Hadith no 4710 Of Sunan Nisai Chapter Qasama, Qasas Aur Diyat Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands Related to Blood Money)

Read Sunan Nisai Hadith No 4710 - Hadith No 4710 is from Problems And Commands Related To Blood Money , Qasama, Qasas Aur Diyat Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sunan Nisai Hadees Book, which is written by Imam Nasai. Hadith # 4710 of Imam Nasai covers the topic of Problems And Commands Related To Blood Money briefly in Sunan Nisai. You can read Hadith No 4710 from Problems And Commands Related To Blood Money in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

سنن نسائی - حدیث نمبر 4710

Hadith No 4710
Book Name Sunan Nisai
Book Writer Imam Nasai
Writer Death 303 ھ
Chapter Name Problems And Commands Related To Blood Money
Roman Name Qasama, Qasas Aur Diyat Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name القسامة والقود والديات
Urdu Name قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل

Urdu Translation

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جاہلیت کے زمانے کا پہلا قسامہ یہ تھا کہ بنی ہاشم کا ایک شخص تھا، قریش یعنی اس کی شاخ میں سے کسی قبیلے کے ایک شخص نے اسے نوکری پر رکھا، وہ اس کے ساتھ اس کے اونٹوں میں گیا، اس کے پاس سے بنی ہاشم کے ایک شخص کا گزر ہوا جس کے توش دان کی رسی ٹوٹ گئی تھی، وہ بولا: میری مدد کرو ایک رسی سے جس سے میں اپنے توش دان کا منہ باندھ سکوں تاکہ (اس میں سے سامان گرنے سے) اونٹ نہ بدکے، چنانچہ اس نے اسے توش دان کا منہ باندھنے کے لیے رسی دی، جب انہوں نے قیام کیا اور ایک اونٹ کے علاوہ سبھی اونٹ باندھ دیے گئے تو جس نے نوکر رکھا تھا، اس نے کہا: اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے، تمام اونٹوں میں اسے کیوں نہیں باندھا گیا؟ اس نے کہا: اس کے لیے کوئی رسی نہیں ہے، اس نے کہا: اس کی رسی کہاں گئی؟ وہ بولا: میرے پاس سے بنی ہاشم کا ایک شخص گزرا جس کے توش دان کا منہ باندھنے کی رسی ٹوٹ گئی تھی، اس نے مجھ سے مدد چاہی اور کہا: مجھے توش دان کا منہ باندھنے کے لیے ایک رسی دے دو تاکہ اونٹ نہ بدکے، میں نے اسے رسی دے دی، یہ سن کر اس نے ایک لاٹھی نوکر کو ماری، اسی میں اس کی موت تھی (یعنی یہی چیز بعد میں اس کے مرنے کا سبب بنی) اس کے پاس سے یمن والوں میں سے ایک شخص کا گزر ہوا، اس نے کہا: کیا تم حج کو جا رہے ہو؟ اس نے کہا: جا نہیں رہا ہوں لیکن شاید جاؤں، اس نے کہا: کیا تم (اس موقع سے) کسی بھی وقت میرا یہ پیغام پہنچا دو گے؟ اس نے کہا: ہاں، کہا: جب تم حج کو جاؤ تو پکار کر کہنا: اے قریش کے لوگو! جب وہ آ جائیں تو پکارنا! اے ہاشم کے لوگو! جب وہ آ جائیں تو ابوطالب کے بارے میں پوچھنا پھر انہیں بتانا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک رسی کے سلسلے میں مار ڈالا ہے اور (یہ کہہ کر) نوکر مر گیا، پھر جب وہ شخص آیا جس نے نوکری پر اسے رکھا تھا تو اس کے پاس ابوطالب گئے اور بولے: ہمارے آدمی کا کیا ہوا؟ وہ بولا: وہ بیمار ہو گیا، میں نے اس کی اچھی طرح خدمت کی پھر وہ مر گیا، میں راستے میں اترا اور اسے دفن کر دیا۔ ابوطالب بولے: تمہاری طرف سے وہ اس چیز کا حقدار تھا، وہ کچھ عرصے تک رکے رہے پھر وہ یمنی آیا جسے اس نے وصیت کی تھی کہ جب موسم حج آیا تو وہ اس کا پیغام پہنچا دے۔ اس نے کہا: اے قریش کے لوگو! لوگوں نے کہا: یہ قریش ہیں، اس نے کہا: اے بنی ہاشم کے لوگو! لوگوں نے کہا: یہ بنی ہاشم ہیں، اس نے کہا: ابوطالب کہاں ہیں؟ کسی نے کہا: ابوطالب یہ ہیں۔ وہ بولا: مجھ سے فلاں نے کہا ہے کہ میں آپ تک یہ پیغام پہنچا دوں کہ فلاں نے اسے ایک رسی کی وجہ سے مار ڈالا، چنانچہ ابوطالب اس کے پاس آئے اور بولے: تم تین میں سے کوئی ایک کام کرو، اگر تم چاہو تو سو اونٹ دے دو، اس لیے کہ تم نے ہمارے آدمی کو غلطی سے مار ڈالا ہے ۱؎ اور اگر چاہو تو تمہاری قوم کے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ تم نے اسے نہیں مارا، اگر تم ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہو تو ہم تمہیں اس کے بدلے قتل کریں گے، وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہم قسم کھائیں گے، پھر بنی ہاشم کی ایک عورت ابوطالب کے پاس آئی جو اس قبیلے کے ایک شخص کی زوجیت میں تھی، اس شخص سے اس کا ایک لڑکا تھا، وہ بولی: ابوطالب! میں چاہتی ہوں کہ آپ ان پچاس میں سے میرے اس بیٹے کو بخش دیں اور اس سے قسم نہ لیں، ابوطالب نے ایسا ہی کیا، پھر ان کے پاس ان میں کا ایک شخص آیا اور بولا: ابوطالب! آپ سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم لینا چاہتے ہو؟ ہر شخص کے حصے میں دو اونٹ پڑیں گے، تو لیجئیے دو اونٹ اور مجھ سے قسم مت لیجئیے جیسا کہ آپ اوروں سے قسم لیں گے، ابوطالب نے دونوں اونٹ قبول کر لیے، پھر اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسم کھائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! ابھی سال بھی نہ گزرا تھا کہ ان اڑتالیس میں سے ایک بھی آنکھ جھپکنے والی نہیں رہی (یعنی سب مر گئے) ۲؎۔

