Hadith no 3180 Of Sunan At Tirmidhi Chapter Tafseer E Quran Kareem (Interpretation of Quran)

Read Sunan At Tirmidhi Hadith No 3180 - Hadith No 3180 is from Interpretation Of Quran , Tafseer E Quran Kareem Chapter in the Sunan At Tirmidhi Hadees Book, which is written by Imam Tirmidhi. Hadith # 3180 of Imam Tirmidhi covers the topic of Interpretation Of Quran briefly in Sunan At Tirmidhi. You can read Hadith No 3180 from Interpretation Of Quran in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

سنن ترمذی - حدیث نمبر 3180

Hadith No 3180
Book Name Sunan At Tirmidhi
Book Writer Imam Tirmidhi
Writer Death 256 ھ
Chapter Name Interpretation Of Quran
Roman Name Tafseer E Quran Kareem
Arabic Name تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Urdu Name تفسیر قرآن کریم

Urdu Translation

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` جب میرے بارے میں افواہیں پھیلائی جانے لگیں جو پھیلائی گئیں، میں ان سے بےخبر تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میرے تعلق سے ایک خطبہ دیا، آپ نے شہادتین پڑھیں، اللہ کے شایان شان تعریف و ثنا کی، اور حمد و صلاۃ کے بعد فرمایا: ”لوگو! ہمیں ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری گھر والی پر تہمت لگائی ہے، قسم اللہ کی! میں نے اپنی بیوی میں کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی، انہوں نے میری بیوی کو اس شخص کے ساتھ متہم کیا ہے جس کے بارے میں اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی برائی نہیں جانی، وہ میرے گھر میں کبھی بھی میری غیر موجودگی میں داخل نہیں ہوا، وہ جب بھی میرے گھر میں آیا ہے میں موجود رہا ہوں، اور جب بھی میں گھر سے غائب ہوا، سفر میں رہا وہ بھی میرے ساتھ گھر سے دور سفر میں رہا ہے“، (یہ سن کر) سعد بن معاذ رضی الله عنہ نے کھڑے ہو کر، عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں ان کی گردنیں اڑا دوں، (یہ سن کر) خزرج قبیلے کا ایک اور شخص جس کے قبیلے سے حسان بن ثابت کی ماں تھیں کھڑا ہوا اس نے (سعد بن معاذ سے مخاطب ہو کر) کہا: آپ جھوٹ اور غلط بات کہہ رہے ہیں، سنئیے، اللہ کی قسم! اگر یہ (تہمت لگانے والے آپ کے قبیلے) اوس کے ہوتے تو یہ پسند نہ کرتے کہ آپ ان کی گردنیں اڑا دیں، یہ بحث و تکرار اتنی بڑھی کہ اوس و خزرج کے درمیان مسجد ہی میں فساد عظیم برپا ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا، (عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں) مجھے اس کی بھی خبر نہ ہوئی، جب اس دن کی شام ہوئی تو میں اپنی (قضائے حاجت کی) ضرورت سے گھر سے باہر نکلی، میرے ساتھ مسطح کی ماں بھی تھیں، وہ (راستہ میں) ٹھوکر کھائی تو کہہ اٹھیں: مسطح تباہ برباد ہو! میں نے ان سے کہا: آپ کیسی ماں ہیں بیٹے کو گالی دیتی ہیں؟ تو وہ چپ رہیں، پھر دوبارہ ٹھوکر کھائی تو پھر وہی لفظ دہرایا، مسطح ہلاک ہو، میں نے پھر (ٹوکا) میں نے کہا: آپ کیسی ماں ہیں؟ اپنے بیٹے کو گالی (بد دعا) دیتی ہیں؟ وہ پھر خاموش رہیں، پھر جب تیسری بار ٹھوکر کھائی تو پھر یہی لفظ دہرایا تو میں نے ڈانٹا (اور جھڑک دیا) کیسی (خراب) ماں ہیں آپ؟ اپنے ہی بیٹے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں، وہ بولیں: (بیٹی) قسم اللہ کی میں اسے صرف تیرے معاملے میں برا بھلا کہہ رہی ہوں، میں نے پوچھا: میرے کس معاملے میں؟ تب انہوں نے مجھے ساری باتیں کھول کھول کر بتائیں، میں نے ان سے پوچھا: کیا ایسا ہوا؟ (یہ ساری باتیں پھیل گئیں؟) انہوں نے کہا: ہاں، قسم اللہ کی! یہ سن کر میں گھر لوٹ آئی، تو ان میں جس کام کے لیے نکلی تھی، نکلی ہی نہیں، مجھے اس قضائے حاجت کی تھوڑی یا زیادہ کچھ بھی ضرورت محسوس نہ ہوئی، (بلکہ) مجھے تیز بخار چڑھ آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: مجھے میرے ابا کے گھر بھیج دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایک لڑکا کر دیا، (اور میں اپنے ابا کے گھر آ گئی) میں گھر میں داخل ہوئی تو (اپنی ماں) ام رومان کو نیچے پایا اور (اپنے ابا) ابوبکر کو گھر کے اوپر پڑھتے ہوئے پایا، میری ماں نے کہا: بیٹی! کیسے آئیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے انہیں بتا دیا اور انہیں ساری باتیں (اور سارا قصہ) سنا دیا، مگر انہیں یہ باتیں سن کر وہ اذیت نہ پہنچی جو مجھے پہنچی، انہوں نے کہا: بیٹی! اپنے آپ کو سنبھالو، کیونکہ اللہ کی قسم! بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی مرد کی کوئی حسین و جمیل عورت ہو جس سے وہ مرد (بے انتہا) محبت کرتا ہو، اس سے اس کی سوکنیں حسد نہ کرتی (اور جلن نہ رکھتی) ہوں اور اس کے بارے میں لگائی بجھائی نہ کرتی ہوں، غرضیکہ انہیں اتنا صدمہ نہ پہنچا جتنا مجھے پہنچا، میں نے پوچھا: کیا میرے ابو جان کو بھی یہ بات معلوم ہو چکی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے (پھر) پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان باتوں سے واقف ہو چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، (یہ سن کر) میں غم سے نڈھال ہو گئی اور رو پڑی، ابوبکر رضی الله عنہ چھت پر قرآن پڑھ رہے تھے، میرے رونے کی آواز سن کر نیچے اتر آئے، میری ماں سے پوچھا، اسے کیا ہوا؟ (یہ کیوں رو رہی ہے؟) انہوں نے کہا: اس کے متعلق جو باتیں کہی گئیں (اور افواہیں پھیلائی گئی ہیں) وہ اسے بھی معلوم ہو گئی ہیں، (یہ سن کر) ان کی بھی آنکھیں بہہ پڑیں، (مگر) انہوں نے کہا: اے میری (لاڈلی) بیٹی! میں تمہیں قسم دلا کر کہتا ہوں تو اپنے گھر لوٹ جا، میں اپنے گھر واپس ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میری لونڈی (بریرہ) سے میرے متعلق پوچھ تاچھ کی، اس نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! میں ان میں کوئی عیب نہیں جانتی، ہاں، بس یہ بات ہے کہ (کام کرتے کرتے تھک کر) سو جاتی ہیں اور بکری آ کر گندھا ہوا آٹا کھا جاتی ہے، بعض صحابہ نے اسے ڈانٹا، (باتیں نہ بنا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ بتا (اس سے اس پوچھ تاچھ میں) وہ (اپنے مقام و مرتبہ سے) نیچے اتر آئے، اس نے کہا: سبحان اللہ! پاک و برتر ہے اللہ کی ذات، قسم اللہ کی! میں انہیں بس ایسی ہی جانتی ہوں جیسے سنار سرخ سونے کے ڈلے کو جانتا پہچانتا ہے، پھر اس معاملے کی خبر اس شخص کو بھی ہو گئی جس پر تہمت لگائی گئی تھی۔ اس نے کہا: سبحان اللہ! قسم اللہ کی، میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کا سینہ اور پہلو نہیں کھولا ہے ۱؎، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو کر مرے، میرے ماں باپ صبح ہی میرے پاس آ گئے اور ہمارے ہی پاس رہے۔ عصر پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لے آئے، اور ہمارے پاس پہنچے، میرے ماں باپ ہمارے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادتین پڑھی، اللہ کی شایان شان حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”حمد و صلاۃ کے بعد: ”عائشہ! اگر تو برائی کی مرتکب ہو گئی یا اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھی ہے تو اللہ سے توبہ کر، اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے“، اسی دوران انصار کی ایک عورت آ کر دروازے میں بیٹھ گئی تھی، میں نے عرض کیا: اس عورت کے سامنے (اس طرح کی) کوئی بات کرتے ہوئے کیا آپ کو شرم محسوس نہیں ہوئی؟ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمائی، میں اپنے باپ کی طرف متوجہ ہوئی، ان سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دیں، انہوں نے کہا: میں کیا جواب دوں؟ میں اپنی ماں کی طرف پلٹی، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کہی ہے اس بارے میں (میری طرف سے) صفائی دیجئیے، انہوں نے کہا: کیا کہوں میں؟ جب میرے ماں باپ نے کچھ جواب نہ دیا، تو میں نے کلمہ شہادت ادا کیا، اللہ کے شایان شان اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر میں نے کہا: سنئیے، قسم اللہ کی! اگر میں آپ لوگوں سے کہتی ہوں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور اللہ گواہ ہے کہ میں سچی (بےگناہ) ہوں تب بھی مجھے آپ کے سامنے اس سے فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ ہی یہ بات کہنے والے ہیں اور آپ کے دلوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے اور اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں نے ایسا کیا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں نے نہیں کیا، تو آپ ضرور کہیں گے کہ اس نے تو اعتراف جرم کر لیا ہے، اور میں قسم اللہ کی! اپنے اور آپ کے لیے اس سے زیادہ مناسب حال کوئی مثال نہیں پاتی (میں نے مثال دینے کے لیے) یعقوب علیہ السلام کا نام ڈھونڈا اور یاد کیا، مگر میں اس پر قادر نہ ہو سکی، (مجھے ان کا نام یاد نہ آ سکا تو میں نے ابویوسف کہہ دیا) مگر یوسف علیہ السلام کے باپ کی مثال جب کہ انہوں نے «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون» کہا ۲؎۔ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی تو ہم سب خاموش ہو گئے، پھر آپ پر سے وحی کے آثار ختم ہوئے تو میں نے آپ کے چہرے سے خوشی پھوٹتی ہوئی دیکھی، آپ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے فرمانے لگے: ”اے عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے تمہاری براۃ میں آیت نازل فرما دی ہے“، مجھے اس وقت سخت غصہ آیا جب میرے ماں باپ نے مجھ سے کہا: کھڑی ہو کر آپ کا شکریہ ادا کر، میں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! میں آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑی نہ ہوں گی، نہ میں ان کی تعریف کروں گی اور نہ آپ دونوں کی، نہ میں ان کی احسان مند ہوں گی اور نہ آپ دونوں کا بلکہ میں اس اللہ کا احسان مند اور شکر گزار ہوں گی جس نے میری براۃ میں آیت نازل فرمائی، آپ لوگوں نے تو میری غیبت و تہمت سنی، لیکن اس پر تردید و انکار نہ کیا، اور نہ اسے روک دینے اور بدل دینے کی کوشش کی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: رہی زینب بن حجش تو اللہ نے انہیں ان کی نیکی و دینداری کی وجہ سے بچا لیا، انہوں نے اس قضیہ میں جب بھی کہا، اچھی و بھلی بات ہی کہی، البتہ ان کی بہن حمنہ (شریک بہتان ہو کر) ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئی، اور جو لوگ اس بہتان بازی اور پروپیگنڈے میں لگے ہوئے تھے وہ مسطح، حسان بن ثابت اور منافق عبداللہ بن ابی بن سلول تھے، اور یہی منافق (فتنہ پردازوں کا سردار و سرغنہ) ہی اس معاملہ میں اپنی سیاست چلاتا اور اپنے ہم خیال لوگوں کو یکجا رکھتا تھا، یہی وہ شخص تھا اور اس کے ساتھ حمنہ بھی تھی، جو اس فتنہ انگیزی میں پیش پیش تھی، ابوبکر رضی الله عنہ نے قسم کھا لی کہ اب وہ (اس احسان فراموش و بدگو) مسطح کو کبھی کوئی فائدہ نہ پہنچائیں گے، اس پر آیت «ولا يأتل أولوا الفضل منكم والسعة» ۳؎ نازل ہوئی، اس سے یہاں مراد ابوبکر ہیں، «أن يؤتوا أولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله» ۴؎ اس سے اشارہ مسطح کی طرف ہے۔ «ألا تحبون أن يغفر الله لكم والله غفور رحيم» ۵؎ (یہ آیت سن کر) ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: کیوں نہیں، قسم اللہ کی! ہمارے رب! ہم پسند کرتے ہیں کہ تو ہمیں بخش دے، پھر مسطح کو دینے لگے جو پہلے دیتے تھے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس حدیث کو یونس بن یزید، معمر اور کئی دوسرے لوگوں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص لیثی اور عبیداللہ بن عبداللہ سے اور ان سبھوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث ہشام بن عروہ کی حدیث سے لمبی بھی ہے اور مکمل بھی ہے۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيَّ خَطِيبًا ، فَتَشَهَّدَ وَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سُوءٍ قَطُّ ، وَأَبَنُوا بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَطُّ ، وَلَا