Hadith no 3570 Of Sunan At Tirmidhi Chapter Masnoon Adiya O Azkaar (Supplications which were practiced by Prophet SAW)
Read Sunan At Tirmidhi Hadith No 3570 - Hadith No 3570 is from Supplications Which Were Practiced By Prophet SAW , Masnoon Adiya O Azkaar Chapter in the Sunan At Tirmidhi Hadees Book, which is written by Imam Tirmidhi. Hadith # 3570 of Imam Tirmidhi covers the topic of Supplications Which Were Practiced By Prophet SAW briefly in Sunan At Tirmidhi. You can read Hadith No 3570 from Supplications Which Were Practiced By Prophet SAW in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ترمذی - حدیث نمبر 3570
| Hadith No | 3570 |
|---|---|
| Book Name | Sunan At Tirmidhi |
| Book Writer | Imam Tirmidhi |
| Writer Death | 256 ھ |
| Chapter Name | Supplications Which Were Practiced By Prophet SAW |
| Roman Name | Masnoon Adiya O Azkaar |
| Arabic Name | الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم |
| Urdu Name | مسنون ادعیہ و اذکار |
Urdu Translation
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اسی دوران علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے پہر کا وقت ایسا وقت ہوتا ہے جس میں فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں، اور دعا اس وقت مقبول ہوتی ہے، میرے بھائی یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے بیٹوں سے کہا تھا: «سوف أستغفر لكم ربي» یعنی میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا، آنے والی جمعہ کی رات میں، اگر نہ اٹھ سکو تو درمیان پہر میں اٹھ جاؤ، اور اگر درمیانی حصے (پہر) میں نہ اٹھ سکو تو پہلے پہر ہی میں اٹھ جاؤ اور چار رکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ یٰسین پڑھو، دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور حم دخان اور تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور الم تنزیل السجدہ اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور تبارک (مفصل) پڑھو، پھر جب تشہد سے فارغ ہو جاؤ تو اللہ کی حمد بیان کرو اور اچھے ڈھنگ سے اللہ کی ثناء بیان کرو، اور مجھ پر صلاۃ (درود) بھیجو، اور اچھے ڈھنگ سے بھیجو اور سارے نبیوں صلاۃ پر (درود) بھیجو اور مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کے لیے مغفرت طلب کرو، اور ان مومن بھائیوں کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرو، جو تم سے پہلے اس دنیا سے جا چکے ہیں، پھر یہ سب کر چکنے کے بعد یہ دعا پڑھو: «اللهم ارحمني بترك المعاصي أبدا ما أبقيتني وارحمني أن أتكلف ما لا يعنيني وارزقني حسن النظر فيما يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام والعزة التي لا ترام أسألك يا ألله يا رحمن بجلالك ونور وجهك أن تلزم قلبي حفظ كتابك كما علمتني وارزقني أن أتلوه على النحو الذي يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام والعزة التي لا ترام أسألك يا ألله يا رحمن بجلالك ونور وجهك أن تنور بكتابك بصري وأن تطلق به لساني وأن تفرج به عن قلبي وأن تشرح به صدري وأن تغسل به بدني فإنه لا يعينني على الحق غيرك ولا يؤتيه إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» ”اے اللہ! مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ جب تک تو مجھے زندہ رکھ میں ہمیشہ گناہ چھوڑے رکھوں، اے اللہ! تو مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ میں لا یعنی چیزوں میں نہ پڑوں، جو چیزیں تیری رضا و خوشنودی کی ہیں انہیں پہچاننے کے لیے مجھے حسن نظر (اچھی