Hadith in Arabic

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَطَنٌ أَبُو الْهَيْثَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَوَّلُ قَسَامَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ اسْتَأْجَرَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ فَخِذِ أَحَدِهِمْ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ مَعَهُ فِي إِبِلِهِ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ ، فَقَالَ : أَغِثْنِي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي لَا تَنْفِرُ الْإِبِلُ ، فَأَعْطَاهُ عِقَالًا يَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِهِ ، فَلَمَّا نَزَلُوا وَعُقِلَتِ الْإِبِلُ إِلَّا بَعِيرًا وَاحِدًا ، فَقَالَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ : مَا شَأْنُ هَذَا الْبَعِيرِ لَمْ يُعْقَلْ مِنْ بَيْنِ الْإِبِلِ ، قَالَ : لَيْسَ لَهُ عِقَالٌ ، قَالَ : فَأَيْنَ عِقَالُهُ ؟ قَالَ : مَرَّ بِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ فَاسْتَغَاثَنِي ، فَقَالَ : أَغِثْنِي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي لَا تَنْفِرُ الْإِبِلُ فَأَعْطَيْتُهُ عِقَالًا فَحَذَفَهُ بِعَصًا كَانَ فِيهَا أَجَلُهُ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : أَتَشْهَدُ الْمَوْسِمَ ، قَالَ : مَا أَشْهَدُ وَرُبَّمَا شَهِدْتُ ، قَالَ : هَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي رِسَالَةً مَرَّةً مِنَ الدَّهْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : إِذَا شَهِدْتَ الْمَوْسِمَ فَنَادِ يَا آلَ قُرَيْشٍ ، فَإِذَا أَجَابُوكَ فَنَادِ يَا آلَ هَاشِمٍ ، فَإِذَا أَجَابُوكَ فَسَلْ عَنْ أَبِي طَالِبٍ ، فَأَخْبِرْهُ أَنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي فِي عِقَالٍ وَمَاتَ الْمُسْتَأْجَرُ ، فَلَمَّا قَدِمَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ أَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ صَاحِبُنَا ؟ قَالَ : مَرِضَ فَأَحْسَنْتُ الْقِيَامَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ مَاتَ فَنَزَلْتُ فَدَفَنْتُهُ ، فَقَالَ : كَانَ ذَا أَهْلَ ذَاكَ مِنْكَ فَمَكُثَ حِينًا ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ الْيَمَانِيَّ الَّذِي كَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ أَنْ يُبَلِّغَ عَنْهُ وَافَى الْمَوْسِمَ ، قَالَ : يَا آلَ قُرَيْشٍ ، قَالُوا : هَذِهِ قُرَيْشٌ ، قَالَ : يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ ، قَالُوا : هَذِهِ بَنُو هَاشِمٍ ، قَالَ : أَيْنَ أَبُو طَالِبٍ ؟ قَالَ : هَذَا أَبُو طَالِبٍ ، قَالَ : أَمَرَنِي فُلَانٌ أَنْ أُبَلِّغَكَ رِسَالَةً أَنَّ فُلَانًا قَتَلَهُ فِي عِقَالٍ فَأَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ ، فَقَالَ : اخْتَرْ مِنَّا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَدِّيَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، فَإِنَّكَ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا خَطَأً ، وَإِنْ شِئْتَ يَحْلِفْ خَمْسُونَ مِنْ قَوْمِكَ أَنَّكَ لَمْ تَقْتُلْهُ ، فَإِنْ أَبَيْتَ قَتَلْنَاكَ بِهِ ، فَأَتَى قَوْمَهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ ، فَقَالُوا : نَحْلِفُ , فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَدْ وَلَدَتْ لَهُ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا طَالِبٍ أُحِبُّ أَنْ تُجِيزَ ابْنِي هَذَا بِرَجُلٍ مِنَ الْخَمْسِينَ ، وَلَا تُصْبِرْ يَمِينَهُ فَفَعَلَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : يَا أَبَا طَالِبٍ أَرَدْتَ خَمْسِينَ رَجُلًا أَنْ يَحْلِفُوا مَكَانَ مِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ يُصِيبُ كُلَّ رَجُلٍ بَعِيرَانِ فَهَذَانِ بَعِيرَانِ فَاقْبَلْهُمَا عَنِّي ، وَلَا تُصْبِرْ يَمِينِي حَيْثُ تُصْبَرُ الْأَيْمَانُ فَقَبِلَهُمَا وَجَاءَ ثَمَانِيَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا حَلَفُوا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا حَالَ الْحَوْلُ وَمِنَ الثَّمَانِيَةِ وَالْأَرْبَعِينَ عَيْنٌ تَطْرِفُ " .