دَخَلَ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ ، وَلَا غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِي " ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ ، وَقَامَ رَجُلٌ مِنَ بَنِي الْخَزْرَجِ وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ مِنْ رَهْطِ ذَلِكَ الرَّجُلِ ، فَقَالَ : كَذَبْتَ أَمَا وَاللَّهِ أَنْ لَوْ كَانُوا مِنَ الْأَوْسِ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ تُضْرَبَ أَعْنَاقُهُمْ ، حَتَّى كَادَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ شَرٌّ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ ، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي وَمَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ ، فَعَثَرَتْ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَيْ أُمُّ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ، فَسَكَتَتْ ، ثُمَّ عَثَرَتِ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَانْتَهَرْتُهَا ، فَقُلْتُ لَهَا : أَيْ أُمُّ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ؟ فَسَكَتَتْ ، ثُمَّ عَثَرَتِ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَانْتَهَرْتُهَا ، فَقُلْتُ لَهَا : أَيْ أُمُّ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ؟ فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا أَسُبُّهُ إِلَّا فِيكِ ، فَقُلْتُ : فِي أَيِّ شَيْءٍ ، قَالَتْ : فَبَقَرَتْ لِي الْحَدِيثَ ، قُلْتُ : وَقَدْ كَانَ هَذَا ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي وَكَأَنَّ الَّذِي خَرَجْتُ لَهُ لَمْ أَخْرُجْ لَا أَجِدُ مِنْهُ قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا ، وَوُعِكْتُ ، فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْسِلْنِي إِلَى بَيْتِ أَبِي فَأَرْسَلَ مَعِي الْغُلَامَ ، فَدَخَلْتُ الدَّارَ فَوَجَدْتُ أُمَّ رُومَانَ فِي السُّفْلِ وَأَبُو بَكْرٍ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ ، فَقَالَتْ أُمِّي : مَا جَاءَ بِكِ يَا بُنَيَّةُ ؟ قَالَتْ : فَأَخْبَرْتُهَا وَذَكَرْتُ لَهَا الْحَدِيثَ ، فَإِذَا هُوَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مَا بَلَغَ مِنِّي ، قَالَتْ : يَا بُنَيَّةُ خَفِّفِي عَلَيْكِ الشَّأْنَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا حَسَدْنَهَا وَقِيلَ فِيهَا فَإِذَا هِيَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مَا بَلَغَ مِنِّي ، قَالَتْ : قُلْتُ : وَقَدْ عَلِمَ بِهِ أَبِي ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، وَاسْتَعْبَرْتُ وَبَكَيْتُ فَسَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتِي وَهُوَ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ فَنَزَلَ ، فَقَالَ لِأُمِّي : مَا شَأْنُهَا ؟ قَالَتْ : بَلَغَهَا الَّذِي ذُكِرَ مِنْ شَأْنِهَا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : أَقَسَمْتُ عَلَيْكِ يَا بُنَيَّةُ إِلَّا رَجَعْتِ إِلَى بَيْتِكِ فَرَجَعْتُ ، وَلَقَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي ، فَسَأَلَ عَنِّي خَادِمَتِي ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقُدُ حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْكُلَ خَمِيرَتَهَا أَوْ عَجِينَتَهَا ، وَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَصْدِقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ ، فَقَالَتْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ ، فَبَلَغَ الْأَمْرُ ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ كَنَفَ أُنْثَى قَطُّ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَتْ : وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي فَلَمْ يَزَالَا حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ وَقَدِ اكْتَنَفَنِي أَبَوَايَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي ، فَتَشَهَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ إِنْ كُنْتِ قَارَفْتِ سُوءًا أَوْ ظَلَمْتِ فَتُوبِي إِلَى اللَّهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ " ، قَالَتْ : وَقَدْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهِيَ جَالِسَةٌ بِالْبَابِ ، فَقُلْتُ : أَلَا تَسْتَحْيِي مِنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ أَنْ تَذْكُرَ شَيْئًا ، فَوَعَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَفَتُّ إِلَى أَبِي ، فَقُلْتُ : أَجِبْهُ ، قَالَ : فَمَاذَا أَقُولُ ؟ فَالْتَفَتُّ إِلَى أُمِّي فَقُلْتُ : أَجِيبِيهِ ، قَالَتْ : أَقُولُ مَاذَا ؟ قَالَتْ : فَلَمَّا لَمْ يُجِيبَا تَشَهَّدْتُ فَحَمِدْتُ اللَّهَ وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قُلْتُ : أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي لَمْ أَفْعَلْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنِّي لَصَادِقَةٌ مَا ذَاكَ بِنَافِعِي عِنْدَكُمْ لِي لَقَدْ تَكَلَّمْتُمْ وَأُشْرِبَتْ قُلُوبُكُمْ ، وَلَئِنْ قُلْتُ : إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْ لَتَقُولُنَّ إِنَّهَا قَدْ بَاءَتْ بِهِ عَلَى نَفْسِهَا وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا ، قَالَتْ : وَالْتَمَسْتُ اسْمَ يَعْقُوبَ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ إِلَّا أَبَا يُوسُفَ حِينَ قَالَ : فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ سورة يوسف آية 18 قَالَتْ : وَأُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَاعَتِهِ ، فَسَكَتْنَا فَرُفِعَ عَنْهُ وَإِنِّي لَأَتَبَيَّنُ السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَيَقُولُ : " الْبُشْرَى يَا عَائِشَةُ ، فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ " ، قَالَتْ : فَكُنْتُ أَشَدَّ مَا كُنْتُ غَضَبًا ، فَقَالَ لِي أَبَوَايَ : قُومِي إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُهُ وَلَا أَحْمَدُكُمَا وَلَكِنْ أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي ، لَقَدْ سَمِعْتُمُوهُ فَمَا أَنْكَرْتُمُوهُ وَلَا غَيَّرْتُمُوهُ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ ، تَقُولُ : أَمَّا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِدِينِهَا فَلَمْ تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا ، وَأَمَّا أُخْتُهَا حَمْنَةُ فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ ، وَكَانَ الَّذِي يَتَكَلَّمُ فِيهِ مِسْطَحٌ ، وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَالْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَسُوسُهُ وَيَجْمَعُهُ ، وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ هُوَ وَحَمْنَةُ ، قَالَتْ : فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَنْفَعَ مِسْطَحًا بِنَافِعَةٍ أَبَدًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ : وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ سورة النور آية 22 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، يَعْنِي : أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَعْنِي : مِسْطَحًا ، إِلَى قَوْلِهِ أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22 ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلَى ، وَاللَّهِ يَا رَبَّنَا إِنَّا لَنُحِبُّ أَنْ تَغْفِرَ لَنَا ، وَعَادَ لَهُ بِمَا كَانَ يَصْنَعُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، وَمَعْمَرٌ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ ، وعبيد الله بن عبد الله ، عَنْ عَائِشَةَ هَذَا الْحَدِيثَ أَطْوَلَ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَأَتَمَّ .

Your Comments/Thoughts ?

تفسیر قرآن کریم سے مزید احادیث

حدیث نمبر 3157

‏‏‏‏ قتادہ آیت «ورفعناه مكانا عليا» ۱؎ کے تعلق سے کہتے ہیں کہ ہم سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں نے ادریس علیہ السلام کو چوتھے آسمان پر دیکھامکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3114

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے ایک (غیر محرم) عورت کا ناجائز بوسہ لے لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا کہ اس کا کفارہ کیا ہے؟ اس پر آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات» ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2988

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی پر شیطان کا اثر (وسوسہ) ہوتا ہے اور فرشتے کا بھی اثر (الہام) ہوتا ہے۔ شیطان کا اثر یہ ہے کہ انسان سے برائی کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کو جھٹلاتا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3059

´تمیم داری رضی الله عنہ سے روایت ہے،` وہ اس آیت «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» ۱؎ کے سلسلے میں کہتے ہیں: میرے اور عدی بن بداء کے سواء سبھی لوگ اس آیت کی زد میں آنے سے محفوظ ہیں، ہم دونوں نصرانی تھے، اسلام سے پہلے شام آتے جاتے تھے تو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3184

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` جب یہ آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے نبی! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ“ (الشعراء: ۲۱۴)، نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3337

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس سے حساب کی جانچ پڑتال کر لی گئی وہ ہلاک (برباد) ہو گیا“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تو فرماتا ہے «فأما ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3213

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب یہ آیت «فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها» ”زید نے جب ان سے اپنی حاجت پوری کر لی (انہیں طلاق دے دی) تو ہم نے تمہاری شادی اس سے کر دی“ (الاحزاب: ۳۷)، زینب بنت جحش رضی الله عنہا کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3070

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جسے اس بات سے خوشی ہو کہ وہ صحیفہ دیکھے جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ہے تو اسے یہ آیات «قل تعالوا أتل ما حرم ربكم عليكم» سے «لعلكم تتقون» ۱؎ تک پڑھنی چاہیئے۔

..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3129

´ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب احد کی جنگ ہوئی تو انصار کے چونسٹھ (۶۴) اور مہاجرین کے چھ کام آئے۔ ان میں حمزہ رضی الله عنہ بھی تھے۔ کفار نے ان کا مثلہ کر دیا تھا، انصار نے کہا: اگر کسی دن ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوا تو ہم ان کے مقتولین کا مثلہ اس سے کہیں زیادہ کر دیں گے۔ پھر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3247

´نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين» (غافر: 60) ۱؎۔

مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3074

´اس سند سے معاذ` حماد بن سلمہ سے، حماد بن سلمہ نے ثابت سے اور ثابت نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔

امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3224

‏‏‏‏ یہ حدیث زہری سے بطریق: «علي بن الحسين عن ابن عباس عن رجال من الأنصار» مروی ہے کہتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آگے انہوں نے اسی کی ہم معنی حدیث بیان کی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3268

´اس سند سے داود نے شعبی سے` اور شعبی نے ابوجبیرہ بن ضحاک سے اسی طرح روایت کی ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3177

´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` مرثد بن مرثد نامی صحابی وہ ایسے (جی دار و بہادر) شخص تھے جو (مسلمان) قیدیوں کو مکہ سے نکال کر مدینہ لے آیا کرتے تھے، اور مکہ میں عناق نامی ایک زانیہ، بدکار عورت تھی، وہ عورت اس صحابی کی (ان کے اسلام ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3323

´اور اسی سند سے مروی ہے کہ` ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ بھی جنوں کا ہی قول ہے، انہوں نے اپنی قوم سے کہا: «لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا» ”اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ بھڑ بن کر اس پر پل پڑیں“ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3314

´حکم بن عیینہ کہتے ہیں کہ` میں محمد بن کعب قرظی کو چالیس سال سے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کرتے سن رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والے لوگ ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال باہر کریں گے، وہ کہتے ہیں: میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3135

´اس سند سے` اعمش نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ اور ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3038

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب آیت «من يعمل سوءا يجز به» ”جو کوئی برائی کرے گا ضرور اس کا بدلہ پائے گا“ (النساء: ۱۲۳)، نازل ہوئی تو یہ بات مسلمانوں پر بڑی گراں گزری، اس کی شکایت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3170

´اس سند سے زہری کے واسطہ سے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2977

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` یہودیوں کے یہاں جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تھی تو وہ اسے اپنے ساتھ نہ کھلاتے تھے نہ پلاتے تھے۔ اور نہ ہی اسے اپنے ساتھ گھر میں رہنے دیتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت: ..مکمل حدیث پڑھیئے