandals when they go back, and at that moment he is asked: O so and so! Who is your Lord, what is your religion, and who is your Prophet? Hannad's version says: Two angels will come to him, make him sit up and ask him: Who is your Lord? He will reply: My Lord is Allah. They will ask him: What is your religion? He will reply: My religion is Islam. They will ask him: What is your opinion about the man who was sent on a mission among you? He will reply: He is the Messenger of Allah ﷺ. They will ask: Who made you aware of this? He will reply: I read Allah's Book, believed in it, and considered it true; which is verified by Allah's words: "Allah's Book, believed in it, and considered it true, which is verified by Allah's words: "Allah establishes those who believe with the word that stands firm in this world and the next. " The agreed version reads: Then a crier will call from Heaven: My servant has spoken the truth, so spread a bed for him from Paradise, clothe him from Paradise, and open a door for him into Paradise. So some of its air and perfume will come to him, and a space will be made for him as far as the eye can see. He also mentioned the death of the infidel, saying: His spirit will be restored to his body, two angels will come to him, make him sit up and ask him: Who is your Lord? He will reply: Alas, alas! I do not know. They will ask him: What is your religion? He will reply: Alas, alas! I do not know. They will ask: Who was the man who was sent on a mission among you? He will reply: Alas, alas! I do not know. Then a crier will call from Heaven: He has lied, so spread a bed for him from Hell, clothe him from Hell, and open for him a door into Hell. Then some of its heat and pestilential wind will come to him, and his grave will be compressed, so that his ribs will be crushed together. Jabir's version adds: One who is blind and dumb will then be placed in charge of him, having a sledge-hammer such that if a mountain were struck with it, it would become dust. He will give him a blow with it which will be heard by everything between the east and the west except by men and jinn, and he will become dust. Then his spirit will be restored to him.
- Previous Hadith
- Hadith No. 4753 of 5274
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
سنتوں کا بیان سے مزید احادیث
حدیث نمبر 4752
´عبدالوہاب سے اسی جیسی سند سے اس طرح کی حدیث مروی ہے` اس میں ہے: ”جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے رشتہ دار واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اس سے کہتے ہیں پھر انہوں نے پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا، اور اس میں اس ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4665
´ضبیعہ بن حصین ثعلبی سے بھی` اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4618
´حمید کہتے ہیں کہ` حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوسعید! ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4713
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک بچہ نماز پڑھنے کے لیے لایا گیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! زندگی کے مزے تو اس بچے کے لیے ہیں، اس نے نہ کوئی گناہ کیا اور نہ ہی وہ اسے (گناہ کو) سمجھتا تھا، آپ مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4759
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہو گا ۱؎ جب میرے بعد حکمراں اس مال فے کو اپنے لیے مخصوص کر لیں گے“ میں نے عرض کیا: تب تو اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4701
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم اور موسیٰ نے بحث کی تو موسیٰ نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ ہی نے ہمیں محرومی سے دو چار کیا، اور ہمیں جنت سے نکلوایا، آدم نے کہا: تم موسیٰ ہو تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی گفتگو کے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4654
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (موسیٰ کی روایت میں «فلعل الله» کا لفظ ہے، اور ابن سنان کی روایت میں «اطلع الله» ہے) ”اللہ تعالیٰ بدر والوں کی طرف متوجہ ہوا اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4726
´جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگ مصیبت میں پڑ گئے، گھربار تباہ ہو گئے، مال گھٹ گئے، جانور ہلاک ہو گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں، اور اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4679
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقل اور دین میں ناقص ہوتے ہوئے عقل والے پر غلبہ پانے والا میں نے تم عورتوں سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا“ (ایک عورت) نے کہا: عقل اور دین میں کیا نقص ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4644
´اعمش کہتے ہیں کہ` میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: یہ گورے (عجمی) قیمہ بنائے جانے کے قابل ہیں قیمہ، موالی (غلامو) سنو، اللہ کی قسم، اگر میں لکڑی پر لکڑی ماروں تو انہیں اسی طرح برباد کر کے رکھ دوں جس طرح گزرا ہوا کل ختم ہو گیا، یعنی عجمیوں کو۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4627
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں جانتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4647
´سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خلافت علی منہاج النبوۃ (نبوت کی خلافت) تیس سال ہے، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت جسے چاہے گا یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا، دے گا“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4663
´محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ` حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گامکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4691
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قدریہ (منکرین تقدیر) اس امت (محمدیہ) کے مجوس ہیں، اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک مت ہو مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4771
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا مال لینے کا ناحق ارادہ کیا جائے اور وہ (اپنے مال کے بچانے کے لیے) لڑے اور مارا جائے تو وہ شہید ہے“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4756
´ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”نوح کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈراتا ہوں“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4725
´اس سند سے بھی سماک` سے اسی لمبی حدیث کا مفہوم مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4697
´یحییٰ بن یعمر سے یہی حدیث کچھ الفاظ کی کمی اور بیشی کے ساتھ مروی ہے` اس نے پوچھا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، بیت اللہ کا حج، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت لاحق ہونے پر غسل کرنا“۔ ابوداؤد ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4604
´مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو، مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی (یعنی سنت)، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4625
´ایوب کہتے ہیں کہ` مجھ سے حسن بصری نے کہا: میں اب دوبارہ کبھی اس میں سے کوئی بات نہیں کہوں گا، (جس سے تقدیر کی نفی کا گمان ہوتا)۔مکمل حدیث پڑھیئے