Your Comments/Thoughts ?

قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 4861

´محمد بن عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ` وہ تحریر جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے دیتوں کے سلسلے میں لکھی، یہ تھی: جان میں سو اونٹ ہیں، ناک میں جب وہ جڑ سے کاٹ لی گئی ہو، سو اونٹ ہیں، مغز (گودے) تک پہنچنے والے زخم میں جان کی دیت کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4816

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مکاتب کا قتل ہو گیا تو آپ نے حکم دیا کہ جتنا وہ بدل مکاتبت ادا کر چکا ہے اسی قدر اس کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہو گی، اور جس قدر آزاد نہیں ہوا ہے اسی کے مطابق اس کی دیت غلام کی دیت کے مثل ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4821

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی عورت کے جنین (پیٹ میں موجود بچہ) کے بارے میں جو مرا ہوا ساقط ہو گیا تھا ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ کیا، پھر وہ عورت جس پر ایک «غرہ» ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4870

´سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا پھر توبہ کی، ایمان لایا، عمل صالح کیا اور ہدایت پائی؟ تو انہوں نے کہا: اس کی توبہ کہاں قبول ہو گی؟ میں نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4840

´اسود بن ہلال (انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد پایا تھا) بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ` بنو ثعلبہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ تو ایک صحابی رسول نے کہا: ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4781

´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی ذات سے بدلا دلاتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4722

´بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ` عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف نکلے، پھر وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہو گئے اور عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا قتل ہو گیا، محیصہ رضی اللہ عنہ آئے تو وہ اور ان کے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4779

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ` ایک شخص نے ان کے جاہلیت کے کسی باپ دادا کو برا بھلا کہا تو عباس رضی اللہ عنہ نے اسے تھپڑ مار دیا، اس کے آدمیوں نے آ کر کہا: وہ لوگ بھی انہیں تھپڑ ماریں گے جیسا کہ انہوں نے مارا ہے اور ہتھیار اٹھا لیے۔ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4832

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` دو سوکن عورتیں تھیں، ان کے درمیان جھگڑا ہو گیا، ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا، تو اس کے پیٹ کا بچہ مرا ہوا گر پڑا جس کے سر کے بال اگ آئے تھے اور عورت بھی مر گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنبے والوں پر دیت ادا کرنے کا فیصلہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4732

´وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو گھسیٹتا ہوا آیا، پھر (آگے حدیث) اسی طرح ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4865

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی بلا اجازت تمہارے یہاں جھانکے پھر تم اسے پتھر پھینک کر مارو اور اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔ اور ایک بار آپ نے فرمایا: کوئی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4872

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4810

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذمیوں کی دیت مسلمانوں کی دیت کی آدھی ہے، اور ذمیوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4825

´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی (کھونٹی) سے مارا، جس سے وہ مر گئی، وہ حمل سے تھی، چنانچہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے مارنے والی عورت کے عصبہ پر دیت کا اور جنین (پیٹ کے بچہ) ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4853

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:` انگلیاں یعنی ان کی دیت دس دس اونٹ ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4862

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آیا تو دراز میں آنکھ لگا کر جھانکنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو لوہا یا لکڑی لے کر اس کی آنکھ پھوڑنے کا ارادہ کیا، جب اس ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4839

´بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت ہے کہ` بنی ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے فلاں کو قتل کیا تھا، آپ نے فرمایا: مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4831

´ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ` ایک عورت نے اپنی سوکن کو جو حمل سے تھی پتھر مارا، اور وہ مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیٹ کے بچے کی دیت ایک «غرہ» (یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی) ٹھہرائی اور اس کی دیت اس کے کنبے والوں کے ذمے ڈالی، وہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4858

´عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو ایک کتاب لکھی جس میں فرائض، سنن اور دیات کا ذکر تھا۔ اسے عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجا، چنانچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4765

´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں کہا جس نے دانت کاٹ کھایا، تو اس کا دانت اکھڑ گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے دیت نہیں ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے