Hadith no 1342 Of Sunan Abi Dawud Chapter Abwab Qiyam Ul Lail Ke Masail (Prayer-Abwab Qiyam Ul Lail)

Read Sunan Abi Dawud Hadith No 1342 - Hadith No 1342 is from Prayer-Abwab Qiyam Ul Lail , Abwab Qiyam Ul Lail Ke Masail Chapter in the Sunan Abi Dawud Hadees Book, which is written by Imam Abu Dawood. Hadith # 1342 of Imam Abu Dawood covers the topic of Prayer-Abwab Qiyam Ul Lail briefly in Sunan Abi Dawud. You can read Hadith No 1342 from Prayer-Abwab Qiyam Ul Lail in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

سنن ابی داود - حدیث نمبر 1342

Hadith No 1342
Book Name Sunan Abi Dawud
Book Writer Imam Abu Dawood
Writer Death 275 ھ
Chapter Name Prayer-Abwab Qiyam Ul Lail
Roman Name Abwab Qiyam Ul Lail Ke Masail
Arabic Name أبواب قيام الليل
Urdu Name ابواب قیام الیل کے احکام و مسائل

Urdu Translation

´سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ` میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر میں مدینہ آیا تاکہ اپنی ایک زمین بیچ دوں اور اس سے ہتھیار خرید لوں اور جہاد کروں، تو میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ سے ہوئی، ان لوگوں نے کہا: ہم میں سے چھ افراد نے ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک ایسی ذات کی جانب تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والی ہے، تم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ۔ چنانچہ میں ان کے پاس چلا اور حکیم بن افلح سے بھی ساتھ چلنے کو کہا، انہوں نے انکار کیا تو میں نے ان کو قسم دلائی، چنانچہ وہ میرے ساتھ ہو لیے (پھر ہم دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے)، ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہوں نے پوچھا: کون ہو؟ کہا: حکیم بن افلح، انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: سعد بن ہشام، پوچھا: عامر کے بیٹے ہشام جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، وہ کہنے لگیں: عامر کیا ہی اچھے آدمی تھے، میں نے عرض کیا: ام المؤمنین مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا حال بیان کیجئے، انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا، میں نے عرض کیا: آپ کی رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں کچھ بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورۃ «يا أيها المزمل» نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا: جب اس سورۃ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کے پیروں میں ورم آ گیا اور سورۃ کی آخری آیات آسمان میں بارہ ماہ تک رکی رہیں پھر نازل ہوئیں تو رات کی نماز نفل ہو گئی جب کہ وہ پہلے فرض تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور آٹھویں رکعت کے بعد پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھتے، اس طرح آپ آٹھویں اور نویں رکعت ہی میں بیٹھتے اور آپ نویں رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے اس کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، اس طرح یہ کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، میرے بیٹے! پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رسیدہ ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعتوں سے وتر کرنے لگے، اب صرف چھٹی اور ساتویں رکعت کے بعد بیٹھتے اور ساتویں میں سلام پھیرتے پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اس طرح یہ کل نو رکعتیں ہوتیں، میرے بیٹے! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی رات کو (لگاتار) صبح تک قیام ۱؎ نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی ایک رات میں قرآن ختم کیا، اور نہ ہی رمضان کے علاوہ کبھی مہینہ بھر مکمل روزے رکھے، اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز پڑھتے تو اس پر مداومت فرماتے، اور جب رات کو آنکھوں میں نیند غالب آ جاتی تو دن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں ابن عباس کے پاس آیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حدیث یہی ہے، اگر میں ان سے بات کرتا تو میں ان کے پاس جا کر خود ان کے ہی منہ سے بالمشافہہ یہ حدیث سنتا، میں نے ان سے کہا: اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ آپ ان سے بات نہیں کرتے ہیں تو میں آپ سے یہ حدیث بیان ہی نہیں کرتا۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِأَبِيعَ عَقَارًا كَانَ لِي بِهَا فَأَشْتَرِيَ بِهِ السِّلَاحَ وَأَغْزُو ، فَلَقِيتُ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : قَدْ أَرَادَ نَفَرٌ مِنَّا سِتَّةٌ أَنْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَأَتَيْتُهَا ، فَاسْتَتْبَعْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ ، فَأَبَى ، فَنَاشَدْتُهُ ، فَانْطَلَقَ مَعِي ، فَاسْتَأْذَنَّا عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ ، قَالَتْ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَتْ : هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الَّذِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَتْ : نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : قُلْتُ : حَدِّثِينِي عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ ، قَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَتْ : فَإِنَّ أَوَّلَ هَذِهِ السُّورَةِ نَزَلَتْ فَقَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ ، وَحُبِسَ خَاتِمَتُهَا فِي السَّمَاءِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا ، ثُمَّ نَزَلَ آخِرُهَا فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ ، قَالَ : قُلْتُ : حَدِّثِينِي عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ يُوتِرُ بِثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَةً أُخْرَى لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ وَالتَّاسِعَةِ ، وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي التَّاسِعَةِ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ لَمْ يَجْلِسْ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ وَالسَّابِعَةِ ، وَلَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي السَّابِعَةِ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ هِيَ تِسْعُ رَكَعَاتٍ يَا بُنَيَّ ، وَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً يُتِمُّهَا إِلَى الصَّبَاحِ ، وَلَمْ يَقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ قَطُّ وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا يُتِمُّهُ غَيْرَ رَمَضَانَ ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا ، وَكَانَ إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ مِنَ اللَّيْلِ بِنَوْمٍ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً " قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : هَذَا وَاللَّهِ هُوَ الْحَدِيثُ ، وَلَوْ كُنْتُ أُكَلِّمُهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى أُشَافِهَهَا بِهِ مُشَافَهَةً ، قَالَ : قُلْتُ : لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تُكَلِّمُهَا مَا حَدَّثْتُكَ .

English Translation

Narrated Saad bin Hisham: I divorced my wife. I then came to Madina to sell my land that was there so that I could buy arms and fight in battle. I met a group of the Companions of the Prophet ﷺ. They said: Six persons of us intended to do so (i. e. divorce their wives and purchase weapons), but the Prophet ﷺ prohibited them. He said: For you in the Messenger of Allah there is an excellent model. I then came to Ibn Abbas and asked him about the witr observed by the Prophet ﷺ. He said: I point to you a person who is most familiar with the witr observed by the Messenger of Allah ﷺ. Go to Aishah. While going to her I asked Hakim bin Aflah to accompany me. He refused, but I adjured him. He, therefore, went along with me. We sought permission to enter upon Aishah. She said: Who is this ? He said: Hakim bin Aflah. She asked: Who is with you ? He replied: Saad bin Hisham. She said: Hisham son of Amir who was killed in the Battle of Uhud. I said: Yes. She said: What a good man Amir was! I said: Mother of faithful, tell me about the character of the Messenger of Allah ﷺ. She asked: Do you not recite the Quran ? The character of Messenger of Allah ﷺ was the Quran. I asked: Tell me about his vigil and prayer at night. She replied: Do you not recite: "O thou folded in garments" (73: 1). I said: Why not ? When the opening of this Surah was revealed, the Companions stood praying (most of the night) until their fett swelled, and the concluding verses were not revealed for twelve months from heaven. At last the concluding verses were revealed and the prayer at night became voluntary after it was obligatory. I said: Tell me about the witr of the Prophet ﷺ. She replied: He used to pray eight rak'ahs, sitting only during the eighth of them. Then he would stand up and pray another rak'ahs. He would sit only after the eighth and the ninth rak'ahs. He would utter salutation only after the ninth rak'ah. He would then pray two rak'ahs sitting and that made eleven rak'ahs, O my son. But when he grew old and became fleshy he observed a witr of seven, sitting only in sixth and seventh rak'ahs, and would utter salutation only after the seventh rak'ah. He would then pray two rak'ahs sitting, and that made nine rak'ahs, O my son. The Messenger of Allah ﷺ would not pray through a whole night, or recite the whole Quran in a night or fast a complete month except in Ramadan. When he offered prayer, he would do that regularly. When he was overtaken by sleep at night, he would pray twelve rak'ahs. The narrator said: I came to Ibn Abbas and narrated all this to him. By Allah, this is really a tradition. Has I been on speaking terms with her, I would have come to her and heard it from her mouth. I said: If I knew that you were not on speaking terms with her, I would have never narrated it to you.

Your Comments/Thoughts ?

ابواب قیام الیل کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 1346

´زرارہ بن اوفی سے روایت ہے کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد) کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جماعت کے ساتھ پڑھتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے اور چار ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1336

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہو کر فجر کی پو پھوٹنے تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر کی پڑھتے، اپنے سجدوں میں اتنا ٹھہرتے کہ تم میں سے کوئی اتنی دیر میں سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1337

´اس طریق سے بھی ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ` ایک رکعت وتر پڑھتے اور اتنی دیر تک سجدہ کرتے جتنی دیر میں تم میں سے کوئی پچاس آیتیں (رکوع سے) سر اٹھانے سے پہلے پڑھ لے، پھر جب مؤذن فجر کی اذان کہہ کر خاموش ہوتا اور فجر ظاہر ہو جاتی، آگے راوی نے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1338

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو میں تیرہ رکعتیں پڑھتے اور انہیں پانچ رکعتوں سے طاق بنا دیتے، ان پانچ رکعتوں میں سوائے قعدہ اخیرہ کے کوئی قعدہ نہیں ہوتا پھر سلام پھیر دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے ہشام سے اسی طرح روایت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1362

´عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: کبھی چار اور تین، کبھی چھ اور تین، کبھی آٹھ اور تین اور کبھی دس اور تین، کبھی بھی آپ وتر میں سات سے کم اور تیرہ سے زائد رکعتیں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1304

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` سورۃ مزمل کی آیت «قم الليل إلا قليلا، نصفه» ۱؎ رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات کو دوسری آیت «علم أن لن تحصوه فتاب عليكم فاقرءوا ما تيسر من القرآن» مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1306

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی لمبی رات پڑی ہے، سو جاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1367

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری، وہ آپ کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1322

´انس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے` اس قول «كانوا قليلا من الليل ما يهجعون» وہ رات کو بہت تھوڑا سویا کرتے تھے (سورۃ الذاریات: ۱۷) کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے۔ یحییٰ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1358

´سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ قصہ ان سے بیان کیا ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو دو کر کے آٹھ رکعتیں پڑھیں، پھر پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور ان کے بیچ میں بیٹھے نہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1327

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اتنی اونچی آواز سے ہوتی کہ آنگن میں رہنے والے کو سنائی دیتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ اپنے گھر میں (نماز پڑھ رہے) ہوتے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1364

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عباس سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ایک رات میں آپ کے پاس رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین میمونہ کے پاس تھے، ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1330

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہے` اس میں «فقال لأبي بكر: ارفع من صوتك شيئًا ولعمر اخفض شيئًا» کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے: اے بلال! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورۃ سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورۃ سے، بلال ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1323

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی رات کو اٹھے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھے ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1343

´اس طریق سے بھی قتادہ سے سابقہ سند سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے` اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے، سلام پھیرنے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1344

´اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث بیان کی ہے` اس میں ہے: آپ اپنا سلام ہمیں سناتے جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1339

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے پھر جب فجر کی اذان سنتے تو ہلکی سی دو رکعتیں اور پڑھتے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1347

´یزید بن ہارون کہتے ہیں: ہمیں بہز بن حکیم نے خبر دی ہے` پھر انہوں نے یہی حدیث اسی سند سے ذکر کی، اس میں ہے: آپ عشاء پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، انہوں نے چار رکعت کا ذکر نہیں کیا، آگے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور ان میں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1365

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رات گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں، ان میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں، میرا اندازہ ہے کہ آپ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1315

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب ہر رات جس وقت رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا پر اترتا ہے ۱؎، پھر فرماتا ہے: کون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون مجھ ..مکمل حدیث پڑھیئے