نظر) دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، ذوالجلال (رعب و داب والے) اکرام (عزت و بزرگی والے) ایسی عزت و مرتبت والے کہ جس عزت کو حاصل کرنے و پانے کا کوئی قصد و ارادہ ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے بڑی رحمت والے میں تیرے جلال اور تیرے تابناک و منور چہرے کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو میرے دل کو اپنی کتاب (قرآن پاک) کے حفظ کے ساتھ جوڑ دے، جیسے تو نے مجھے قرآن سکھایا ہے ویسے ہی میں اسے یاد و محفوظ رکھ سکوں، اور تو مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں اس کتاب کو اسی طریقے اور اسی ڈھنگ سے پڑھوں جو تجھے مجھ سے راضی و خوش کر دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، (جاہ) و جلال اور بزرگی والے اور ایسی عزت والے جس عزت کا کوئی ارادہ (تمنا اور خواہش) ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے رحمن تیرے جلال اور تیرے چہرے کے نور کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو اپنی کتاب کے ذریعہ میری نگاہ کو منور کر دے (مجھے کتاب الٰہی کی معرفت حاصل ہو جائے، اور میری زبان بھی اسی کے مطابق چلے، اور اسی کے ذریعہ میرے دل کا غم دور کر دے، اور اس کے ذریعہ میرا سینہ کھول دے (میں ہر اچھی و بھلی بات کو سمجھنے لگوں) اور اس کے ذریعہ میرے بدن کو دھو دے (میں پاک و صاف رہنے لگوں) کیونکہ میرے حق پر چلنے کے لیے تیرے سوا کوئی اور میری مدد نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کوئی تیرے سوا مجھے حق دے سکتا ہے اور اللہ جو برتر اور عظیم ہے اس کے سوا برائیوں سے پلٹنے اور نیکیوں کو انجام دینے کی توفیق کسی اور سے نہیں مل سکتی“۔ اے ابوالحسن! ایسا ہی کرو، تین جمعہ، پانچ جمعہ یا سات جمعہ تک، اللہ کے حکم سے دعا قبول کر لی جائے گی، اور قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کو پڑھ کر کوئی مومن کبھی محروم نہ رہے گا، عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! علی رضی الله عنہ پانچ یا سات جمعہ ٹھہرے ہوں گے کہ وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ایسی ہی مجلس میں حاضر ہوئے اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے پہلے چار آیتیں یا ان جیسی دو ایک آیتیں کم و بیش یاد کر پاتا تھا، اور جب انہیں دل میں آپ ہی آپ دہراتا تھا تو وہ بھول جاتی تھیں، اور اب یہ حال ہے کہ میں چالیس آیتیں سیکھتا ہوں یا چالیس سے دو چار کم و بیش، پھر جب میں انہیں اپنے آپ دہراتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے تو ان کتاب اللہ میری آنکھوں کے سامنے کھلی ہوئی رکھی ہے (اور میں روانی سے پڑھتا چلا جاتا ہوں) اور ایسے ہی میں اس سے پہلے حدیث سنا کرتا تھا، پھر جب میں اسے دہراتا تو وہ دماغ سے نکل جاتی تھی، لیکن آج میرا حال یہ ہے کہ میں حدیثیں سنتا ہوں پھر جب میں انہیں بیان کرتا ہوں تو ان میں سے ایک حرف بھی کم نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد فرمایا: ”قسم ہے رب کعبہ کی! اے ابوالحسن تم مومن ہو“۔
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ولید بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي تَفَلَّتَ هَذَا الْقُرْآنُ مِنْ صَدْرِي فَمَا أَجِدُنِي أَقْدِرُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا الْحَسَنِ أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ وَيَنْفَعُ بِهِنَّ مَنْ عَلَّمْتَهُ وَيُثَبِّتُ مَا تَعَلَّمْتَ فِي صَدْرِكَ ؟ " , قَالَ : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعَلِّمْنِي ، قَالَ : " إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَقُومَ فِي ثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ , فَإِنَّهَا سَاعَةٌ مَشْهُودَةٌ وَالدُّعَاءُ فِيهَا مُسْتَجَابٌ ، وَقَدْ قَالَ أَخِي يَعْقُوبُ لِبَنِيهِ : سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي يَقُولُ : حَتَّى تَأْتِيَ لَيْلَةُ الْجُمْعَةِ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ , فَقُمْ فِي وَسَطِهَا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ , فَقُمْ فِي أَوَّلِهَا فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، تَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وَسُورَةِ يس ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وحم الدُّخَانِ ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ ، وَفِي الرَّكْعَةِ الرَّابِعَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وَ تَبَارَكَ الْمُفَصَّلَ ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ التَّشَهُّدِ , فَاحْمَدِ اللَّهَ , وَأَحْسِنِ الثَّنَاءَ عَلَى اللَّهِ , وَصَلِّ عَلَيَّ , وَأَحْسِنْ , وَعَلَى سَائِرِ النَّبِيِّينَ ، وَاسْتَغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ , وَالْمُؤْمِنَاتِ , وَلِإِخْوَانِكَ الَّذِينَ سَبَقُوكَ بِالْإِيمَانِ ، ثُمَّ قُلْ فِي آخِرِ ذَلِكَ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي بِتَرْكِ الْمَعَاصِي أَبَدًا مَا أَبْقَيْتَنِي ، وَارْحَمْنِي أَنْ أَتَكَلَّفَ مَا لَا يَعْنِينِي ، وَارْزُقْنِي حُسْنَ النَّظَرِ فِيمَا يُرْضِيكَ عَنِّي ، اللَّهُمَّ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ ، أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ يَا رَحْمَنُ بِجَلَالِكَ , وَنُورِ وَجْهِكَ أَنْ تُلْزِمَ قَلْبِي حِفْظَ كِتَابِكَ كَمَا عَلَّمْتَنِي ، وَارْزُقْنِي أَنْ أَتْلُوَهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي يُرْضِيكَ عَنِّيَ ، اللَّهُمَّ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ ، أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ يَا رَحْمَنُ بِجَلَالِكَ وَنُورِ وَجْهِكَ أَنْ تُنَوِّرَ بِكِتَابِكَ بَصَرِي ، وَأَنْ تُطْلِقَ بِهِ لِسَانِي ، وَأَنْ تُفَرِّجَ بِهِ عَنْ قَلْبِي ، وَأَنْ تَشْرَحَ بِهِ صَدْرِي ، وَأَنْ تَغْسِلَ بِهِ بَدَنِي ، لَأنَّهُ لَا يُعِينُنِي عَلَى الْحَقِّ غَيْرُكَ ، وَلَا يُؤْتِيهِ إِلَّا أَنْتَ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ ، يَا أَبَا الْحَسَنِ تَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ ، أَوْ خَمْسَ ، أَوْ سَبْعَ تُجَابُ بِإِذْنِ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا أَخْطَأَ مُؤْمِنًا قَطُّ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : فَوَاللَّهِ مَا لَبِثَ عَلِيٌّ إِلَّا خَمْسًا أَوْ سَبْعًا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ الْمَجْلِسِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ فِيمَا خَلَا لَا آخُذُ إِلَّا أَرْبَعَ آيَاتٍ أَوْ نَحْوَهُنَّ ، وَإِذَا قَرَأْتُهُنَّ عَلَى نَفْسِي تَفَلَّتْنَ ، وَأَنَا أَتَعَلَّمُ الْيَوْمَ أَرْبَعِينَ آيَةً أَوْ نَحْوَهَا وَإِذَا قَرَأْتُهَا عَلَى نَفْسِي فَكَأَنَّمَا كِتَابُ اللَّهِ بَيْنَ عَيْنَيَّ ، وَلَقَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ الْحَدِيثَ فَإِذَا رَدَّدْتُهُ تَفَلَّتَ وَأَنَا الْيَوْمَ أَسْمَعُ الْأَحَادِيثَ فَإِذَا تَحَدَّثْتُ بِهَا لَمْ أَخْرِمْ مِنْهَا حَرْفًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " مُؤْمِنٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَا أَبَا الْحَسَنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ .
- Previous Hadith
- Hadith No. 3570 of 3954
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
مسنون ادعیہ و اذکار سے مزید احادیث
حدیث نمبر 3409
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` (آپ کی بیٹی) فاطمہ رضی الله عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کرنے آئیں تو آپ نے انہیں تسبیح (سبحان اللہ) تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید (الحمدللہ) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3378
´اس سند سے شعبہ نے` ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اغر (یعنی ابو مسلم) سے سنا، انہوں نے کہا: میں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کے متعلق گواہی دیتا ہوں، ان دونوں (بزرگوں) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی، اور پھر اوپر والی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3524
´اسی سند کے ساتھ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «يا ذا الجلال والإكرام» (اے بڑائی و بزرگی والے) کو لازم پکڑو“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3587
´عاصم بن کلیب بن شہاب کے دادا شہاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نماز پڑھا رہے تھے، آپ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا تھا، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا، انگلیاں بند کی تھیں (یعنی مٹھی باندھ رکھی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3510
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم (کچھ) چر، چگ لیا کرو ۱؎ لوگوں نے پوچھا «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ذکر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3511
´ابوسلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو اسے: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وأبدلني منها خيرا» ”ہم سب اللہ کے لیے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3570
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اسی دوران علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3500
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی: «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ”اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3405
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الزمر اور سورۃ بنی اسرائیل جب تک پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔
مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی ہے کہ ابولبابہ کا نام مروان ہے، اور یہ عبدالرحمٰن بن زیاد کے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3564
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے شکایت ہوئی (بیماری ہوئی)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں دعا کر رہا تھا: «اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فارفغني وإن كان بلاء فصبرني» ”اے میرے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3444
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں، تو آپ مجھے کوئی توشہ دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھے تقویٰ کا زاد سفر دے“، اس نے کہا: مزید اضافہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3445
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں تو آپ مجھے کچھ وصیت فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں کہیں بھی اونچائی و بلندی پر چڑھو اللہ کی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3379
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` معاویہ رضی الله عنہ مسجد گئے (وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے) پوچھا: تم لوگ کس لیے بیٹھے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: کیا! قسم اللہ کی! تم کو اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3456
´ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپ کہتے: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه غير مودع ولا مستغنى عنه ربنا» ”اللہ ہی کے لیے ہیں ساری تعریفیں، بہت زیادہ تعریفیں، پاکیزہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3430
´اس سند سے` شعبہ نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اغر ابو مسلم سے، اور ابو مسلم نے ابوہریرہ اور ابو سعید خدری سے اس حدیث کے مانند ہم معنی حدیث روایت کی، اور شعبہ نے اسے مرفوع نہیں کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3383
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہتر ذکر «لا إلہ إلا اللہ» ہے، اور بہترین دعا «الحمد للہ» ہے“ ۱؎۔
حدیث نمبر 3521
´ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ساری دعائیں کیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی دعا یاد نہ رہی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دعائیں تو آپ نے بہت سی کیں مگر میں کوئی دعا یاد نہ رکھ سکا، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3560
´یحییٰ بن ابی ایوب نے یہ حدیث عبیداللہ بن زحر سے،` عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے اور علی بن یزید نے قاسم کے واسطہ سے ابوامامہ سے روایت کی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3512
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل (سب سے اچھی) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو“، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3588
´ثابت بنانی اپنے شاگرد محمد بن سالم سے کہتے ہیں کہ` جب تمہیں درد ہو تو جہاں درد اور تکلیف ہو وہاں ہاتھ رکھو پھر پڑھو: «بسم الله أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد من وجعي هذا» ”اللہ کے نام سے اللہ کی عزت و قدرت کے سہارے میں اپنی اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کر ..مکمل حدیث پڑھیئے